An Appeal to Chinese

An Appeal to Chinese

By Tahir Ali Khan
It was agonizing. There were fewer people than before. All of them were scary and in a hurry. They had to be for they feared they might fall victim to the deadly Corona virus.

The sight and the concern for the future were distressing. I was about to weep and began sobbing. Then I tried to control myself thinking of the people around me. But I just couldn’t hold my tears from rolling down my cheeks.

I was in the mosque for Friday prayers. The prayer leader quickly wrapped up the sermon and the subsequent prayer. Earlier, he had asked the people to do ablutions at home, offer the traditional Sunnah prayers at home and just reach to the mosque for obligatory prayer. He then prayed to Allah, besides other things, to eradicate this menace of Corona Virus quickly and completely.

The people the4n left quickly to offer the remaining Sunnah and optional prayer at home.

I wept because the mosques are on the verge of being closed and we may not be able to attend congregational prayers at these Homes of Allah the Almighty; even the Sacred Mosque at Makkah and the Mosque of the Prophet Muhammad PBUH have been shut down for prayers; so do churches, Mandirs, shrines and religious places of other beliefs; Markets, parks and roads are almost empty; Schools and colleges are closed; There is no or less social interaction; We are mostly confined to homes.

But there is more to it.

The entire world has been hit hard by the virus. Thousands have died and hundreds of thousands are in danger. Billions have been confined to homes. World economy is in a shambles. Hundreds of millions are finding it hard to cater to their families in wake of lockdowns and the resultant joblessness and pricehike. Billions may die of hunger in coming months if the virus attack continues.

The world is fighting and trying hard to contain the deadly pandemic. All have to. There is just no other option. We all do. Sooner or later, we will win (If Allaah wills) but the entire world needs to ponder and decide: will it be the last time that the virus played havoc with us? or will it strike back? Will we be on the defensive and trying to cure the patients after being hit by the pandemic or need to be aggressive in our approach to stop the menace from occurring again?

It is here that I want to say something to our brothers in China and other nations who, for their culinary habits, have been playing havoc with the world by becoming the origin of the virus.

You have all rights to eat whatever you like. So, none can force you to eat or not to eat this or that thing. We can only make a humble request. And let me make one. Hope you will accept it in the best interest of your nation and the entire world.

Just AVOID EATING RATS, MICE, BATs, DOGs, PIGS and other animals who are believed to have been the main sources of this and other deadly viruses in the past.
Kindly reconsider your culinary habits, stop eating the dangerous virus-containing and bad-smelling animals and shift to vegetables.

And if you like eating flesh, just move on to other non-dangerous animals like goats, rams and buffalos etc.

We all need to have Empathy. Just think of the deadly effects the eating of such deadly animals has caused to the world. Could we hope you all will put yourselves in our shoes and have mercy on us all living in the world that we share with you? Could you please promise that you will never eat these animals again?

ربُّ العالمین کے در پر ۔۔۔۔ (1)

ربُّ العالمین کے در پر ۔۔۔۔ (1)

طاہر علی خان

حرمین شریفین کی زیارت ہر مسلم مرد وعورت کی آرزو ہوتی ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا، ہمارے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئ جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی رہی۔

جس کسی کے بارے بھی ہمیں معلوم ہوجاتا کہ وہاں جارہا/رہی ہے، اسے بلاوے کےلیے نوافل، خصوصی دعاؤں اور حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر درود وسلام پہنچانے کی التجا کرنے ضرور جاتا۔ وہاں سے واپس آنے والوں کے استقبال کےلیے بھی ائرپورٹ یا خوش آمدید کہنے گھر جاتا۔

تاجدارِحرم والی مشہور قوالی جب بھی سنتا تو اکثر آنکھیں بھر آتیں اور دل سے بلاوے کی دعا نکلتی۔ چند ایک نعت ہائے مبارک کے سننے پر بھی یہی حال ہوتا رہا۔

ہم بھی بڑے عرصے سے متمنی تھے لیکن وسائل بھی کم تھے اور کوشش بھی کمزور اس لیے جلد جانے کی آرزو پوری ہونے کی امید نہ تھی۔کئ بار پیسے ہاتھ میں آئے مگر کبھی ایک تو کبھی دوسری مصروفیت، مسئلے اور ڈیوٹی کے تقاضے جانے میں مانع رہے۔

یہ اقرار کرنے میں کوئ حرج نہیں کہ اگرکسی مقصد کے حصول کےلیے تڑپ اور خواہش کی شدت کا عملی پتہ اس کے لیے کی جانے والی کوششوں اور تیاریوں سے چلتا ہے تو یہی سچ ہے کہ کماحقہ تڑپ اور تیاری کا فقدان تھا۔ البتہ اتنا کیا تھا کہ اپنا، رفیقہ حیات اور دیگر اہل وعیال کا پاسپورٹ پہلے سے بنالیا تھا۔

مگر اللہ رحیم و کریم ہے اور اس کی رحمت سے مایوسی مسلم کو زیبا نہیں اس لیے یقین تھا کہ جلد یا بدیر بلاوا آجائے گا۔ لوگ بھی اکثر بتاتے ہیں اور وہاں کچھ ایسے غریب افراد سے گفتگو کرنے کے بعد جن کے آنے کا بندوبست اللہ نے کسی اور کے ذریعے کردیا، میرا بھی خیال ہے کہ وہاں جانا وسائل سے زیادہ دل کی تڑپ اور لگن پر منحصر ہے۔

بہت سے صاحب مال وہاں جانہیں پاتے جبکہ وہاں جانے کی شدید خواہش، کوشش اور دعا کرنے والے بلا لیے جاتے ہیں۔

اگر آپ بھی جانے کے خوہشمند ہیں تو خود بھی دعائیں کریں، نفل و تہجد پڑھیں، پیسے جمع کرنا شروع کریں، وہاں جانے والے یا واپس آئے لوگوں سے دعائیں لیں، درود شریف کثرت سے پڑھیں، صدقہ دیا کریں۔ امید ہے آپ جلدی بلالیے جائیں گے۔

اس دوران ایک معمولی سرجری بھی ہوئ اور ابھی پوری طرح بحالی بھی نہیں ہوئ تھی کہ جانے کا مکمل ارادہ کرلیا۔ سوچا بہت لیٹ ہوگئے ہیں اور گھر میں کسی کو بتائے بغیر اپنے اور رفیقہ حیات کےلیے عمرے کا داخلہ کردیا کہ وہ بیچاری تو عرصے سے اس مقصد کےلیے راتوں کو تہجد پڑھتی اور لمبی لمبی دعائیں کر رہی تھی۔

یہ فروری کی تین تاریخ اور پیر کا دن تھا۔ دس فروری بروز پیر دن گیارہ بجے اسلام آباد ائرپورٹ سے روانگی طے پائی۔

اب چھٹی لینے کا مرحلہ درپیش تھا۔ محکمے کو این او سی کےلیے  پہلے لکھا تھا لیکن کہاگیا جہاز کے ٹکٹ اور فلائیٹ شیڈول کے ساتھ رابطہ کریں۔

چنانچہ اگلے دن صبح سویرےاین او سی اور چھٹی کےلیے کاغذات بھیجے۔ بدھ پانچ فروری کو یوم کشمیر کی چھٹی تھی۔ درمیان میں صرف جمعرات اور جمعہ کےدن تھے کہ پھر ہفتہ اور اتوار چھٹی تھی جبکہ پرواز پیر کو تھی۔ وقت کم تھا مگر محکمہ کے ملازمین اور افسران، اللہ انہیں اجر عظیم دے، نے کمال سرعت سے جمعے کو بعد از دوپہر این او سی اور چھٹی کا حکم نامہ جاری کردیا۔

یہاں معمول ہے کہ جو بھی حج یا عمرے پہ جاتا ہے یا وہاں سے واپس آتا ہے تو سب دوست و رشتہ دار اور محلے دار ان کو الوداع یا خوش آمدید کہنے آتے ہیں۔ میں نے سکول اور محکمے کے ساتھیوں، قریبی رشتہ داروں اور دو تین دوستوں کے سوا کسی کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ فیس بک وغیر پر بھی پوسٹ نہیں کیا۔ وجہ بس ریاکاری سے پرہیز، اخفاء کا ارادہ اور لوگوں کو تکلیف اور خرچے سے بچانے کی خواہش تھی۔ شاید روانگی میں تاخیر کا خدشہ بھی دامن گیر تھا۔

اپنا تو یہ حال تھا کہ جو بغیر بتائے حرمین شریفین چلا جاتا تو بہت دکھ ملتا کہ اس نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کی یاددہانی کے شرف سے محروم رکھا۔ اب میں نے بوجوہ روانگی خفیہ رکھی تو مصمم ارادہ کیا کہ سب دوستوں، رشتہ دادوں، ہم پیشہ ساتھیوں، گاؤں والوں اور مردہ و زندہ سب کےلیے دعا کروں گا چاہے کسی نے کہا ہے یا نہیں کہاہے۔

ایک اور پکا ارادہ حرمین شریفین سے پوسٹیں اور تصاویر بھی شیئر نہ کرنے کا تھا تاکہ وہاں اذکار، طواف اور عبادات پر کماحقہ توجہ دی جاسکے۔

روانگی سے پہلے احرام اور جوتے خریدے مگر ریال بوجوہ خریدنے کا موقع نہ ملا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ یہاں پاکستان میں ریال چالیس روپے میں مل رہا تھا جبکہ مجھے وہاں سعودیہ میں  فی ریال ساڑھے تریالیس روپے ادا کرنے پڑے۔

روانگی سے پہلے رات گھر خاصی گہماگہمی تھی۔ قریبی رشتہ دار جمع ہوئے تھے۔ ہر ایک کی التجا تھی انہیں خصوصی دعا میں یاد رکھا جائے۔ چند دوستوں نے بھی اپنی مالی پریشانیوں، روحانی و جسمانی بیماریوں سے چھٹکارے اور حرمین شریفین کی زیارت کےلیے نوافل کی استدعا کی۔ ان سے وعدہ کیا۔

(جاری ہے)

%d bloggers like this: