کامیابی کی شاہراہ

کامیابی کی شاہراہ

طاہر علی خان

ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنا ہر ایککی خواہش ہوتی ہے۔ یقیناً آپ بھی اپنے لیے یا اپنی اولاد کے لیے کامیابی چاہتے ہوں گے.

اور سب کی طرح یقیناً آپ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اپنی خواہشات کے مطابق کامیاب زندگی کا حصول کس طرح ممکن بنائیں۔

میرے ہم پیشہ ساتھی، شاگرد، رشتہ دار اور دوست اکثر مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ وہ کون سے اصول اور طریقے ہیں جو ناکامی سے بچاتے اور کامیابی دلواتے ہیں۔

میں انہیں جواب دیتا ہوں اگر آپ واقعی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو چند اصولوں پر عمل کریں، آپ ضرور کامیابی سے ہم کنار ہوں گے۔ یہ اصول کیا ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں۔

1۔ اپنی زندگی پر نظر دوڑائیں اور اپنا احتساب کریں۔ معلوم کرلیں کہ وہ کون سی چیزیں، لوگ اور سرگرمیاں ہیں جن کی وجہ سے ابھی تک آپ ناکام رہے ہیں۔ ان سب سے کنارہ کش ہو جائیں۔ جب کہ جو لوگ اور سرگرمیاں آپ کے لیے کچھ حد تک مفید اور کارآمد ثابت ہوئی ہوں ان کو اپنائے رکھیں۔ ان نقصان دہ اور مفید چیزوں، لوگوں اور سرگرمیوں کی فہرستیں بنالیں اور ساتھ رکھیں۔

2۔ اپنی زندگی کے لیے سوچ سمجھ کر واضح مقاصد متعین کرلیں۔ آپ کیا بننا چاہتے ہیں اور کس طرح اور کتنی مدت میں، یہ متعین کرنا لازمی ہے۔ مقاصد اور ان کے حصول کے لیے مدت اور طریقہ کار کا تعین نہ ہو تو وقت اور وسائل کے ضیاع کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ مقاصد اونچے ہوں مگر آپ کے پاس دستیاب وسائل، صلاحیت اور وقت کے لحاظ سے حقیقت پسندانہ ہوں۔

ان مقاصد اور ان کے حصول کا دورانیہ اور لائحہ ہائے عمل اپنی ڈائری میں لکھ ڈالیں۔ خود سے وعدہ کریں کہ میں ان مقاصد کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ ہو سکے تو یہ سب کسی چارٹ پر لکھوالیں تاکہ آپ بار بار اس کو دیکھتے رہیں اور آپ کو اپنے وعدے یاد رہیں۔ اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو ڈائری میں لکھتے رہیں تاکہ آپ مسلسل اپنا جائزہ لے سکیں کہ مقاصد کی طرف آپ کی پیش رفت جاری ہے یا نہیں۔

آپ مقاصد اور لائحہ عمل کے تعین میں اساتذہ، والدین اور ماہرین سے مشورہ کرسکتے ہیں دوسروں سے مشورہ بے شک لے لیں لیکن اس کے لیے قنوطیت پسند نہیں بلکہ رجائیت پسند افراد سے رجوع کریں۔ یاد۔ رکھیں زندگی آپ کی ہے۔ اسے آپ مکمل طور پر دوسروں کی پسند و ناپسند کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ اپنے فیصلے آپ خود کریں بس جہاں رہنمائی درکار ہو، وہاں ہی دوسروں کی مدد لیں۔

3۔ جب مختلف قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی مقاصد اور ان کے حصول کے لیے مدت اور راستے آپ نے چن لیے تو اب ان کے حصول کے لیے کام میں لگ جائیں۔ سخت محنت کو شعار بنائیں۔ کام سے عشق کریں۔ خود بہترین انداز میں کام کریں، دوسروں کے سہارے کی تلاش اور انتظار میں نہ رہیں۔ کاہلی، آرام طلبی اور کام کو ملتوی کرنے سے اجتناب کریں۔ اور کسی دوسرے کو بھی اجازت نہ دیں کہ آپ کو اپنے مقاصد سے بدظن اور ان کے حصول سے مایوس کریں۔ ایسے لوگوں کو میں توانائی کی بلاٸیں (Energy vampires) کہتا ہوں۔ ان سے بچ کر رہیں۔

4۔ یاد رکھیں کہ سیوا بن میوا نہیں۔ آج اگر آپ اپنی من پسند اور توجہ ہٹانے والی چیزوں (Distractions) مثلاً زیادہ نیند، دوستوں کی محفلیں، موبائل اور کمپیوٹر کا استعمال، فلمیں دیکھنا اور کھیل کود میں ہمیشہ مگن رہنے وغیرہ، کی قربانی نہیں دیں گے تو آپ یکسوئی کے ساتھ درکار محنت نہیں کر سکیں گے اور کامیابی مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے ان چیزوں سے بچیں اور آپ کے مقاصد میں معاون چیزوں، سرگرمیوں اور لوگوں کو زیادہ وقت دینا شروع کریں۔

5۔ قابل اور کامیاب لوگوں کی سوانح اور کہانیاں پڑھیں۔ ان سے کامیابی کے اصول اور طریقے سیکھیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ کوئی رول ماڈل سامنے ہو تو بندے کو محنت کے لیے جوش و جذبہ اور ترغیب میسر رہتے ہیں۔

6۔ جو بھی مقاصد متعین کرلیں ان کے حصول پر مکمل یقین رکھیں۔ اپنے مقاصد اور ان کے حصول کے ذرائع سے دیوانہ وار عشق کریں۔ اس خلوص اور عشق کے بغیر کامیابی مشکل سے ملتی ہے۔

7۔ سب کے لیے محبت، خلوص، قربانی اور سہولت کا ذریعہ بن جائیں۔ کسی کے لیے تکلیف، دکھ اور پریشانی کا ذریعہ با الکل نہ بنیں۔

8۔ ہر ممکن حد تک دوسروں کی مدد اور خدمت کریں۔ چرند و پرند کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھیں۔ والدین، بزرگوں، بیواٶں، بچوں، محتاجوں سب کی دعائیں لیا کریں۔ دعائیں ساتھ ہوں تو بڑی بڑی رکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں اور کامیابی کے راستے کھل جاتے ہیں۔

9۔ پابندی سے مطالعہ کو معمول بنالیں۔ آہستہ آہستہ اس کی مقدار بڑھاتے جائیں۔ مطالعے کے نوٹس لیا کریں۔ دوستوں سے مل کر کتاب سوسائٹی بنائیں جس میں کتابوں کے خلاصے اور تبصرے پیش کیا کریں۔

میں اپنے شاگردوں اور سامعین کو اکثر کہتا ہوں کہ کتاب کو معشوق بنالیں۔ یہ دنیا کی واحد معشوق ہے جو اپنے عاشق کو کبھی خوار نہیں ہونے دیتی بلکہ کامیابی، ترقی، عزت اور خوشحالی سے ہمکنار کرواتی ہے۔

10۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ ورزش کو معمول بنائیں۔ متوازن خوراک لیں اور مناسب آرام کیا کریں۔ ہرقسم کے نشہ اور لت سے، خواہ وہ منشیات کا ہو یا محفلوں کا یا سوشل میڈیا کے استعمال کا، خود کو بچا کر رکھیں۔ ٹینشن دینے والی چیزوں اور لوگوں سے خود کو دور رکھیں تاکہ آپ کی جسمانی اورذہنی صلاحتیں لایعنی چیزوں میں ضائع نہ ہونے پائیں۔

11۔ آپ نے اپنے مقاصد متعین کر لیے، خود محنت کر رہے ہیں اور دوسروں کی دعائیں بھی آپ کے ساتھ ہیں تو اب اپنے رب سے مانگنے لگ جائیں۔ اللہ کی مدد پر بھروسا رکھیں۔ یاد رکھیں کہ ہمت مرداں مددِ خدا۔ یقین رکھیں وہ محنت کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ جو بھی محنت کرتا ہے اسے اس کا صلہ لازمی مل کر رہتا ہے۔ بس آپ یقینی بنائیں کہ آپ کی محنت اور تیاری اس معیار کی ہو جو کامیابی کے لیے ضروری ہے تو کامیابی آپ کو مل کر رہے گی۔

 

Advertisements

To PM Modi and India

To Modi and India

We remind you of wisdom and sense but find you always indulging yourself in suspense and nonsense.

We talk of poverty alleviation but your every act leads to tension aggravation.

We talk of construction but you conspire for destruction and obstruction.

We remind you of civility and responsibility but you only like vanity and insanity.

Byt Remember that he who hatches mischief is ultimately caught by mischief.

And that outbreak of war, like a devil, is easy to raise but difficult to lay and subdue.

Take pity on your morally and politically ailing and demoralized forces and civil population fed up with your interminable and insatiable love for blood.

But if you are not ready to heed our love for peace and bent on bringing havoc to your country and the region,

And consider our patience as weakness or cowardice, which it is not,

Then listen! you will come to grief when we respond but responsibility thereof will rest only at your shoulders.

So, step back, express a remorse over what you have done, seek forgiveness and behave as a normal human being.

Taken with edition and addition from FB wall of Prof Fazal Hanan

سعودی عرب، پاکستان اور ہندوستان

سعودی عرب، پاکستان اور ہندوستان

طاہر علی خان

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ پاکستان میں سعودی عرب نے پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ اس کے بعد مگر ان کے دورہ ہندوستان میں سرکاری شعبے میں 28 ارب ڈالر کے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط سمیت سعودی عرب جنرل انوسمنٹ اتھارٹی نے ہندوستان کے نجی شعبے کے ساتھ اربوں ڈالرز کے 11 مزید مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ شہزادہ محمد نے ہندوستان میں ایک تقریب میں یہ بھی کہا کہ اگلے دوسالوں میں انہیں سعودی عرب کی طرف سے ہندوستان میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔

یاد رہے ہندوستان اور سعودی عرب کے باہمی تجارت کا حجم 18۔ 2017 میں تقریباً 28 ارب ڈالر تھا جبکہ سعودی عرب ہندوستان کا چوتھا بڑا تجارتی پارٹنر بھی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تجارت کا حجم محض 3.4 ارب ڈالر ہے۔ 2010 میں یہ حجم 4 ارب ڈالر تھا۔ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم پچھلے مالی سال میں صرف 17.4 ملین ڈالر تھا۔

شہزادہ محمد نے دورے کے دوران نہ صرف ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا بڑا بھائی قرار دیا بلکہ ان کی درخواست پر ہندوستان کا حج کوٹہ دو لاکھ تک بڑھانے اور سعودی عرب کی جیلوں میں قید تقریباً 900 ہندوستانیوں کو رہا کرنے کا اعلان بھی کردیا۔

ہمارے ہاں عام خیال ہے کہ پاکستان کو اہم گردانتے ہوئے ہی ولی عہد شہزادہ محمد نے خود کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر قرار دیا جبکہ ہمارے وزیراعظم کی کرشماتی شخصیت ہی کی وجہ سے وہ پاکستان کا حج کوٹہ بڑھانے اور 2000 پاکستانیوں کو قید سے رہا کرنے پر آمادہ ہوئے تھے۔

کیا ہندوستان اور اس کے وزیراعظم نریندر مودی کو اتنی زیادہ اہمیت دینے کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اورجناب محمد بن سلمان کی نظر میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ہندوستانی منصب مودی یا پاکستان اور ہندوستان یکساں مقام رکھتے ہیں؟

اور یہ اس کے باوجود کہ پاکستان ان کا ایک برادر اسلامی ملک اور ہندوستان مسلمانوں کے دشمن اسرائیل کا قریبی دوست، کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کا قاتل اور ”کافروں“ کاملک ہے ؟ اگرچہ ہمارے انقلابی یہ بات نہیں مانتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب ممالک اپنے بین الاقوامی تعلقات مذہبی رشتے نہیں بلکہ اپنے مفادات کی بنیاد پر بناتے اور رکھتے ہیں۔ دوسرے ممالک ہماری طرح بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ نہیں ہوتے۔ جہاں سے بھی ان کو فائدہ ملتا ہو اس ملک یا ممالک سے راہ و رسم بڑھانا اور تجارت کرنا ان کے حکمران اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب نے تقریباً ہر تکلیف اور ضرورت کے وقت پاکستان کی مدد کی ہے اور وہاں موجود پاکستانی تارکین وطن ہر سال تقریباً 5 ارب ڈالرز کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں لیکن پاکستان نے بھی تقریباً ہر مسئلے پر ان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن نے سعودی عرب کی جدید تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا جبکہ پاکستانی فوج نے ان کی فوجی استعداد بڑھانے اور دفاع کو یقینی بنانے کے لیے خود کو وقف کیا ہوا ہے۔ یعنی اس تعلق میں دونوں کا ہی فائدہ تھا اور ہے اس لیے یہ برقرار رہا اور پروان چڑھتا رہا۔ اس کی کوئی دوسری وجہ نہیں۔

تاہم پاکستان کے لیے ان کے دورہ ہندوستان میں خوشی کی خبر یہ ہے کہ ہندوستان کی خواہش کے باوجود شہزادہ محمد نے اپنے دورے کے دوران یا اختتام پر سرکاری اعلامیہ میں پاکستان یا اس کی کسی تنظیم کو پلوامہ حملے میں موردالزام ٹھہرانے سے اجتناب برتا۔ اس کے برعکس اعلامیہ میں مودی نے ان کے ساتھ مان لیا کہ

”The two sides stressed the importance of regional stability and good neighbouring relations۔ “

یعنی دونوں ملکوں نے علاقائی استحکام اور اچھے پڑوسی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم مودی جس انداز میں پاکستان کے خلاف بولتے ہیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اعلامیہ پر دستخط ان کے لیے یقیناً ایک سخت مشکل اور ناخوشگوار فیصلہ ہوا ہوگا۔

Uncalled for

Rulers and leaders of a nation must be very cateful in the choice and use of words while talking especially when they are speakong at foreign soil.

Weaknessesanf shortcomings of the nation and its people and parties are not supposed to be told. It is not truth. It is rather stupidity.

Why shouldn’t IK fail?

Failure of IK and PTI will weaken belief in positive change through democracy.

It will again mean reversion to age-old twoparty system.

It will disappoint the youth who will invariably then become inclined towards militants and extremists.

%d bloggers like this: