ڈیلٹا کا خطرہ

روزنامہ آج۔ 2021-07-30

ڈیلٹا کا خطرہ
“””‘””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””””
طاہر علی خان

دنیا بھر میں کرونا کی ایک نئ شکل ڈیلٹا ویرئنٹ(ڈیلٹا متغیر) کے نام سے سامنے آئ ہے جو زیادہ متعدی اور تباہ کن ہے۔بھارت میں تباہی پھیلانے والے ڈیلٹا نے پاکستان کے صوبہ سندھ سمیت ملک کے دیگر خطوں میں بھی خطرے کا الارم بجانا شروع کردیا ہے۔ تو کیا حالات سنگین ہو جائیں گے، پہلے سے زیادہ لوگ بیمار اور مر جائیں گے؟ کیا ڈیلٹا کے خلاف قدرتی مدافعت اور حفاظتی ٹیکے موثر ہوں گے؟ اور ہم کیا کر سکتے ہیں؟

ویکسین لگانے کی کم شرح اور احتیاطی تدابیر کی بڑھتی ہوئ خلاف ورزیوں کے بعد اور ڈیلٹا کے ظہور کے بعد حالیہ دنوں میں کرونا کے مثبت کیسوں کی شرح میں کئ مہینے بعد اچانک اضافہ دیکھا گیا ہے۔

اس ہفتے پاکستان ان تیس ملکوں میں شامل ہوا جن میں دس لاکھ سے زیادہ افراد کرونا وائرس سے متاثر ہیں۔ روزانہ رپورٹ شدہ کیسوں کی تعداد ملک بھر میں چار ہزار سے زیادہ ہوگئ ہے۔ کراچی میں 100 فیصد کورونا کیسز میں ڈیلٹا رپورٹ ہورہا ہے ۔

پاکستان میں جس طرح کرونا ایس او پیز کی خلاف ورزیاں ہورہی ہیں اور اکثر شہری ویکسین لگوانے میں جیسی تاخیر کررہے ہیں اس کے پیش نظر خدشہ ہے کہ وطنِ عزیز میں بھی کرونا وبا کی صورتحال خطرناک اور ناقابل برداشت ہوجائے گی، جلد ملک میں دوبارہ لاک ڈاون کا اعلان کرنا ہوگا اور تعلیمی اداروں، تجارتی سرگرمیوں اور آمد ورفت پر 2020 جیسی پابندیاں پھر لاگو کرنا ہوں گی۔

وزیر اعظم عمران خان نے بھی اس مہینے کے شروع میں کرونا کی چوتھی لہر سے اور بالخصوص ڈیلٹا سے عوام کو خبردار کیا تھا اور انہیں ویکسین لگوانے، بار بار ہاتھ دھونے، ماسک پہننے اور  سماجی فاصلہ اختیار کرنے کا کہا تھا۔ ۔

کرونا کی چوتھی لہر ابھی پوری طرح سے نہیں آئی اور اگر آگئی تو خدانخواستہ ملک بھارت جیسی صورتحال کا سامنا کرسکتا ہے اور یہ صحت کےنظام پر بڑا بوجھ ڈال دے گا۔

حفظان صحت کے اصولوں سے عدم واقفیت یا لاپرواہی، میل جول میں بے احتیاطی، وبا کی روک تھام کے لیے احتیاطی تدابیر کے بجائے جھاڑ پھونک اور غیر شرعی توکل اختیار کرنے، ملک میں علاج معالجے اور تشخیصی سہولتوں کےفقدان اور ویکسین لگوانے میں تامل و تاخیر نے وبا کے خطرے میں مزید اضافہ کردیا ہے۔

جب ایک طرف شعور و احتیاط کی کمی ہے اور دوسری طرف سازشی نظریات اور خام تصورِ توکل عوام کو احتیاط سے روک رہے ہوں تو پھر، خاکم بدہن، ہمیں کسی بڑے سانحے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

ڈیلٹا وائرس اب تک نوےممالک میں پھیل چکا ہے۔ جولائ میں ڈیلٹا ویرئینٹ امریکا، برطانیہ، جرمنی، آسٹریلیا، بھارت اور دیگر ممالک میں کورونا کی ایک غالب قسم بن کر سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر برطانیہ میں ڈیلٹا ویرئینٹ کے نئے کیسز عام کورونا کے مقابلے میں 97 فیصد سے زائد ہیں اور امریکہ میں بھی اب ڈیلٹا کی وجہ سے کرونا انفیکشن اور اموات زیادہ ہوگئ ہیں۔ امریکا میں کووڈ کے نئے کیسز میں ڈیلٹا سے متاثر افراد کی تعداد 83 فیصد ہے۔

ڈیلٹا متغیر کرونا وائرس کا زیادہ خطرناک اور مہلک قسم ہے جو تیزی سے پھیلتا اور دوسری اقسام کی نسبت زیادہ لمبے عرصے تک جسم میں موجود رہتا ہے۔

یہ2019 میں چین میں پہلی بار سامنے آنے والے کوویڈ-19کے مقابلے میں ساٹھ فیصد زیادہ متعدی ہے۔ اس میں بھی کورونا کی طرح مستقل کھانسی، سردرد، بخار اور گلے کی سوزش کی علامات ہوتی ہیں تاہم بعض مریضوں میں سردرد، گلے کی سوجن، نزلہ اور بخار کی علامات زیادہ شدید ہوتی ہیں۔

یہ 2019 والے وائرس سے تقریبا ایک ہزار گنا زیادہ وائرل لوڈ پیدا کرتا ہے اور جتنا لوڈ زیادہ ہوتا ہے اتنی بیماری کی سختیاں اور اموات زیادہ ہوجاتی ہیں۔

خطرے کی بات یہ ہے کہ ڈیلٹا ویکسین لگوانے والوں کو بھی نہیں بخش رہی ہے اور ویکسین کی پہلی خوراک بطور خاص اس کا راستہ روکنے کے قابل نہیں۔ تاہم ویکسین نہ لگوانے والوں پر حملہ شدید تر ہوتا ہے جبکہ ایک یا دو ویکسین والے شدید حملے سے محفوظ ہوتے ہیں۔

کراچی کے ہسپتالوں میں داخل مریضوں پرکی گئ ایک تحقیق کے مطابق 76 فی صد افراد کو پہلی ویکسین اور 24 فی صد کو دوسری بھی لگی تھی۔ تاہم ایک ویکسین لگوانے والے مریضوں پر دو ویکسین لگوانے والوں کے مقابلے میں مرض کی شدت زیادہ تھی۔

اب تک موڈرنا، فائزر، جانسن اور جانسن اور نوووایکس کرونا کے تمام معلوم و نامعلوم اقسام سے محفوظ رکھنے میں موثر رہی ہیں۔

لیبارٹری تحقیق سے پتا چلا گاما متغیر، جس سے ڈیلٹا کا تعلق ہے، کے خلاف پہلے سے لگا ہوا ایک ویکسین کم موثر ہے۔ تاہم افادیت میں کمی کا مطلب بالکل غیر موثر ہونا نہیں جیسے انفلوئنزا کی ویکسین بیماری سے بچانے میں صرف 30 سے 50 فیصد موثر ہے لیکن آئی سی یو میں جانے سے روکنے میں 80 فیصد کارآمد ہے۔ یعنی مکمل ویکسین لگوانے والوں میں بیماری یا اس کے شدید حملے سے بچ جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

تاریخ یہی سکھاتی ہے کہ کسی وبا کے بعد کے مرحلے پہلے مرحلے سے اکثر زیادہ تباہ کن ثابت ہوئے ہیں۔ مثلاً پانچوں انفلوئنزا۔

انیس سو نواسی میں میں شروع ہونے والا انفلوئنزا دوسرے سال برطانیہ میں دگنا مہلک تھا اور بہت سے ممالک میں تیسرے سال اور بھی مہلک تھا۔ 1918 ء کی وبا میں پہلی لہر ہلکی اور کم متعدی تھی مگر پھر تباہ کن دوسری لہر آگئی۔ 1957 میں انفلوئنزا سے اموات میں نمایاں اضافہ ہوا لیکن 1960 میں، ویکسین تیار ہونے کے بعد اور اس کی وجہ سے اکثر لوگوں کے محفوظ ہوجانے کے باوجود، شرح اموات مزید بڑھ گئی تھی۔ 1968 میں امریکہ میں پہلے سال زیادہ اموات ہوئیں لیکن یورپ میں ویکسین تیار اور استعمال ہونے کے باوجود دوسرا سال زیادہ مہلک ثابت ہوا۔2009 میں بھی ایسا ہوا۔

کسی سانحے سے بچنے کےلیے ویکسین لگانے کاعمل تیز کرنے اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔

چین میں ایک ارب، امریکہ میں تیس کروڑ، جرمنی میں آدھی آبادی اور بھوٹان میں بھی ایک ہفتے میں نوے فیصد بالغ آبادی کو ویکسین لگادی گئ۔

اگرچہ پاکستان میں فروری میں لازمی ویکسین لگوانے کا کام شروع ہوا ۔ حکومت کا ہدف سات کروڑ افراد کو ویکسین لگانے کا تھا مگر اب تک صرف پچاس لاکھ افراد دونوں لازمی ویکسین جبکہ دو کروڑ ایک ویکسین لگوا چکے ہیں۔ اب حکومت دسمبر 2021 تک ملک کی8.5کروڑ آبادی کو ویکسین لگوانا چاہتی ہے۔

کل اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کرونا ریلیف پیکج کی 352 ارب روپے بقایا رقم سے ویکسین خریدنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

کرونا کے خلاف مدافعتی نظام مضبوط کرنے اور اس کے شدید حملے اور ہسپتال سے بچنے کےلیے مکمل ویکسین لگوانا بہترین تحفظ ہے تاہم ماہرین کے مطابق جو افراد ویکسین لگوا لیں انہیں بھی ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ برقرار رکھنے سے پہلوتہی نہیں کرنی چاہیے خصوصاً جب کوئ اندرونی پروگرام ہو اور وہاں ایسے لوگ ہوں جنہوں نے ویکسین نہیں لگوائ ہے۔

کورونا وائرس سے نمٹنے کی حکمت عملی کےلیے شعور، عزم، احتیاطی تدابیر، آبادی کی اکثریت کو ویکسین لگوانا اورمشترکہ کوششیں ضروری ہیں مگر ہمارے لائحۂ عمل میں یہ سب عناصرتاحال مفقود ہیں۔ ایک ایک لمحہ قیمتی ہے۔ کہیں دیر نہ ہوجائے۔ حکومت احتیاطی تدابی پر عمل کےلیے میڈیا، اساتذہ، علماء، سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں اور غیر سیاسی گروہوں اور شخصیات سے مدد لے۔ تاہم عوام کو ذخیرہ اندوزوں، منافع خوروں اور مہنگائی سے بچانے کےلیے ٹھوس منصوبہ بنائے۔ اور قارئین آپ خود احتیاط کرنا چاہیں گے یا پھر ہسپتال یا قرنطینہ میں علاج، انتخاب آپ کا ہے۔

https://www.dailyaaj.com.pk/columnisit/tahir-ali-khan

Noor Muqaddam Case and Victim Blaming

Noor Muqaddam case and Victim Blaming

Tahir Ali Khan)
29-07-2021

A friend with a legal mind today posted this message in a group.

“Theory of crime says that
1)criminals have inherited the desire to commit crime.Its in their genes
2)If someone gets an opportunity to commit a crime ,he/she will do it.

This (Noor Muqaddam) case lies in the second category. If the victim had left such issues as marriage, proposal and its rejection or acceptance to parents as is normally done and as Sharia advises us as such, she might not have have met this fate.”

My response to the post was the following.

“This is called victimblaming. It tantamounts to creating excuses for the criminal and his criminal.

No criminal can escape punishment over the excuse that the victim gave him an opportunity and no victim can be held responsible for his/her murder for that matter.

It is a planned, cold-blooded murder, the murderer must be punished and we must support his conviction and eventual execution

ایران، طالبان اور افغانستان

روزنامہ آج۔ 2021-07-26

ایران، افغانستان اور طالبان
طاہر علی خان
افغانستان سے امریکہ کے انخلاء کے بعد جو نئ صورتحال سامنے آئ ہے اس میں ایران اور طالبان دونوں اپنی تلخ ماضی کو دفن کرنے اور نئ شروعات کرنے کےلیے آمادہ نظر آرہے ہیں۔

افغان طالبان اور دیگر افغان گروہ ایران میں مذاکرات کررہے ہیں

ایران اور طالبان دونوں ماضی میں اپنے اپنے مسلک سے وابستگی کے زیراثر ایک دوسرے کے خلاف اقدامات اٹھاتے رہے ہیں جن سے دونوں کا نقصان بھی ہوا اور ان کے باہمی تعلقات سردمہری اور نفرت کا شکار رہے۔

مگر اب دونوں کو احساس ہو گیا ہے کہ اپنی ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا کر احترام، اعتماد اور مفاہمت کی بنیاد پر خوشگوار تعلقات قائم کریں۔ دونوں ماضی کی کدورتوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حقیقت پسندی اور اعتدال پسندی کی طرف آگئے ہیں۔ ایران ماضی میں طالبان کو سعودی عرب کا اتحادی اور اہل سنت کے انتہاپسند طبقہ فکر کا علمبردار سمجھتے ہوئے ان سے نالاں تھا لیکن اب وہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے۔ پہلے ایران کی ایما پر افغانستان میں ایران نواز شیعہ گروہ طالبان کے ساتھ کھلم کھلا برسرپیکار تھے تو اب یہ گروہ طالبان کے ساتھ مل رہے ہیں یا بغیر مزاحمت کے اپنے علاقے ان کے حوالے کررہے ہیں۔ ایران نے اگر افغانستان میں مداخلت، طالبان کی مخالفت اور وہاں شیعہ گروہوں کی مدد چھوڑ دی ہے تو طالبان کی موجودہ قیادت بھی ماضی کے مقابلے میں مخالف فرقوں، ہمسایہ ملکوں اور بین الاقوامی تقاضوں بارے زیادہ رواداری اور حساسیت دکھا رہے ہیں۔ وہ ماضی میں اہل تشیع بارے انتہاپسندی کا شکار تھے لیکن اب پچھلے دنوں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے خبر رساں ایجنسی تسنیم کو بتایا کہ ’ہم اپنے شیعہ بھائیوں کو یقین دلاتے ہیں کہ ان کے خلاف کسی قسم کا امتیازی سلوک نہیں برتا جائے گا، اور ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے پہلی طالبان حکومت کے قیام کے بعد ایران کے ساتھ غیر خوشگوار تعلقات کا ذمہ دار ملک میں خانہ جنگی اور ناتجربہ کاری کو قرار دیا۔

یاد رہے اگست 1988 میں مزار شریف میں ایران نواز کمانڈروں نے طالبان کے سیکڑوں اہلکار مار دیئے۔ اس کے بعد جب مزار شریف پر طالبان کا قبضہ ہوا تو انہوں نے ایرانی قونصلیٹ پر دھاوا بول کر دس ایرانی سفارتکاروں اور ایک ایرانی صحافی سمیت شہر میں اہل تشیع کے سیکڑوں افراد قتل کر دئیے اور ایران نواز حزب وحدت کے سربراہ کو مبینہ طور پر ہیلی کاپٹر سے نیچے گراکر مارا تھا۔ تب ایران نے طالبان کو دھمکانے یا عملی جنگ کےلیے 70 ہزار فوجی افغانستان کے سرحد پر مجتمع کیے۔ طالبان نے اس پر افغانستان میں کجکی ڈیم سے ایران کو پانی کی سپلائ کم کر دی جس سے ایران کو بڑا نقصان ہوا۔ واضح رہےافغانستان سے ایران کی طرف دو بڑے دریا دریائے ہلمند اور ہری رڈ بہتے ہیں۔ یہاں سے پانی کم یا بند ہو جائے تو نیچے رہنے والی ایرانی برادریوں کو بہت زیادہ نقصان پہنچتا ہے۔

اگرچہ ایران افغانستان میں امریکی موجودگی کا مخالف تھا اور اسے اپنےلیے خطرہ سمجھتا تھا مگر طالبان کے ظہور اور ان کے دور حکومت میں ایران کے ساتھ افغانستان کے تعلقات غیر خوشگوار تھے چنانچہ ایران نے طالبان کے خلاف اکتوبر 2001 میں امریکی کارروائ کی مزاحمت نہیں کی۔ مگر پھر جب امریکہ کے خلاف طالبان کی مزاحمت مزاحمت مضبوط ہوگئ اور روس اور چین بھی ان کی پشت پناہی کرنے لگے تو مشترکہ دشمن امریکہ کے خلاف رفتہ رفتہ سب قریب آتے گئے۔ ماضی میں افغان حکومت، امریکہ اور نیٹو کئ مرتبہ ایران اور اس کے پاسداران انقلاب پر الزام لگاچکے ہیں کہ وہ طالبان کو مالی اور فوجی مدد فراہم کررہے ہیں۔

ایران کو خدشہ ہے افغانستان میں افغان گروہوں کے درمیان مفاہمت نہ ہوسکی اور وہاں خانہ جنگی شروع ہوئ تو ایران کی طرف مہاجرین کا سیلاب آئے گا۔ دوسرا خدشہ یہ ہے کہ طالبان کی واپسی کے بعد داعش پھر افغانستان میں مضبوط ہوجائے گی جو ایران کےلیے پریشانی کا باعث ہوگی۔ ایران طالبان کو زمینی حقیقت اور انہیں خانہ جنگی یا داعش کے مقابلے میں کم تر برائ سمجھتا ہے۔ ایک طرف چنانچہ یہ طالبان سے تعلقات بہتر بنانے اور دوسری طرف افغان مصالحت کےلیے کوششیں کررہا ہے۔ تاکہ ان دونوں منفی اثرات سے خود کو ںچا سکے۔

ایران افغان تصفیہ کےلیے جو دوڑ دھوپ کررہا ہے پاکستان،چین اور روس بھی اس کے حامی ہیں۔ تہران میں 9 جولائ کو ہونے والے بین الافغان مذاکرات کے بعد مشترکہ اعلامیہ میں فریقین نے اتفاق کیا کہ افغان مسئلے کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات ہیں، پرامن سیاسی حل اور اسلامی ریاست کے قیام کےلیے مذاکرات جاری رہیں گے۔

ایران نے چا پانچ سال قبل افغان فریقین کے مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کی تھی جس کےلیے افغان حکومت نے درخواست کی تھی۔ طالبان کے امیر ملا اختر منصور شاید ایران اسی مقصد کےلیے گئے تھے اور پاکستان واپس آتے ہوئے امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ مگر تب طالبان نے مگر افغان حکومت پر امریکی اثرورسوخ کے باعث مذاکرات سے معذوری ظاہر کردی۔ پھر جب امریکہ طالبان معاہدہ کے بعد افغانستان سے نکلنے کا اعلان کیا تو افغان گروہوں اور طالبان کے مذاکرات کی راہ ہموار ہو گئ۔ تب ایران نے افغانستان میں قیام امن کیلئے قومی حکومت کی تشکیل کا منصوبہ پیش کر دیا تھا لیکن امریکہ نے بین الافغان مذاکرات اور تصفیہ سے قبل طالبان سے براہ راست مذاکرات و معاہدہ کرکے اور بین الافغان مذاکرات سے پہلوتہی کرکے معاملہ خراب کردیا۔ مگر اب امریکہ یہ سوچ سوچ کر پریشان ہوتا رہے گا کہ اس کا مخالف ایران، جسے وہ گھیرنا اور پریشان رکھنا چاہتا تھا، اب افغانستان میں ایک اہم عامل بن گیا ہے۔

ایران اور افغانستان کے مابین 945 کلومیٹر سرحد ہے۔ ایران میں لاکھوں افغان مہاجرین قیام پذیر ہیں۔ اب ایران کی سرحد پر واقع کئ افغان اضلاع اور اہم گزرگاہوں پر طالبان کا قبضہ ہوگیا ہے۔

چین اور ایران دونوں امریکہ کے خلاف مشترکہ نفرت اور مفاد کےلئے ایک دوسرے کے قریب آئے ہیں۔ برسوں سے عائد امریکی پابندیوں نے ایران کو چین اور روس کی طرف دھکیل دیا ہے۔چین نے ایران کے ساتھ اگلے پچیس برسوں میں چارسو ارب ڈالرز کے منصوبے شروع کرنے کا معاہدہ بھی کیا۔ چین کے پاکستان اور طالبان کے ساتھ بھی اچھے مراسم ہیں۔ اس طرح چین کے تعلقات سے ایران کو فائدہ پہنچے گا۔
نئ صورتحال میں بھارت بھی ایران کے ذریعے طالبان سے راہ و رسم بڑھانا چاہتا ہے۔ لیکن ایران بہرحال بھارت کو سہولت دینے کےلیے چین اور پاکستان دونوں کو ناخوش کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

ان حقائق کے پیش نظر طالبان اور ایران کے باہمی تعلقات امکان ہے کہ خوشگوار رہیں گے بشرط یہ کہ ایران اور طالبان دونوں اپنے اپنے مسالک سے تعلق رکھنے والے انتہا پسندوں اور فائر برانڈ رہنماؤں کو کنٹرول کر سکیں۔

https://www.dailyaaj.com.pk/columnisit/tahir-ali-khan

%d bloggers like this: