ربُّ العالمین کے در پر ۔۔۔۔ (1)

ربُّ العالمین کے در پر ۔۔۔۔ (1)

طاہر علی خان

حرمین شریفین کی زیارت ہر مسلم مرد وعورت کی آرزو ہوتی ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا، ہمارے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئ جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی رہی۔

جس کسی کے بارے بھی ہمیں معلوم ہوجاتا کہ وہاں جارہا/رہی ہے، اسے بلاوے کےلیے نوافل، خصوصی دعاؤں اور حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر درود وسلام پہنچانے کی التجا کرنے ضرور جاتا۔ وہاں سے واپس آنے والوں کے استقبال کےلیے بھی ائرپورٹ یا خوش آمدید کہنے گھر جاتا۔

تاجدارِحرم والی مشہور قوالی جب بھی سنتا تو اکثر آنکھیں بھر آتیں اور دل سے بلاوے کی دعا نکلتی۔ چند ایک نعت ہائے مبارک کے سننے پر بھی یہی حال ہوتا رہا۔

ہم بھی بڑے عرصے سے متمنی تھے لیکن وسائل بھی کم تھے اور کوشش بھی کمزور اس لیے جلد جانے کی آرزو پوری ہونے کی امید نہ تھی۔کئ بار پیسے ہاتھ میں آئے مگر کبھی ایک تو کبھی دوسری مصروفیت، مسئلے اور ڈیوٹی کے تقاضے جانے میں مانع رہے۔

یہ اقرار کرنے میں کوئ حرج نہیں کہ اگرکسی مقصد کے حصول کےلیے تڑپ اور خواہش کی شدت کا عملی پتہ اس کے لیے کی جانے والی کوششوں اور تیاریوں سے چلتا ہے تو یہی سچ ہے کہ کماحقہ تڑپ اور تیاری کا فقدان تھا۔ البتہ اتنا کیا تھا کہ اپنا، رفیقہ حیات اور دیگر اہل وعیال کا پاسپورٹ پہلے سے بنالیا تھا۔

مگر اللہ رحیم و کریم ہے اور اس کی رحمت سے مایوسی مسلم کو زیبا نہیں اس لیے یقین تھا کہ جلد یا بدیر بلاوا آجائے گا۔ لوگ بھی اکثر بتاتے ہیں اور وہاں کچھ ایسے غریب افراد سے گفتگو کرنے کے بعد جن کے آنے کا بندوبست اللہ نے کسی اور کے ذریعے کردیا، میرا بھی خیال ہے کہ وہاں جانا وسائل سے زیادہ دل کی تڑپ اور لگن پر منحصر ہے۔

بہت سے صاحب مال وہاں جانہیں پاتے جبکہ وہاں جانے کی شدید خواہش، کوشش اور دعا کرنے والے بلا لیے جاتے ہیں۔

اگر آپ بھی جانے کے خوہشمند ہیں تو خود بھی دعائیں کریں، نفل و تہجد پڑھیں، پیسے جمع کرنا شروع کریں، وہاں جانے والے یا واپس آئے لوگوں سے دعائیں لیں، درود شریف کثرت سے پڑھیں، صدقہ دیا کریں۔ امید ہے آپ جلدی بلالیے جائیں گے۔

اس دوران ایک معمولی سرجری بھی ہوئ اور ابھی پوری طرح بحالی بھی نہیں ہوئ تھی کہ جانے کا مکمل ارادہ کرلیا۔ سوچا بہت لیٹ ہوگئے ہیں اور گھر میں کسی کو بتائے بغیر اپنے اور رفیقہ حیات کےلیے عمرے کا داخلہ کردیا کہ وہ بیچاری تو عرصے سے اس مقصد کےلیے راتوں کو تہجد پڑھتی اور لمبی لمبی دعائیں کر رہی تھی۔

یہ فروری کی تین تاریخ اور پیر کا دن تھا۔ دس فروری بروز پیر دن گیارہ بجے اسلام آباد ائرپورٹ سے روانگی طے پائی۔

اب چھٹی لینے کا مرحلہ درپیش تھا۔ محکمے کو این او سی کےلیے  پہلے لکھا تھا لیکن کہاگیا جہاز کے ٹکٹ اور فلائیٹ شیڈول کے ساتھ رابطہ کریں۔

چنانچہ اگلے دن صبح سویرےاین او سی اور چھٹی کےلیے کاغذات بھیجے۔ بدھ پانچ فروری کو یوم کشمیر کی چھٹی تھی۔ درمیان میں صرف جمعرات اور جمعہ کےدن تھے کہ پھر ہفتہ اور اتوار چھٹی تھی جبکہ پرواز پیر کو تھی۔ وقت کم تھا مگر محکمہ کے ملازمین اور افسران، اللہ انہیں اجر عظیم دے، نے کمال سرعت سے جمعے کو بعد از دوپہر این او سی اور چھٹی کا حکم نامہ جاری کردیا۔

یہاں معمول ہے کہ جو بھی حج یا عمرے پہ جاتا ہے یا وہاں سے واپس آتا ہے تو سب دوست و رشتہ دار اور محلے دار ان کو الوداع یا خوش آمدید کہنے آتے ہیں۔ میں نے سکول اور محکمے کے ساتھیوں، قریبی رشتہ داروں اور دو تین دوستوں کے سوا کسی کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ فیس بک وغیر پر بھی پوسٹ نہیں کیا۔ وجہ بس ریاکاری سے پرہیز، اخفاء کا ارادہ اور لوگوں کو تکلیف اور خرچے سے بچانے کی خواہش تھی۔ شاید روانگی میں تاخیر کا خدشہ بھی دامن گیر تھا۔

اپنا تو یہ حال تھا کہ جو بغیر بتائے حرمین شریفین چلا جاتا تو بہت دکھ ملتا کہ اس نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کی یاددہانی کے شرف سے محروم رکھا۔ اب میں نے بوجوہ روانگی خفیہ رکھی تو مصمم ارادہ کیا کہ سب دوستوں، رشتہ دادوں، ہم پیشہ ساتھیوں، گاؤں والوں اور مردہ و زندہ سب کےلیے دعا کروں گا چاہے کسی نے کہا ہے یا نہیں کہاہے۔

ایک اور پکا ارادہ حرمین شریفین سے پوسٹیں اور تصاویر بھی شیئر نہ کرنے کا تھا تاکہ وہاں اذکار، طواف اور عبادات پر کماحقہ توجہ دی جاسکے۔

روانگی سے پہلے احرام اور جوتے خریدے مگر ریال بوجوہ خریدنے کا موقع نہ ملا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ یہاں پاکستان میں ریال چالیس روپے میں مل رہا تھا جبکہ مجھے وہاں سعودیہ میں  فی ریال ساڑھے تریالیس روپے ادا کرنے پڑے۔

روانگی سے پہلے رات گھر خاصی گہماگہمی تھی۔ قریبی رشتہ دار جمع ہوئے تھے۔ ہر ایک کی التجا تھی انہیں خصوصی دعا میں یاد رکھا جائے۔ چند دوستوں نے بھی اپنی مالی پریشانیوں، روحانی و جسمانی بیماریوں سے چھٹکارے اور حرمین شریفین کی زیارت کےلیے نوافل کی استدعا کی۔ ان سے وعدہ کیا۔

(جاری ہے)

About Tahir Ali Khan (Official)
I am an academic, columnist, and a social worker.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: