الوداع ونگ کمانڈر ابھے نیندن! 

یہ سطریں شائع ہونے تک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھے نیندن پاکستان سے اپنے وطن اور گھر پہنچ چکے ہوں گے۔ ہندوستان کے باشندے اور ان کے گھر والے ان کی واپسی پہ یقیناً خوش ہوں گے لیکن ہم پاکستانی ان کے جانے پرخوشی، دکھ اور فخر کے ملے جلے جذبات و احساسات سے سرشار ہیں۔ خوشی ان کی رہائی پر ہے، دکھ ان کی جدائی پر اور فخر ان کی بہترین رکھوالی پر۔

ابھے نیندن جی نہ صرف ایک بہادر فوجی نظر آئے بلکہ تعصبات سے بالاتر اور جلد گھل مل جانے والے ایک محب وطن، زیرک اور بے باک انسان کے طور پر بھی سامنے آئے۔

پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر آئے تو انہوں نے ایک حقیقی فوجی کے طور پر اپنے حواس بحال رکھے، مقام کا پتہ لگانے کی کوشش کی، پھر پیچھا کرنے والوں کو پستول کی ہوائی فائرنگ سے ڈرانے اور اس میں ناکامی پر بھاگنے کی کوشش کی۔ جب اس میں بھی ناکام ہوئے تو اپنے ساتھ موجود اہم سرکاری مواد کو نگلنے اور پھر دریابرد کرنے کی تگ و دو کی۔ پھر ہتھیارپھینکنے سے پہلے لوگوں سے اپنی زندگی کا وعدہ لیا۔ ایک دو بندوں نے جب تھپڑ مارے تو بھی وہ نہ چیخے چلائے نہ فریاد کی بلکہ وقار کے ساتھ کھڑے رہے۔ پھر جب پاکستانی فوج کے دو سپاہی پہنچے تو انہیں اپنا سرکاری نمبر بتایا اور جب سپاہی نے اپنے افسر کو نمبر بتانے میں غلطی کی تو انہوں نے، باوجود یہ کہ انہیں زمین پر گرا کر ان کی گردن دبوچی گئی تھی، بلند آواز سے جرأت کے ساتھ غلطی کی دو دفعہ تصحیح کی تھی۔

اگرچہ انہوں نے پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور اپنی بہترین رکھوالی پر ان کا شکریہ ادا کیا، چائے کا لطف اٹھایا، ہمارے فوجی افسر کے ساتھ بے تکلفی سے بات چیت کی لیکن کوئی پیشہ ورانہ معلومات دینے سے صاف انکار کیا۔

ابھے نیندن ایک محب وطن ہندوستانی کے طور پر پاکستان ”شکار“ کی تلاش میں آئے تھے لیکن ان کا جہاز خود شکار ہوگیا۔ وہ خود بچ گئے اور زیادہ خوشی کی بات یہ کہ کہ ان کی زندگی اور امن کے نام پر رہائی کے ساتھ جنگ کے امکانات بھی کم یا ختم ہوگئے۔

واہگہ سرحد پر جس خندہ پیشانی اور فوجی وقار کے ساتھ وہ کھڑے تھے اس سے بالکل پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ ہندوستان کی نظر میں ایک دشمن ملک کی سرزمین پر اور ایک ”دشمن“ فوج کے درمیان کھڑا کوئی جنگجو تھا بلکہ جیسے کوئی اپنے پیاروں کے درمیان کھڑا ہوا ہے۔

ابھے نیندن جی آئے، دکھائی دیے اور اپنے رکھ رکھاٶ سے پاکستانیوں کو اپنا گرویدہ بنا کر چلے گئے۔

ابھے نیندن جی نے تو پاکستانی فوج کی محبت اور پیشہ ورانہ انسان دوست انداز و اطوار دیکھ لیے۔ امید ہے باقی ہندوستانی بھی جلد ماضی کی باہمی نفرت اور غلطیوں کو بھلا کر پاکستان کو اپنا ایک ہمدرد اور پیارا پڑوسی سمجھنا اوراس کے ساتھ امن سے رہنا شروع کر دیں گے۔

ابھے نیندن جی بڑے خوش قسمت نکلے کہ نہ ان کے پردھان منتری نریندر مودی نے ان کی رہائی کے لیے کوئی اپیل کی اور نہ اس ضمن میں ہمارے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کی گئی کالز کا جواب دیا لیکن پھر بھی صرف امن اور صلح کے نام پر وزیر اعظم عمران خان نے ان کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔ اب یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہوگی اگر ہندوستانی حکومت اور میڈیا اس کو مجبوری میں لیا گیا اقدام قرار دے۔ اس سے صرف امن کی آشا کو ہی نقصان پہنچے گا۔

ابھے نیندن جی نے کہا تھا میں واپس جاکر پاکستانی فوج کی تعریف والا اپنا بیان واپس نہیں لوں گا۔ ایسا ہوگیا تو وہ قول و قرار کے پکے بھی ثابت ہو جائیں گے۔ دعا ہے کہ ان کی رہائی مستقبل میں دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان امن اور دوستی پروان چڑھانے میں معاون ہو۔

پاکستانی فوج کے جن جوانوں کے ساتھ وہ رہے وہ اور پاکستانی عوام ان کو مس کریں گے۔ امید ہے وہ بھی وہاں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے علمبرداروں کی نحیف آواز کو مضبوط بنائیں گے.

 

Advertisements

حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے چند مظاہر

حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے چند مظاہر

طاہرعلی خان

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران جہاں چند افسوسناک چیزیں دیکھی گئیں وہاں کچھ قابل فخر مظاہر بھی سامنے آئے ہیں۔ پلوامہ میں ایک کشمیری نوجوان نے ایک فوجی کانواٸے پر خود کش حملہ کیا تو ہندوستانی حکومت اور ذراٸع ابلاغ کی اکثریت نے بلاتحقیق پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے اور اس کو سزا دینے کی باتیں شروع کردیں۔

بی جے پی حکومت بظاہر آٸندہ انتخابات میں پاکستان مخالف جذبات پیدا کرکے فاٸدہ اٹھانا چاہتی تھی چنانچہ ہندوستانی وزرإ اور صحافی منہ سے آگ برساتے رہے۔ یہ ایک غیر منصفانہ اورمعیوب طرزعمل تھا۔ ان کے برعکس پاکستانی وزرا، صحافی اور فوجی ترجمان وقار، تمکنت اور ہوش مندی کے قابل فخر نمونے دکھاٸی دیٸے۔ انہوں نے سرحد پار انتقام پر تلے پڑوسیوں کو جنگ کی تباہ کاریوں کا احساس بھی دلایا اور دلاٸل سے ان کے الزامات کو تہس نس بھی کر دیا۔

ہندوستانی حکومت نے جب پاکستان میں فضاٸی کاررواٸی کا مضحکہ خیز دعویٰ کیا تو اس کے بعد ان کے وزرا اور میڈیا نے پاکستان کا جس طرح مذاق اڑایا اور اپنے ”کارنامے“ پر جس طرح اتراتے رہے، وہ حد درجہ معیوب اور قابل افسوس تھا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ان کے دو جہاز گراٸے اور پاٸلٹ پکڑا تو ان کی طرح شیخی خوری کے بجاٸے وقار و عاجزی دکھاٸی اور پاکستانی وزیراعظم نے پھر تحقیقات میں مدد اور امن مذاکرات کی پیشکش کا اعادہ کیا۔ یہ پاکستان کی اخلاقی فتح اور فخر کی بات تھی۔

اس پورے بحران کے دوران دنیا کی ”بڑی جمہوریت“ نے بریفنگ میں کسی صحافی کو سوال کرنے کا موقع نہیں دیا۔ اس کےبرعکس پاکستانی وزرإ اور فوج کے ترجمان ہر قسم کے سوال و جواب کے لیے دستیاب رہے۔ پاکستان یہاں بھی نکھر کر سامنے آیا۔

اگرچہ کٸ سال سے پاکستان باربار ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت دیتا آرہا ہے لیکن ہندوستان رعونت سے مذاکرات سے انکار حتیٰ کہ پاکستان سے کھیلوں تک میں باٸیکاٹ پر اتر آیا۔

پاکستان نے پلوامہ حملے پر دکھ کا اظہار کیا اور تحقیقات میں مدد اور مذاکرات کی پیشکش کی تو ہندوستان نے اسے پاکستان کی کمزوری یا بزدلی گردانتے ہوٸے توجہ ہی نہیں دی اور انتقام انتقام کی لاگ الاپتا رہا۔ اس کے باوجود ہمارے وزرا اور فوجی ترجمان یاد لاتے رہے کہ جنگ میں صرف انسانیت ہی ہارتی ہے۔ یہ ایک باعزت قوم کا طرزعمل تھا۔

پاکستانی سپاہی مقبول حسین جو 1965 کی جنگ میں ہندوستان کا قیدی بنا تو اس کی زبان کاٹ دی گٸ اور جب 40 سال کے بعد وہ رہا ہوا تو جسمانی طور پر معذور تھا۔ اس کے برعکس پاکستانی فوج نے بھارتی پاٸلٹ ونگ کمانڈر ابھی نیندن کو عوام کے غیظ و غضب سے بچایا اور عزت دی۔ پاکستان یہاں بھی جیت گیا۔

اور اب امن اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت پاکستانی وزیراعظم نے گرفتار بھارتی پاٸلٹ کو یکم مارچ سے رہا کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ ریاست پاکستان اور سرحد کے دونوں جانب موجود امن پسندوں کی بڑی اخلاقی فتح ہے۔ لیکن اس اعلان کا خیر مقدم کرنے کے بجاٸے بعض ہندوستانی صحافی اسے پاکستان پر دباؤ کا نتیجہ قرار دیں یا کہیں کہ ہم نے پاکستان کو ابھی نیندن کو رہا کرنے پر مجبور کردیا ہے تو یہ ہندوستانی قوم کے لیے کوٸی قابل فخر طرزعمل نہیں ہے۔

پاکستان نے اپنے طرزعمل سے ثابت کردیا کہ یہ امن و انسانیت سے پیار کرنے والے، باعزت اور قومی سالمیت کےبارے میں حساس لوگوں کی سرزمین ہے۔ یہ جنگ سے نفرت کرتے ہیں لیکن اگر ان پر مسلط کی جاٸے تو اس میں کودنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔ کیا وزیراعظم نریندر مودی کو ایسے پیارے پڑوسی کو دشمن کی جگہ غنیمت نہیں سمجھنا چاہیے؟

اس بحران کے دوران پاکستان کی پوری سیاسی ومذہبی قیادت، حزب اختلاف اور صحافی حکومت اور فوج کے پیچھے کھڑے رہے۔ یہ ایک قابل فخر مظہر ہے۔ اس میں موجودہ حکمران جماعت کے لیے بھی سبق ہے جو ماضی میں بعض ایسے مواقع پر قومی اتفاق راٸے دکھانے میں مانع رہی۔

موجودہ حزب اختلاف نے وزیراعظم عمران خان کو ہندوستان اپنا ایلچی بھیجنے پر، نہ ہی مذاکرات کی بار بار پیشکش پر اور نہ ہی غیر مشروط طور پر، بغیر وزیر اعظم مودی کی اپیل کے، اچانک گرفتار بھارتی پاٸلٹ کی رہاٸی کے اعلان پر غداری اور ملک دشمنی کا طعنہ دیا۔ یہ ایک قابل رشک روایت ہے۔ کیا برسراقتدار جماعت اس سے سیکھنے کے لیے تیار ہے؟

کامیابی کی شاہراہ

کامیابی کی شاہراہ

طاہر علی خان

ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنا ہر ایککی خواہش ہوتی ہے۔ یقیناً آپ بھی اپنے لیے یا اپنی اولاد کے لیے کامیابی چاہتے ہوں گے.

اور سب کی طرح یقیناً آپ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اپنی خواہشات کے مطابق کامیاب زندگی کا حصول کس طرح ممکن بنائیں۔

میرے ہم پیشہ ساتھی، شاگرد، رشتہ دار اور دوست اکثر مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ وہ کون سے اصول اور طریقے ہیں جو ناکامی سے بچاتے اور کامیابی دلواتے ہیں۔

میں انہیں جواب دیتا ہوں اگر آپ واقعی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو چند اصولوں پر عمل کریں، آپ ضرور کامیابی سے ہم کنار ہوں گے۔ یہ اصول کیا ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں۔

1۔ اپنی زندگی پر نظر دوڑائیں اور اپنا احتساب کریں۔ معلوم کرلیں کہ وہ کون سی چیزیں، لوگ اور سرگرمیاں ہیں جن کی وجہ سے ابھی تک آپ ناکام رہے ہیں۔ ان سب سے کنارہ کش ہو جائیں۔ جب کہ جو لوگ اور سرگرمیاں آپ کے لیے کچھ حد تک مفید اور کارآمد ثابت ہوئی ہوں ان کو اپنائے رکھیں۔ ان نقصان دہ اور مفید چیزوں، لوگوں اور سرگرمیوں کی فہرستیں بنالیں اور ساتھ رکھیں۔

2۔ اپنی زندگی کے لیے سوچ سمجھ کر واضح مقاصد متعین کرلیں۔ آپ کیا بننا چاہتے ہیں اور کس طرح اور کتنی مدت میں، یہ متعین کرنا لازمی ہے۔ مقاصد اور ان کے حصول کے لیے مدت اور طریقہ کار کا تعین نہ ہو تو وقت اور وسائل کے ضیاع کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ مقاصد اونچے ہوں مگر آپ کے پاس دستیاب وسائل، صلاحیت اور وقت کے لحاظ سے حقیقت پسندانہ ہوں۔

ان مقاصد اور ان کے حصول کا دورانیہ اور لائحہ ہائے عمل اپنی ڈائری میں لکھ ڈالیں۔ خود سے وعدہ کریں کہ میں ان مقاصد کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ ہو سکے تو یہ سب کسی چارٹ پر لکھوالیں تاکہ آپ بار بار اس کو دیکھتے رہیں اور آپ کو اپنے وعدے یاد رہیں۔ اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو ڈائری میں لکھتے رہیں تاکہ آپ مسلسل اپنا جائزہ لے سکیں کہ مقاصد کی طرف آپ کی پیش رفت جاری ہے یا نہیں۔

آپ مقاصد اور لائحہ عمل کے تعین میں اساتذہ، والدین اور ماہرین سے مشورہ کرسکتے ہیں دوسروں سے مشورہ بے شک لے لیں لیکن اس کے لیے قنوطیت پسند نہیں بلکہ رجائیت پسند افراد سے رجوع کریں۔ یاد۔ رکھیں زندگی آپ کی ہے۔ اسے آپ مکمل طور پر دوسروں کی پسند و ناپسند کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ اپنے فیصلے آپ خود کریں بس جہاں رہنمائی درکار ہو، وہاں ہی دوسروں کی مدد لیں۔

3۔ جب مختلف قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی مقاصد اور ان کے حصول کے لیے مدت اور راستے آپ نے چن لیے تو اب ان کے حصول کے لیے کام میں لگ جائیں۔ سخت محنت کو شعار بنائیں۔ کام سے عشق کریں۔ خود بہترین انداز میں کام کریں، دوسروں کے سہارے کی تلاش اور انتظار میں نہ رہیں۔ کاہلی، آرام طلبی اور کام کو ملتوی کرنے سے اجتناب کریں۔ اور کسی دوسرے کو بھی اجازت نہ دیں کہ آپ کو اپنے مقاصد سے بدظن اور ان کے حصول سے مایوس کریں۔ ایسے لوگوں کو میں توانائی کی بلاٸیں (Energy vampires) کہتا ہوں۔ ان سے بچ کر رہیں۔

4۔ یاد رکھیں کہ سیوا بن میوا نہیں۔ آج اگر آپ اپنی من پسند اور توجہ ہٹانے والی چیزوں (Distractions) مثلاً زیادہ نیند، دوستوں کی محفلیں، موبائل اور کمپیوٹر کا استعمال، فلمیں دیکھنا اور کھیل کود میں ہمیشہ مگن رہنے وغیرہ، کی قربانی نہیں دیں گے تو آپ یکسوئی کے ساتھ درکار محنت نہیں کر سکیں گے اور کامیابی مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے ان چیزوں سے بچیں اور آپ کے مقاصد میں معاون چیزوں، سرگرمیوں اور لوگوں کو زیادہ وقت دینا شروع کریں۔

5۔ قابل اور کامیاب لوگوں کی سوانح اور کہانیاں پڑھیں۔ ان سے کامیابی کے اصول اور طریقے سیکھیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ کوئی رول ماڈل سامنے ہو تو بندے کو محنت کے لیے جوش و جذبہ اور ترغیب میسر رہتے ہیں۔

6۔ جو بھی مقاصد متعین کرلیں ان کے حصول پر مکمل یقین رکھیں۔ اپنے مقاصد اور ان کے حصول کے ذرائع سے دیوانہ وار عشق کریں۔ اس خلوص اور عشق کے بغیر کامیابی مشکل سے ملتی ہے۔

7۔ سب کے لیے محبت، خلوص، قربانی اور سہولت کا ذریعہ بن جائیں۔ کسی کے لیے تکلیف، دکھ اور پریشانی کا ذریعہ با الکل نہ بنیں۔

8۔ ہر ممکن حد تک دوسروں کی مدد اور خدمت کریں۔ چرند و پرند کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھیں۔ والدین، بزرگوں، بیواٶں، بچوں، محتاجوں سب کی دعائیں لیا کریں۔ دعائیں ساتھ ہوں تو بڑی بڑی رکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں اور کامیابی کے راستے کھل جاتے ہیں۔

9۔ پابندی سے مطالعہ کو معمول بنالیں۔ آہستہ آہستہ اس کی مقدار بڑھاتے جائیں۔ مطالعے کے نوٹس لیا کریں۔ دوستوں سے مل کر کتاب سوسائٹی بنائیں جس میں کتابوں کے خلاصے اور تبصرے پیش کیا کریں۔

میں اپنے شاگردوں اور سامعین کو اکثر کہتا ہوں کہ کتاب کو معشوق بنالیں۔ یہ دنیا کی واحد معشوق ہے جو اپنے عاشق کو کبھی خوار نہیں ہونے دیتی بلکہ کامیابی، ترقی، عزت اور خوشحالی سے ہمکنار کرواتی ہے۔

10۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ ورزش کو معمول بنائیں۔ متوازن خوراک لیں اور مناسب آرام کیا کریں۔ ہرقسم کے نشہ اور لت سے، خواہ وہ منشیات کا ہو یا محفلوں کا یا سوشل میڈیا کے استعمال کا، خود کو بچا کر رکھیں۔ ٹینشن دینے والی چیزوں اور لوگوں سے خود کو دور رکھیں تاکہ آپ کی جسمانی اورذہنی صلاحتیں لایعنی چیزوں میں ضائع نہ ہونے پائیں۔

11۔ آپ نے اپنے مقاصد متعین کر لیے، خود محنت کر رہے ہیں اور دوسروں کی دعائیں بھی آپ کے ساتھ ہیں تو اب اپنے رب سے مانگنے لگ جائیں۔ اللہ کی مدد پر بھروسا رکھیں۔ یاد رکھیں کہ ہمت مرداں مددِ خدا۔ یقین رکھیں وہ محنت کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ جو بھی محنت کرتا ہے اسے اس کا صلہ لازمی مل کر رہتا ہے۔ بس آپ یقینی بنائیں کہ آپ کی محنت اور تیاری اس معیار کی ہو جو کامیابی کے لیے ضروری ہے تو کامیابی آپ کو مل کر رہے گی۔

 

To PM Modi and India

To Modi and India

We remind you of wisdom and sense but find you always indulging yourself in suspense and nonsense.

We talk of poverty alleviation but your every act leads to tension aggravation.

We talk of construction but you conspire for destruction and obstruction.

We remind you of civility and responsibility but you only like vanity and insanity.

Byt Remember that he who hatches mischief is ultimately caught by mischief.

And that outbreak of war, like a devil, is easy to raise but difficult to lay and subdue.

Take pity on your morally and politically ailing and demoralized forces and civil population fed up with your interminable and insatiable love for blood.

But if you are not ready to heed our love for peace and bent on bringing havoc to your country and the region,

And consider our patience as weakness or cowardice, which it is not,

Then listen! you will come to grief when we respond but responsibility thereof will rest only at your shoulders.

So, step back, express a remorse over what you have done, seek forgiveness and behave as a normal human being.

Taken with edition and addition from FB wall of Prof Fazal Hanan

سعودی عرب، پاکستان اور ہندوستان

سعودی عرب، پاکستان اور ہندوستان

طاہر علی خان

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ پاکستان میں سعودی عرب نے پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ اس کے بعد مگر ان کے دورہ ہندوستان میں سرکاری شعبے میں 28 ارب ڈالر کے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط سمیت سعودی عرب جنرل انوسمنٹ اتھارٹی نے ہندوستان کے نجی شعبے کے ساتھ اربوں ڈالرز کے 11 مزید مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ شہزادہ محمد نے ہندوستان میں ایک تقریب میں یہ بھی کہا کہ اگلے دوسالوں میں انہیں سعودی عرب کی طرف سے ہندوستان میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔

یاد رہے ہندوستان اور سعودی عرب کے باہمی تجارت کا حجم 18۔ 2017 میں تقریباً 28 ارب ڈالر تھا جبکہ سعودی عرب ہندوستان کا چوتھا بڑا تجارتی پارٹنر بھی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تجارت کا حجم محض 3.4 ارب ڈالر ہے۔ 2010 میں یہ حجم 4 ارب ڈالر تھا۔ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم پچھلے مالی سال میں صرف 17.4 ملین ڈالر تھا۔

شہزادہ محمد نے دورے کے دوران نہ صرف ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا بڑا بھائی قرار دیا بلکہ ان کی درخواست پر ہندوستان کا حج کوٹہ دو لاکھ تک بڑھانے اور سعودی عرب کی جیلوں میں قید تقریباً 900 ہندوستانیوں کو رہا کرنے کا اعلان بھی کردیا۔

ہمارے ہاں عام خیال ہے کہ پاکستان کو اہم گردانتے ہوئے ہی ولی عہد شہزادہ محمد نے خود کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر قرار دیا جبکہ ہمارے وزیراعظم کی کرشماتی شخصیت ہی کی وجہ سے وہ پاکستان کا حج کوٹہ بڑھانے اور 2000 پاکستانیوں کو قید سے رہا کرنے پر آمادہ ہوئے تھے۔

کیا ہندوستان اور اس کے وزیراعظم نریندر مودی کو اتنی زیادہ اہمیت دینے کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اورجناب محمد بن سلمان کی نظر میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ہندوستانی منصب مودی یا پاکستان اور ہندوستان یکساں مقام رکھتے ہیں؟

اور یہ اس کے باوجود کہ پاکستان ان کا ایک برادر اسلامی ملک اور ہندوستان مسلمانوں کے دشمن اسرائیل کا قریبی دوست، کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کا قاتل اور ”کافروں“ کاملک ہے ؟ اگرچہ ہمارے انقلابی یہ بات نہیں مانتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب ممالک اپنے بین الاقوامی تعلقات مذہبی رشتے نہیں بلکہ اپنے مفادات کی بنیاد پر بناتے اور رکھتے ہیں۔ دوسرے ممالک ہماری طرح بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ نہیں ہوتے۔ جہاں سے بھی ان کو فائدہ ملتا ہو اس ملک یا ممالک سے راہ و رسم بڑھانا اور تجارت کرنا ان کے حکمران اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب نے تقریباً ہر تکلیف اور ضرورت کے وقت پاکستان کی مدد کی ہے اور وہاں موجود پاکستانی تارکین وطن ہر سال تقریباً 5 ارب ڈالرز کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں لیکن پاکستان نے بھی تقریباً ہر مسئلے پر ان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن نے سعودی عرب کی جدید تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا جبکہ پاکستانی فوج نے ان کی فوجی استعداد بڑھانے اور دفاع کو یقینی بنانے کے لیے خود کو وقف کیا ہوا ہے۔ یعنی اس تعلق میں دونوں کا ہی فائدہ تھا اور ہے اس لیے یہ برقرار رہا اور پروان چڑھتا رہا۔ اس کی کوئی دوسری وجہ نہیں۔

تاہم پاکستان کے لیے ان کے دورہ ہندوستان میں خوشی کی خبر یہ ہے کہ ہندوستان کی خواہش کے باوجود شہزادہ محمد نے اپنے دورے کے دوران یا اختتام پر سرکاری اعلامیہ میں پاکستان یا اس کی کسی تنظیم کو پلوامہ حملے میں موردالزام ٹھہرانے سے اجتناب برتا۔ اس کے برعکس اعلامیہ میں مودی نے ان کے ساتھ مان لیا کہ

”The two sides stressed the importance of regional stability and good neighbouring relations۔ “

یعنی دونوں ملکوں نے علاقائی استحکام اور اچھے پڑوسی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم مودی جس انداز میں پاکستان کے خلاف بولتے ہیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اعلامیہ پر دستخط ان کے لیے یقیناً ایک سخت مشکل اور ناخوشگوار فیصلہ ہوا ہوگا۔

Uncalled for

Rulers and leaders of a nation must be very cateful in the choice and use of words while talking especially when they are speakong at foreign soil.

Weaknessesanf shortcomings of the nation and its people and parties are not supposed to be told. It is not truth. It is rather stupidity.

Why shouldn’t IK fail?

Failure of IK and PTI will weaken belief in positive change through democracy.

It will again mean reversion to age-old twoparty system.

It will disappoint the youth who will invariably then become inclined towards militants and extremists.

Improving education in Pakistan

How can Pakistani Education system be improved?
By Tahir Ali Khan

This can be done by taking the following steps.

A. Students related.

(Plato had said a child is like a plant, which if properly nurtured must necessarily grow into all virtue and if planted in alien soil becomes the most obnoxious of all seeds.)

Students must
1. Be regular and punctual.
2. be attentive to what is taught.
3. work hard.
4. Properly manage their time, avoid time bandits like tv/mobiles etc so as to be able to fully utilize their time for learning.
5. avoid staying absent from school.
6. be obedient and disciplined.
7. love learning.
8. Read extensively and intensively and take notes of what they read.
9. do/complete homework regularly.
10. respect teachers and rules of schools.
11. believe that hardwork does benefit ultimately.
12. Be ready to ask questions.
13. study atleast 4 hours a day at home.
14. stay aloof from politics, political organisations and political/religious movements.

B. Schools related.
Schools must

1. have a conducive atmosphere for learning.
2. have fully equipled computer and science labs.
3. have multimedia system for presentations.
4. have proper and regular system of parentsteacher coordination.
5. have an information system in place through mobile about absence of children from school.
6. have a regular system of encouragement of students and teachers through praise and rewards.
7. Arrange activitybased learning.
8. Provide sports facilities for physique of students.

C. Teachers related
Teachers must

1. be committed, full of motivation, sincere and hardworking.
2. Knowledgeable and noble.
3. own and love students and institutions.
4. make teaching interesting.
5. invlove students in learning.
6. be rolemodels in terms of discipline and good character.
7. Be hardworking, committed to duty and friendly towards students. This way they can totally transform a student’s life and remember that a dictatorial and unfriendly Teacher destroys the learning process.
8. Give Individual attention to weaker students.
9. Consider individual differences based on background, financial position, domestic conditions, extra support and knowledge of parents and deal students as needed.
10. be accessible to students via mobiles at home after school hours.
11. train and educate students on good paper presentation skills in exam.
12. Impart and instil a thirst and love of learning in their students.
13. arrange contests amongst students on regular basis. Competition brings about excellence.
14. Give work assignments to students both for home and at school.
15. Prepare lecture notes for students.
D. Parents related.
Parents should
1. Love and support their children.
2. Monitor and Guide them but avoid overloading them.
3. Ensure pleasant and peaceful environment at home.
5. Give them balance diet and take care of their physique.
6. Regularly visit schools and remain in constant contact with their teachers and admins.
7. Ensure that they study atleast three to four hours a day at home.
8. Ensure their children’s regularity and punctuality.

E. Govt related.
Govt and fgei dte must
1. Introduce financial incentives for high achieving teachers and students like stars of fgei.
2. Equip labs.
3. Increase salaries of staff and other benefits.
4. Fill staff vacancies.
5. Provide all facilities needed for best educational environment at institutions.
6. Provide funds for study tours of students countrywide. 7. Provide funds for interative boards in classrooms.
8. Ensure continuous renovation and repair of institutions.
9. Post teachers at home stations or provide accomodation/hostels to them if posted faraway from home.

Lessons from Quaid’s life

Lessons from Quaid´s Life

By Tahir Ali Khani
The nation celebrated the Birth anniversary of Quaide Azam (May Allah grant him the highest of paradises) yesterday.

This celebration must also be a will to learn from his life.

Here are some of the characteristics of his character we all need to follow and a few lessons from his life we must learn and remember.

The Quaid´s life, character and mindset can be summarized as follows.

1. He was a man of great honesty. integrity, intellect and sagacity.

2. He could neither be deceived nor intimidated nor bribed.

3. He was sincere and strongly committed to his nation and cause and did all he could to win Pakistan.

4. He was a great believer in a constitutional, legal and peaceful democratic political struggle. He believed in democracy, freedom, respect of other´s rights and rule of law. He always followed laws and never violated them.

5. He neither believed nor ever resorted to militancy, underground struggle and extremism. He was above narrow religious sectarianism, regional or linguistic tendencies. That´s why all sections of society rallied behind him.

6. He never indulged himself in corruption. Rather, he dedicated all his personal wealth to schools and colleges.

7. He worked with a great passion but with patience. He never abused his political opponents. he was strong and firm but very polite and respectful.

8. He believed in hardwork. He would think before speaking and taking a decision. And once he reached at a decision after careful deliberation, none and nothing could move him from his chosen path.

9. He always took decisions in the light of ground realities and opted for the best possible path open to the nation. He never opted for emotionalism and populism.

10. So, the nation, our leaders and rulers need to learn the ideals of democracy, integrity, honesty, constitutional and peaceful political struggle, respect of rule of law, passion and patience, hardwork, sincerity, respect for others, tolerance and moderation from his life.

Six Success Strategies for Students

Read more of this post

an Old article: Give true democracy a chance

Give true democracy a chance

Everyone who contests elections is ultimately a winner or loser. Obviously, there can only be one winner amongst contesting candidates. However, it is the people’s mandate to choose whom they wish — if a candidate has lost, they need to accept the electorate’s verdict and their own defeat. Otherwise, there will be no difference between them and extremists impose their will on people

Ex PTI KPK govt and education: an appraisal

PTI and education: an appraisal

PTI has not lived up to to it’s claim that it gives top priority to education

West’s Double Standards

West’s Double Standards: An Unending threat for the World?

Double

 

When the Syrian regime was accused of using chemical weapons in Syria in April this year, US President Trump immediately issued a tweet describing the Syrian President Basharul Asad as “an animal” who gassed his own people.

And when anti-government demonstrations erupted in several Iranian cities earlier this year, the US ambassador to UN Nikki Haley was quick to embrace their cause. “The Iranian regime’s contempt for the rights of its people has been widely documented for many years,” she told the UN Security Council session.

However, the US, conversely, has been keeping mum over human rights violations perpetrated by its allies; Saudi Arabia, Israel and Egypt. The US, instead, supported them with money, weapons and deals despite their anti-democracy agendas and ruthless suppression of political opponents. The United States even continues to assist Saudi Arabia in its atrocity-ridden military intervention in Yemen.

As Israel’s biggest ally, the US has used its UN Security Council veto dozens of times to protect the Jewish state from resolutions condemning illegal settlements to violence against Palestinians.

Most of the big powers take pains to portray themselves as humane, lovers and protectors of rights and democracy, yet the reality is quite different. They often indulge themselves in double standards and selective morality, unmatched with their known commitments to justice and liberties.

Read more: Syrian imbroglio

The United States, particularly, has been supporting extremely repressive regimes like the Shah of Iran, Nicaragua’s Somoza family, Taiwan’s Chiang Kai-shek, and Egypt’s Hosni Mubarak and military dictators like Egypt’s Abdul Fatah Alsisi and Pakistan’s Zia-ul-haq. The discriminatory US policy on intended Indian and Pakistani membership in the Nuclear Suppliers Group (NSG) is another classic case of double standard.

Pakistan and India applied for NSG membership in 2016. Though the signing of Nuclear Non-Proliferation Treaty (NPT) is a prerequisite for entry and India is yet to sign it, the US is spearheading efforts to waiver the NPT- signing exemption for India. And the United States has added seven Pakistani companies to a list of foreign entities that are subject to stringent export control measures, a move that could hamper Pakistan’s bid to join NSG.

The US has also signed nuclear deal with India but Pakistan has been denied the same deal. The pact between the US and India exempts military facilities and stockpiles of nuclear fuel from scrutiny by the International Atomic Energy agency which has enabled India to sign nuclear cooperation agreements with Japan, Russia, France, Britain, South Korea, Canada, Argentina, Kazakhstan, Mongolia, and Namibia.

India rejects this line, insisting Kashmir is a bilateral dispute between the two countries.

The abuse of Veto power

The constitution of the UN Security Council is anything but justice. There is no equality of opportunity to every member state. Veto power given to big powers, therein gives undue leverage to them in getting things done as against the smaller ones. Which means that if any P-5 member or its ally is the aggressor or wrongdoer, no adverse action is possible against it as the P-5 member vetoes any such move. As Israel’s biggest ally, the US has used its UN Security Council veto dozens of times to protect the Jewish state from resolutions condemning illegal settlements to violence against Palestinians.

Read more: Germany’s Syria Strategy

While Israel is allowed to stockpile loads of nuclear arms and no hostile military action is initiated against it even if it blatantly and arrogantly rejects UN resolutions on halt of extension in settlements, Iraq is attacked and its cities turned into heaps of debris under the false pretext that it’s preparing/piling weapons of mass destruction despite report to the contrary by UN inspectors who had been deputed there.

And while there is continuous silence on blatant heinous human violations by “allies” such as Israel, there is a strong reaction to similar incidents perpetrated by “others” such as Saddam Hussain’s era Iraq.

Selective morality and double standards

And it is nothing but double standard and selective morality if Israel that openly violates/rejects international laws, UN resolutions and any serious effort for peaceful solution of its issues with Palestinians is equated with/ preferred over Palestinians whose lands have been usurped and who are being displaced and denied human rights.

Veto power given to big powers, therein gives undue leverage to them in getting things done as against the smaller ones.

Catalonia’s recent example, where Spain arrested an elected leader Carles Puidgemont for holding a separatist referendum, is ironic how the western world, across Europe, has united to extradite an elected Spanish leader, with popular mandate, yet is often seen providing asylums (and perhaps other help) to violent insurgent leaders from Baloch insurgency in Pakistan.

Read more: Wrath for separatists in Spain but sympathy for Baloch insurgents from Pakistan: Europe’s Double Standards?

Another example is their take on Pak- India relations. With both being nuclear powers, a war between the two can have dangerous repercussions for global peace. But the US and  Britain famously urge Pakistan and India to resolve their issues through mutual negotiations.

As India is not ready to talk to Pakistan, accusing Pakistan of state terrorism, Pakistan rightly urges major powers for mediation on Kashmir. India rejects this line, insisting Kashmir is a bilateral dispute between the two countries.

When the US and Britain insist India and Pakistan should resolve their dispute through mutual dialogue and refuse to mediate or condemn India for its atrocities in Kashmir, they are actually toeing Indian lines.

An extremist Hindu fundamentalist party, is voted to power with a clear majority in the 2014 Indian General Elections

It is but injustice if India which is clearly the wrongdoer being violator of several UN resolutions on Kashmir and whose leaders openly admit helping breaking up Pakistan in 1971 and vowing to drying up Pakistan against all international norms – is treated at par with Pakistan -which is trying its level best to bring India to the negotiation table for resolution of its disputes with it though unsuccessfully so far.

Read more: Russia, Turkey, Iran to hold Syria talks

One fails to understand how can Pakistan and India resolve their disputes peacefully and through mutual discussions when India is not ready to talk to Pakistan and powerful nations are silent spectators lest any offer for mediation or any criticism of perpetrated state-violence by India in Kashmir displease India – a big economic market.

The US and Britain say they are perturbed over violence in Kashmir and urge patience. It is welcome but what is objectionable is when the oppressor is not asked to refrain from using brute force against the peaceful demonstrators and the unarmed oppressed Kashmiri civilians are not openly supported in their fight for self-determination allowed and promised to them by UN resolutions in 1948, 1949 and by the Indian leadership till 1957 before Kashmir was made an integral part of Indian federation.

Stereotyping Muslim Nations

Another example of this double standard is the stereotype mindset that eyes all Muslim nation/states as extremists. Never has any extremist political or religious group obtained absolute majority in any Muslim country in any general elections. Such groups either don’t have the courage to take part and if they do, they have the lowest popular support base, often standing at less than one percent.

Iraq is attacked and its cities turned into heaps of debris under the false pretext that it’s preparing/piling weapons of mass destruction despite report to the contrary by UN inspectors who had been deputed there.

While Pakistan is considered an intolerant and extremist society, no  extremist group ever has obtained absolute majority here. For example, the Jamat-e-Islami Pakistan, an Islamic fundamentalist party, obtained only 0.4 percent of the total polled 46 million votes in the 2013 elections while Pakistan Muslim League-N, Pakistan People’s Party and Pakistan Tehreek Insaf having tolerant, democratic and anti-extremism credentials jointly polled around 30 million of the total votes.

Read more: Syrian government forces announce Yarmouk camp evacuation agreement

But India is considered one of the biggest democratic and liberal society in the world despite the fact that Prime Minister Narendara Modi’s Bharatia Janata Party, an extremist Hindu fundamentalist party, is voted to power with a clear majority in the 2014 Indian General Elections –it contested on 437 seats of the total 543 seats in the LoK Sabha and grabbed 282 seats, polling over 31 percent of the total polled votes.

The US and other states may have plausible arguments and reasons for persisting in such double standards. But they need to be candid and acknowledge that their decisions are based on cold calculations of national interest, not ethical considerations. They should at least spare us the pretense that they care about human rights and liberties.

Tahir Ali Khan is an academic with over 28 years experience and blogger. He has written over 700 articles. He blogs at http://www.tahirkatlang.wordpress.com and can be reached at tahirkatlang039@gmail.com

Pak-US ties: A tale of one-sided love

Pak-US relations: A tale of one-sided love
By Tahir Ali Khan

https://dailytimes.com.pk/236047/pak-us-relations-a-tale-of-one-sided-love/

Pakistan is an ally of the US in the War on Terror (WoT). Despite having done more than any other ally in the WoT, it is accused of not having done enough to wipe out terrorism.
Feeling neglected, Pakistan has responded with its improved relations and alliance with China and Russia. And it now says it has done enough and it is the US that has to do more now on that front.
A comparative study of what Pakistan and the USA have been doing for each other show the relationship has been a sad story of one-sided love.
Ignoring the former Union of Soviet Socialist Republics (USSR)’s invitation for a visit in 1951, Pakistan’s then Prime Minister Liaqat Ali Khan flew to the USA. In 1956, President Dwight Eisenhower requested Pakistani Prime Minister Mr Suhrawardy to lease Peshawar Air Station to the American Army for keeping an eye on the USSR and its ballistic missile programme. Pakistan accepted. All this annoyed the Communist regime. It threw its entire weight later in India’s favour, armed it tooth and nail and supported it abundantly.
Pakistan opted for the US and the “Free World” but had been left to tackle eventualities on its own. It joined the SEATO and CENTO thinking that the US/West would come to its rescue but it did quite the opposite. In 1965, when India attacked Pakistan, the USA, instead of supporting it militarily or financially being an ally, slapped sanctions on supply of military equipments to Pakistan. And in 1971, USA’s Seventh Fleet “couldn’t arrive in time” to defend it against USSR supported Indian aggression leading to its dismemberment.
Pakistan had successfully negotiated a deal between USA and China in 70’s. A Chinese leader during these parleys had reportedly told the US envoy not to neglect Pakistan but the US quickly abandoned its ally and silently allowing India to dismember it with the support of the USSR.
In April 1979, the US administration that had whole-heartedly supported the Israeli atomic programme and the “Jewish” Bomb, accusing Pakistan of trying to have an “Islamic” Bomb and citing military dictatorship, imposed sanctions on Pakistan.
However a few months later, when it needed Pakistan’s help against the Red forces in Afghanistan, the US changed course, forgot about dictatorship and the “Islamic Bomb” and sent Dr. Berznisky with a package to Pakistan. Pakistan fought for the West. But when their interests were safeguarded with the defeat and withdrawal of USSR from there, the US/the west left it to bear the sinister aftermath of the militancy alone. Agonisingly, the threat of Pakistan’s nuclear programme surfaced again. And in 1990, as the country by then had lost its strategic importance, the US, under the Pressler amendment, imposed sanctions on Pakistan, whereby every kind of military assistance was banned again to Pakistan. During those years, it did everything to deprive Pakistan of its indigenous nuclear and missile development programme.
This US indifference and double standards with Pakistan continued until the tragedy of 9/11 again made vital Pakistan’s help. Musharraf, the very man who was not entitled to a Photo-session with the US President for being a dictator, became their ‘friend’ overnight. All sanctions were lifted against Pakistan. Pakistan jumped into the WoT. But even then it was made just Non-NATO ally. While Pakistan was denied any atomic energy, with India a civilian nuclear deal was finalised.
The US administration was so selfish vis-à-vis Pakistan that though Pakistan had paid for F16s aircrafts, it neither handed over the F16s to it nor returned the money it had paid for them. Instead, it took from it the maintenance expenditures for these F16s which were held back by the US for sanctions.
Pakistan has come to help/rescue the US twice in Afghanistan. In 1980s, it joined hands with it to defeat the invaders –the USSR. In 2001, it supported it though the US was itself an invader. Then it fought the puppet regime in Kabul; now it supports their ‘puppet regime’ there. Then, they dubbed ‘Mujahideen’ as freedom fighters and Pakistan accepted. Now they dub them terrorists and it accepts even now. Pakistan allowed American army to use its military bases for launching attacks on Afghan soil.
Pakistan even killed its citizens the US considered as its enemies. The US said Dr. Abdul Qadeer is “guilty” of nuclear proliferation and he was immediately put under house arrest. Pakistan even arrested Mulla Zaeef- Afghanistan’s ambassador to Pakistan- for the US for the first time ever in world’s history. It had arrested more than 500 top Alqaeda associates and handed them over to it. Alqaeda since then has attacked Pakistani leaders frequently. Alqaeda had done no harm to Pakistan till then. Pakistan became their enemy when it supported the US in WoT.
The WoT and the resultant militancy and terrorism have badly impacted Pakistan’s economy. Careful estimates put the overall loss at around $120bn. It has resulted into the deaths of thousands of its valiant security personnel and civilians in terrorist acts. But despite all this, it openly questions Pakistan’s commitment to WoT and is still far from being satisfied.
Pakistan arrests and kills the enemies of the US –like Alqaeda, Daesh and Afghan Taliban –considering them its own enemies. But the US openly befriends Pakistan’s enemies and renders them every diplomatic, military, scientific and financial help. It has had ignored and didn’t target the militants fighting against Pakistan until recently. It attacks its territory (the Silala attack), meddles in its internal affairs and thus creates problems for its leaders.
Pakistan needs to be dealt fairly and respectfully as an ally. The policy of doubting its intentions and demanding more from Pakistan will hardly do the US any favour. It only will push Pakistan away towards more reliable allies in China and Russia.

Tahir Ali Khan is an academic and researcher. He blogs at http://www.tahirkatlang.wordpress.com and can be reached at tahirkatlang039@gmail.com

Reward of Tolerance

Patience and tolerance towards something distasteful or agonising to you can rid you of many vices.

Radical Delusions

Radical delusions

https://dailytimes.com.pk/208154/radical-delusions/

While Muslims are asked to work for reformation, they are not bound to ensure it at any cost.

Appeasement or Constitutionalism

Appeasement or constitutionalism?

https://dailytimes.com.pk/149023/appeasement-or-constitutionalism/

The government, no doubt, mishandled the situation. It should have called a meeting of all political parties, a joint session of Parliament and a meeting of the powerful national security council to discuss and devise a strategy on how to dislodge the TLY dharnas.

Following the government’s failure to disperse the Faizabad sit-in and later the countrywide sit-ins by the Tahreek-e-Labbaik Ya Rasoolullah (TLY) it is obvious that the government would have to talk to the agitators and submit to some of its demands. If any talks were to be held between the government and TLY, the former won’t be talking from a position of strength and it would have to submit to demands of the latter.

The wording of the mutual pact brokered by the establishment clearly gives the non-state actor TLY an upper hand on several counts.

The agreement has been signed with a party that has flouted court orders, broken laws with impunity, and openly indulged in hate-speech. It is an agreement between law breakers and law-enforcers but the latter representing the state have been admonished one-sidedly.

As per the agreement, the non-state actor TLY has been cleared of all charges. It neither has to express remorse nor seek apology from the millions of Pakistanis who were drastically affected by their dharnas.

All of its workers have to be freed within three days, cases and orders for their home-confinement have to be withdrawn and no legal action has to be taken against them. How would the government be able to release TLY agitators who have been booked under Anti-Terrorism Act remains unclear.

According to the agreement, it was the government that made things worse. The TLY is a ‘peaceful’ party but it is the government that aggravated the situation by use of force. It has to fulfill all the private and public damages caused duringdharnas. But why the provincial and federal government has to pay for damages caused by the dharnaholders is inconceivable.

The government has also committed itself to form an enquiry board, taking TLY into confidence, to ascertain the culprits for the November 25th action and to punish those responsible within 30 days. However, no such enquiry is to be conducted against the TLY for violation of laws and damaging public or private properties.

An ideal situation would have been that the agitators had called off their dharna within the deadline given first by the Islamabad High Court and then by the Islamabad administration, but it was ultimately the government that had to succumb to political pressure, renege on its basic responsibility to restore the writ of the state and to prosecute all those who were arrested during this legal campaign.

These are not welcome signs for rule of law and the sovereignty of the state. Anyone who believes in rule of law and infallibility and non-divisibility of sovereignty of the state must have been shocked.

Though the resignation of law minister, as per the agreement, is likely to set a very dangerous precedent, the matter will not come to an end with this. Such appeasement will embolden the TLY and its demands will continue rising after this. A group of TLY has already asked for resignation of Sanaullah, Punjab law minister. Such appeasement has neither worked before nor will be of any benefit towards solution of the current problem.

It was expected that no political, religious or social figure would support these agitators and instead openly support the state institutions but though there had been no criticism by some leaders -like Imran Khan, Sirajul Haq etc- of the prolonged illegal blockade of roads by the TLY, the government has been continuously and severely criticised all these days by them.

Opposition politicians even went a step ahead of the TLY. While it demanded only resignation of the law minister, they were demanding resignations of interior minister and even prime minister for “mishandling the situation.” Emboldened by this backing, the TLY too was seen pressing for the resignation of entire federal cabinet.

The Pakistan Army spokesman too had reported the Army chief to have asked the government “to handle the issue peacefully avoiding violence from both sides as it is not in national interest and cohesion.”

The advice may have stemmed from a sincere wish to bring peace, but it cannot be denied that only the state has the authority to use force — which is called the monopoly of violence — and no non-state actor — group or individual — has any such privilege vis-à-vis the state.

While the state has had all legitimate right to use force to disperse the dharna after peaceful attempts to do so failed, the other side- a non-state actor- must have obeyed the law. When it confronted the state, and continued with its intransigence, it should have been openly criticised, opposed and clearly asked to behave. Rather than equating the two and urging both to avoid violence, all democratic forces and constitutional institutions must have openly and clearly voiced support for the state. How can the state and a non-state actor be dealt equally when the former is trying to establish writ of the state while the latter is trying to resist and refuse to submit to the law of the land and the court decisions?

The two sides of the present situation cannot be dealt with equally. Whereas on one side is the state and its institutions, on the other one is a non-state actor. The latter was not ready to pay any heed to allow people free movement despite repeated requests from intermediaries and orders from courts. But when the government -the executive organ of the state and representative of its sovereign power- started operation to ensure free movement on the roads, some politicians, who had remained tight-lipped thus far on the illegal blocking of roads by the TLY, started severely criticising the government for resorting to violence.

Criticising the government alone for not solving the issue through peaceful talks and resorting to use of force is sheer injustice. In fact, ever since the sit-in began 20 days ago, the government had been using all available channels to talk to the TLY leadership and tried its level best to make it call off the dharna. It was the TLY leadership that was not ready to budge even an inch from its stated position or to accept any request by mediators and orders from court to disperse peacefully. What would the government do in such a situation? To remain silent spectator and thus not only deviate from its foremost responsibility of ensuring law and order and establishment of writ of the state but also risk annoying the IHC and SCP that were calling for ending this illegal dharna quickly?

Another thing that merits attention is the way the “workers” of the TLY battled with the law enforcement agencies’ personnel. They were not ordinary workers and looked like highly trained individuals. It is never easy for ordinary political workers to confront, tease and defeat the trained and experienced LEA personnel. And where did they get gas masks, gas guns and other apparatus must also be investigated.

The government, no doubt, mishandled the situation. It should have called a meeting of all political parties, a joint session of parliament and a meeting of the powerful national Security Council to discuss and devise a strategy on how to dislodge the TLY dharna. It didn’t.

And it was naturally reluctant to use force as it felt this would fetch it against the powerful and now resilient Brelvi school of thought to which the TLY belongs. As always, it was groping in the dark pinning hopes on religious personalities that had no influence on the TLY to change its mind on demands and dharna. The official powerful civilian cum military channel was not considered on time. The result is that its reluctance to use the above official channels and to use force unless ordered to do so by court and that too in a haphazard manner has endangered the authority of the state vis-à-vis a non-state actor.

Change in government and policies must be brought and allowed only through popular vote and parliament. Dharnas cannot and must not be allowed to dictate terms and force ministers and governments to resign. Constitutionalism and Rule of law must not be compromised. Submission and Appeasement to one such group is tantamount to giving up constitutionalism forever which will have dangerous repercussions for the country.

The writer is an academic and researcher who has written extensively on political and social issues. He blogs at http://www.tahirkatlang.wordpress.com and can be reached at tahir_katlang@yahoo.com

Published in Daily Times, November 29th 2017.

Selective morality of powerful states

Selective morality by powerful states

https://dailytimes.com.pk/145407/selective-morality-powerful-states/

“Morality and justice demand that one must have the moral strength to call a spade a spade” — Plato

NOVEMBER 23, 2017

Though inter-state relations are predominantly governed by national interests, powerful states are not justified in the exhibition of selective morality and being unfair in their foreign relations.

Unfortunately, most of the global powers — like the US, Russia and Britain follow policies that aren’t consistent with their known commitments to justice and liberty. This injustice — or selective morality- is clearly visible in the constitution of the UN Security Council. Veto power in the hands of the great powers means that if any P-5 member or their allies is the aggressor or wrongdoer and the entire world unites against it in the UN, no adverse action is possible as the P-5 member vetoes any suggestion.

Another example is their take on Pak- India relations. Their relations, with both being nuclear powers, just cannot be allowed to deteriorate because if a war breaks out between the two, it can have dangerous repercussions for global peace. The US famously urges Pakistan and India to resolve their issues through mutual negotiations. Britain too urges Pakistan and India to find a lasting solution for Kashmir. But none of them is prescribing a solution or acting as a mediator.

When major world powers — The US and Britain for example, insist India and Pakistan should resolve their dispute through mutual dialogue and refuse to mediate or condemn India for its atrocities in Kashmir, they are actually toeing Indian lines.

Justice means rendering everyone their due, as famous Greek philosopher Plato reported his mentor Socrates to have said. Morality and justice demand that one must have the moral strength to call a spade a spade.

It is but injustice if India, which is clearly the wrongdoer in Kashmir, being the violator of several UN resolutions on Kashmir and whose leaders openly admit helping breaking up Pakistan in 1971 and vowing to cause a permanent drought in Pakistan against all international norms — is treated at par with Pakistan — which is trying its level best to bring India to the negotiation table for resolution of the Kashmir dispute.

As India is not ready to talk to Pakistan, accusing Pakistan of state terrorism — an accusation not substantiated as yet and for which Pakistan is ready for any international investigation — Pakistan rightly urges major powers for mediation on Kashmir. India rejects this line, insisting Kashmir is a bilateral dispute between the two countries.

One fails to understand how Pakistan and India can resolve their disputes peacefully and through mutual discussions when India is not ready to talk to Pakistan and powerful nations are silent spectators lest any offer for mediation or any criticism of perpetrated state-violence by India in Kashmir displease India -a big economic market.

The US and Britain say they are perturbed over violence in Kashmir and urge patience. It is welcome but what is objectionable is when the oppressors and oppressed are literally dealt with equally, the oppressor is not asked to refrain from using brute force against the peaceful demonstrators and the unarmed oppressed Kashmiri civilians are not openly supported in their legal fight for self-determination.

What else can continuous silence on blatant heinous human tragedies caused by brute force used by “allies” such as Israel and strong reaction to similar incidents perpetrated by “others” such as Saddam era Iraq be called if it isn’t plainly apparent double standards and selective morality?

While Israel is allowed to stockpile loads of nuclear arms with active connivance and no hostile military action is initiated against it even when it blatantly and arrogantly rejects UN resolutions on the halt of extending settlements, Iraq is attacked and its cities turned into heaps of debris and hundreds of thousands of its innocent civilians are killed under the false pretext that it is stockpiling WMD’s despite report to the contrary by UN inspectors.

It is unfair if Palestinians— whose lands have been usurped and who are being displaced and denied human rights are dealt on equal terms with Israel, which openly violates and rejects international laws, UN resolutions and any serious efforts for peaceful solution of its issues with Palestinians.

Reluctance shown by the World Bank — the designated mediator on the 1960 Indus Water Treaty (IWR) between India and Pakistan — to mediate on the issue is another case of this selective morality. While Pakistan — being the aggrieved party for India’s purported violation of IWT terms — repeatedly requested that the WB set up a court of arbitration as per the terms of IWT and asked it and the US to help resolve its IWT dispute with India, the WB remained disinterested and eventually suspended all its processes. The setting up of a court of arbitration or the appointment of a neutral expert on the issue when India asked it not to rush in to resolve the issue. As things unfolded, the State Department too said it wanted India and Pakistan to resolve all outstanding issues bilaterally (without any third party mediation) which were but only toeing the Indian line.

Equally unjust is the stereotype that all Muslim states are radical and rogue nations. Extremist political or religious groups have never obtained absolute majority in any Muslim country in any general elections. Such groups either don’t have the courage to take part in democracy and if they do, they have the lowest popular support base, often standing at less than one percent.

Strangely enough, it is the commonly known “democratic” nations like India, USA and Israel where extremists groups like Modi, Trump and Netanyahu are voted to power by the electorate while their rivals are defeated.

For example, the Jamaat-e-Islami in Pakistan envisions an ideological Islamic state and often talks of Jihad against India but it doesn’t have any worthwhile political support base that could land it in the corridors of power in Pakistan — it obtained only 0.4 percent of the total polled 46 million votes in the 2013 elections and won just 4 seats in the 342-member National Assembly.

And notwithstanding the fact that India is praised as one of the biggest democratic and liberal societies in the world and Prime Minister Narendara Modi’s Bharatia Janata Party bases its electoral campaign on narrow Hindu Nationalism and dangerous anti-Pakistan rhetoric, it has a big public following and was voted to power with a clear majority in the 2014 Indian General Elections. It contested 437 seats of the total 543 seats in the Lok Sabha and grabbed 282 seats, polling over 31 percent of the total polled votes.

Against this, most of the voters in Pakistan who are often ‘chastised’ as intolerant and extremist have been historically supporting two and recently three parties. These are the Pakistan Muslim League-Nawaz, Pakistan People’s Party and Pakistan Tehreek-e-Insaf. The three parties jointly polled around 30 million of the total 42 million votes in the 2013 general elections.

The writer is a Pakistan-based academic and researcher who has written extensively on social issues. He blogs at http://www.tahirkatlang.wordpress.com and can be reached at tahir_katlang@yahoo.com

Published in Daily Times, November 23rd 2017.

Love at home

Respect your spouse.

Listen to her/him.

Praise her/him every now and then.

Build confidence.

Show your love.

Pay due care to her/his ease.

Be loyal to each other.

Respect parents and other family members of the spouse.

Never doubt and ridicule her/him.

Fulfill her/his desires.

Give enough time and attention.

کالام میں سیاح دوستی

کالام میں سیاح دوست رویہ

طاہرعلی خان

http://www.humsub.com.pk/69143/tahir-ali-khan-5/

 3جولائی 2017 کو ہم سب پر وسی بابا کی تحریر‘‘شمال والو! بدتمیزی کا علاج بتاؤں؟’’ شایع ہوئی جس میں انہوں نے شمالی علاقہ جات کے مکینوں کو اپنی روایت کا تحفظ کرنے، جس سیاح کے خلاف بدتمیزی کا واقعہ رپورٹ ہو اس سے جرمانہ وصول کرنے اور دوبارہ مخصوص عرصے کے لیے اپنے علاقے میں گھسنے نہ  دینے کا مشورہ دیا ہے  اور امید ظاہر کی ہے کہ جب دو چار کو پانچ دس ہزار جرمانہ ہو گا تو لڑکے لڑکیوں سے کئی گز دور رہیں گے۔ اس تحریر پر ایک تبصرہ میں رانا اورنگزیب رانگا  نے پٹھانوں میں اجنبیوں، مسافروں اور خواتین کے ساتھ تعاون واحترام کے چند واقعات قلمبند کرتے ہوئے انکی تریف کی ہے۔

جالبنڑ کی چڑھائی

یہ کالم اور اس پر تبصرہ پڑھ کر مجھے کالام سوات کے حوالے سے اپنے کچھ  مشاہدات ا ور تاثرات یاد آئے۔ یہ آج سے پندرہ برس پہلے کی بات ہے۔ گرمیوں کی تین مہینے کی تعطیلات کے لیے سکول بند ہوگٗئے تو ہم چند دوستوں نے یہ چھٹیاں خاندان کے ہمراہ پاکستان کے سوئٹزر لیںڈ سوات کے علاقے کالام میں گزارنے کا ارادہ کیا۔ وہاں جانے سے پہلے ہم نے گھر کرائے پر لے لیے تھے۔ تین مہینے کے لے اُس وقت ایک مناسب گھر دس سے پندرہ ہزار میں مل جاتا تھا ۔ 2010 کے سیلاب سے ابھی سڑکیں خراب نہیں ہوئی تھیں۔ ہم سہولت سے پہنچے بھی اور وہاں ہمارا قیام بھی بڑاخوشگوار رہا۔ ہم چار دوست روزانہ میلوں پیدل آس پاس کے علاقوں کے چکرلگاتے رہتے اور ہفتے میں ایک بار دورافتادہ مقامات پر گاڑی میں بھی جاتے ۔اس دوران کئ ایک یادگار واقعات پیش آئے جن سے ایک دوواقعات وسی بابا  کے کالم اور اس پر تبصرہ کی تائید کرتی ہیں۔

جالبنڑ سے کالام کا نظارہ

ہم نے کالام بازار سے مغرب کی طرف تین کلومیٹر بلندی پر واقع ایک گاؤں جالبنڑ میں جگہ کرائے پر حاصل کی تھی۔ جالبنڑ سے  مغرب کی طرف اونچائی پرایک بڑا پہاڑ ہے اور ایک آبشار  بھی ہے جس پر چھوٹا سا بجلی گھر بنایا گیا ہے۔ مشرق کی طرف اونچائی پر برف سے لدی ہوئی پہاڑی چوٹیاں نظر آتی ہیں۔ شمال کی طرف بھی پہاڑیاں اور وسیع جنگلات دکھائی دیتے ہیں جبکہ اس کے جنوب میں  ایک پہاڑی ہے جس کے اُس طرف گیل کی مشہور وادی ہے۔ گیل اور جالبنڑ کے درمیانی پہاڑ کی چوٹی پر وسیع رقبے پر محیط ایک محل نما گھر اور باغ تھا، اس کے چاروں طرف خاردار تاریں اور آہنی جنگلے لگے ہوئے تھے۔ علاقے کے مکینوں کا کہنا تھا یہ لاہور کے شریف خاندان کا سرمائی گھر ہے۔

 جالبنڑ سے  بازار آنے جانے کے لیے کھیتوں کے درمیان ایک سڑک بنی ہوئی تھی۔ اس کی حالت بہت خراب تھی۔گیل کی وادی تک پہنچنے کے لیے جالبنڑ سے ایک انتہائی سخت چڑھائی والی پگڈنڈی لوگوں نے بنائی ہوئی تھی۔ ان راستوں پر نیچے آنے اور پھر واپس جانے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ پٹھے مضبوط ہونے شروع ہوئے تو دم بھی آہستہ آہستہ پختہ ہوتا گیا۔ آغازمیں معمولی سفر کے بعد آرام کرنا پڑتا لیکن پھر میلوں سفر پر بھی اس کی ضرورت نہ پڑتی۔ یوں تو ہر ایک کو  فائدہ ہوا مگر ہمارے ایک لحیم دوست جس کا وزن کالام جانے سے پہلے ۱۱۰ کلوگرام تھا ان سیاحتی مٹرگشتیوں کے بعد ۸۰ کلو تک آگئے۔

جالبنڑ کے لوگوں کو بڑا ملنسارپایا۔ جس شخص کا مکان ہم نے کرایہ پر لیا تھا وہ حاجی صاحب کہلاتے تھے۔ انہوں نے ہماری دعوت کی۔ اس کے بعد کئ دوسرے افراد نے بھی مہمان نوازی کی۔ پنجاب اور دوسرے علاقوں کے لوگ بھی یہاں رہ رہے تھے اور وہ بھی بڑے خوش اور مطمئن تھے۔

ایک روز جالبنڑ میں عشاء کی نماز کے شوروغوغا بلند ہوا۔ پتہ چلا کسی سیاح پنجابی جوڑی کو کسی نے بازار سے اوپر جالبنڑ آتے ہوئے نقدی اور زیورات سے محروم کردیا ہے۔ کچھ بزرگ حضرات  رونے والی لڑکی اور پریشان لڑکے کی ڈھارس بندھانے لگے جب کہ اس دوران لاؤڈ سپیکروں پر جوڑے کے لٹنے کا اعلان کرکےکہا گیا کہ سب لوگ نکل آئیں تاکہ چوروں کو پکڑا جا سکے۔ آناً فاناً  اپنے علاقے کی اس طرح بدنامی پر بپھرے اور لاٹھیوں سے مسلح جوان ادھر ادھر پھیل گئے۔ تھوڑی دیر بعد دو نوجوان ان کے قبضے میں تھے۔ انہیں بزرگوں کے سامنے پیش کیاگیا مگر اس سے پہلے انکی اچھی خاصی مرمت کی جا چکی تھی۔ معلوم ہوا یہ لڑکے بھی سیاح کے طور پرباہر سے آئے تھے۔ ان سے رقم اور زیورات لےکر جوڑے کےحوالے کر دئیے گئے۔ وہ ڈاکو روتے دھوتے معافی مانگتے رہے کہ آئندہ وہ یہاں ایسا کچھ نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ سوات آئیں گے۔ بعد میں غالباً انہیں پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

kondol lake

ایک اورناقابل فراموش واقعہ کالام سے سولہ کلومیٹردور شمال میں واقع اتروڑ وادی میں پیش آیا۔ اتروڑ سے شمال کی جانب چار میل کی مسافت پر واقع جھیل کنڈول یا کنڈل جھیل (ڈھنڈٌ) کو جانے کا راستہ دشوار گزار ہے، پانچ چھے گھنٹہ کا پیدل سفر ہے اور اوپر آکسیجن کی کمی بھی پیش آتی ہے جس کے لیے مقامی لوگوں نے ایک مقامی بوٹی کو مسلسل سونگھتے رہنے کی ہدایت کی۔ وہ واقعی ایک کٹھن سفر تھا۔ ہمارے لحیم دوست کی سانس تو لگ بھگ ٹوٹ گئ تھی اور ہمارے ہاتھوں کے توتے اڑ گئے تھے لیکن خدا خدا کرکے کنڈل جھیل پہنچ گئے تو ایک اورامتحان ہمارے منتظر تھا۔ ہمارے ساتھ لاہور سے تعلق رکھنے والے پانچ لڑکوں کو ایک گروپ بھی تھا۔ ہم وہاں پہنچ گئے تو لاہوری بھائیوں کے درمیان کسی مسئلے پر توتو میں میں شروع ہوگئ۔ دیکھتے ہی تین لڑکے ایک دھان پان سے لڑکے پر ٹوٹ پڑے اور اس سے پہلے کہ ہم بیچ بچاؤ کرتے وہ لڑکا اور اس کے ایک اور ساتھی کے سر اور چہرے سے خون بہنے لگا۔ ان کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ گئے تھے۔ ہم نے لڑکوں کو روکنے کی کوشش کی تو وہ ہم سے بھی الجھ گئے کہ ہمارا ان کے ذاتی معاملے میں کیا کام۔ جو قصور اس لڑکےکا ان سے معلوم ہوا وہ  بہت معمولی تھا مگرلاہوری دوست ہمارے منع کرنے اور اس لڑکے کی بچاؤ بچاؤ کی دہائی کے باوجود  اس دوران اس کو ٹھڈے مارتے رہے۔ اس دوران مارنے والوں میں سے ایک نے آواز لگائی اس۔۔۔ کے کپڑے نکال دو۔  ہم ابھی اپنے اگلے طرزعمل پر ابھی سوچ رہے تھے کہ اس دوران  کچھ فاصلے پر موجود تین لڑکوں کا ایک گروپ تیزی سے قریب آیا۔  ایک لڑکے ، جس نے لمبا کوٹ اور چادر اوڑھی ہوئی تھی، نے آتے ہی مارنے والوں کو کہا کہ ہاتھ روک دیں اور ساتھ ہی ہمیں بھی کھری کھری سنائیں کہ پٹھان ہونے کے باوجود ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور مظلوم کو بچانہیں رہے۔ بپھرے ہوئے لاہوری جوانوں نے اس کو بھی جھڑک دیا۔ اس لڑکے نے اچانک چادر اتار پھینکی اور کوٹ کے نیچے ہاتھ ڈال کر نکالا تو اس  میں کلاشنکوف تھی۔ اس نےکلاشنکوف کا رخ ان کی طرف کرکے انہیں ہاتھ اوپر اٹھانے اور آنکھیں بند کرکے کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اس لڑکے کو اٹھایا اور اپنے ساتھیوں سے بھاری بھاری بدلہ لینے کا کہا۔ وہ لڑکا رونےلگ گیا کہ میں انہیں معاف کرتا ہوں آپ بھی انہیں معاف کردیں۔ کلاشنکوف والا لڑکا کہنے لگا۔ نہیں مگر اگر یہ خود آپ سے معافی مانگ لیں۔ لڑکے جو اس سے پہلے بڑے تیس مار خان بنے ہوئے تھے، فوراً لڑکے کے پاؤں پڑ گئے۔ لڑکے نے انہیں اٹھا کر گلے لگایا اور ہم سب نے ہنسی خوشی اکٹھے کھانا کھایا۔ کلاشنکوف والا لڑکا پھروہاں سے پہاڑکی جانب چلا اور جلد ہی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔

ایک اور عجیب و غریب تجربہ یا مشاہدہ یہ تھا کہ کالام میں آپ کہیں بھی کسی کھیت یا باغ کے اندر مصروف کار لوگوں سے کوئی سبزی یا پھل مانگ لیں تو وہ آپ سے پیسے نہیں لیتے۔ بازار کی بات الگ ہے۔ گھر سے آپ کو دودھ بھی پیسوں سے نہیں مفت ملے گا اگر ہوگا تو۔ وہ کہتے ہیں کھیت، باغ اور گھر سے مانگنے کی کوئی چیز پیسوں سےبیچنا ان کی روایات کے خلاف ہے۔

مٹلتان کالام

ایک اور واقعہ پیش خدمت ہے۔ ایک روز حاجی صاحب اور جالبنڑ کے چند اور بزرگوں کے ساتھ ہم گیل وادی میں ’’شریف محل‘‘ میں ایک دعوت سے فارغ ہوکر واپس آرہے تھے کہ پہاڑ کی چوٹی پر راستے سے کافی دور ایک لڑکا لڑکی جھاڑیوں میں ’’راز ونیاز‘‘ کرتے نظر آئے۔ ہم ان کے پاس گئے کہ ان سے ’’تفتیش‘‘ کرلیں مگر حاجی صاحب نے ایک دو سوالات کے بعد ہی ہمیں انہیں چھوڑ کر نماز کے لیے مسجد کی راہ لینے پر آمادہ کر لیا۔ایسا لگا ہماری ’تجسس‘ اور ان کی ’سیاح دوستی‘ کے مقابلے میں ہماری تجسس ہار گئ۔

مہو ڈھنڈ کالام

%d bloggers like this: