امریکہ میں افغان پناہ گزین

https://www.dailyaaj.com.pk/

روزنامہ آج۔ 2021-11-12
امریکہ میں افغان پناہ گزین
طاہر علی خان

افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد غیر ملکی افواج اور سفارت کاروں کے ساتھ ہزاروں افغان شہری بھی امریکہ چلے گئےتھے۔ اگرچہ طالبان نہیں چاہتے تھے کوئ افغانی ملک چھوڑے اور انہوں نے سب کےلیے عام معافی کا اعلان بھی کیا اور جانے والوں کو اپنے ملک واپس آنے کی دعوت بھی دی مگر یہ لوگ بوجوہ نہیں آنا چاہتے اور اب امریکہ میں بھی ان پناہ گزینوں کو ان گنت مسائل کا سامنا ہے۔

امریکی محکمہ دفاع کے اہلکاروں کے مطابق ان کے انخلاء آپریشن میں امریکیوں، غیرملکی اتحادیوں اور افغانیوں سمیت تقریباً 125,000 افراد کو نکالا گیا اور اقوامِ متحدہ کی ایجنسی برائے پناہ گزین کا اندازہ ہے کہ پانچ لاکھ افغان 2021 کے اختتام تک افغانستان چھوڑنے کی کوشش کرسکتے ہیں۔

اب تک ستر ہزار سے زائد افغان امریکہ منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ ایک بڑی تعداد ہے اور امدادی گروہ اور ادارے انخلاء میں اتنی بڑی تعداد کی توقع کررہے تھے نہ اس کے لیے تیار تھے۔

یہ لوگ افغانستان سے امریکہ میں ایک شاندار زندگی اور سہانے مستقبل کی امید لے کر امریکہ گئے تھے۔ انخلاء کے دوران بھی انہیں بڑی تکالیف اٹھانا پڑیں لیکن وہاں بھی اکثر کو سکون اور عزت کی زندگی تاحال نصیب نہیں ہوسکی ہے۔

ان ستر ہزار افغانیوں میں سے چھپن ہزار افغانی، جن میں نصف بچے ہیں، تاحال عارضی طور پر امریکہ کے 8 فوجی اڈوں پر بیرکوں اور خیموں میں رہائش پذیر ہیں۔ یہ سب مستقل گھروں میں آباد ہونے کے منتظر ہیں تاہم سست امیگریشن و تصدیقی عمل، گھروں کی قلت، بے روزگاری اور باہر گذر اوقات کے لیے نقد رقم کی عدم موجودگی ان افغان پناہ گزینوں کے بڑے مسائل ہیں۔ رہائشی سہولیات کی کمی یا بہت زیادہ کرائے ان کی آباد کاری میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں اور اب تک صرف 6 ہزار مہاجرین کے لیےگھروں کا انتظام کیا جا سکا ہے۔آبادکاری کے عمل کو تیز کرنے کی خاطر امریکی حکومت نے امریکیوں کو افغان مہاجرین کی نجی طور پر سرپرستی کرنے کی اجازت بھی دے دی ہے۔

اپنے گھر بار چھوڑ کر کسی دوسرے ملک اور کلچر میں سکونت اختیار کرنا ویسے بھی خاصا تکلیف دہ عمل ہے لیکن ان افغان پناہ گزینوں کی صورتحال عام مہاجرین سے کہیں زیادہ خراب ہے کیوں کہ ان کی اکثریت مہاجرین کی قانونی حیثیت نہیں رکھتی جس کےتحت انہیں مہاجرین کے طور پر مراعات مل سکتی تھیں۔ پھر ان کا مستقبل بھی غیر واضح اور غیر یقنی ہے۔ اس وجہ سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ یہ سب، خصوصا ان میں بچے اور خواتین، بے خوابی اور شدید ذہنی امراض میں مبتلا ہو سکتے ہیں۔

چند افغان پناہ گزینوں کو بیرکوں ہاسٹلوں میں جگہ مل گئی تھی لیکن باقی خیموں میں رہ رہے ہیں جہاں ہر خاندان کے درمیان صرف کپڑے کا ایک پردہ ہوتا ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ اخباری اطلاعات کے مطابق ان کی ڈیجیٹل نگرانی بھی شروع کر دی گئ ہے۔ جن افغان باشندوں کو مشتبہ قرار دے دیا گیا ہے، ان سب کو بچوں عورتوں سمیت چپس پر مشتمل ریڈیو کالرز پہنائے گئے ہیں تاکہ ان کی ڈیجیٹل نگرانی کی جاسکے۔ ان کو ملٹری بیس سے باہرجانے کی اجازت نہیں اور ایسا کرنے والے کو واپس افغانستان بھیجنے کی دھمکی دی گئ ہے۔ سینکڑوں افغان پناہ گزین، خبروں کے مطابق، امریکیوں کے رویے، سخت نگرانی اور اپنے تاریک مستقبل کے حوالہ سے بے یقینی اور پریشانی کی وجہ سے ذہنی مریض بنتے جارہے ہیں۔

اس وقت امریکہ میں ویزہ درخواستوں کے لاکھوں کیسز لاینحل ہیں اور امیگریشن عمل میں کئ محکمے اور ایجنسیاں شامل ہونے کی وجہ سے اس کی رفتار سست ہوتی ہے۔ گویا افغان پناہ گزینوں کو اپنی قانونی حیثیت کے تعین کےلیے ابھی لمبا انتظار کرنا ہو گا۔

مسئلہ یہ ہے کہ امریکی امیگریشن ایجنسیاں ابھی تک وہ کاغذی کارروائی مکمل نہیں کرسکیں جو ان پناہ گزینوں کی رہائش اور روزگار میں مدد سمیت دیگر فوائد کی فراہمی اور حفاظتی نقطہ نظر سے ان کی تصدیق کےلیے ضروری ہے۔ پھر آبادکاری کےلیے درکار وسائل اور لاگت پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کئ افغان “مہاجرین” کو آنے سے پہلے مشکوک قرار گیا تھا مگر کچھ اس سے پہلے ہی امریکہ پہنچ گئے تھے۔ کہا جارہا ہے غلط اور نامکمل جانچ پڑتال امریکہ کے لیے بہت سے مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ صدر بائیڈن پر تنقید کی جارہی ہے کہ ہزاروں کی تعداد میں غیر تصدیق شدہ افغانوں کو امریکہ لاکر انہوں نے اندرونی تباہی کے بیج بودئے ہیں۔ صدر بائیڈن کے اس وعدے کے باوجود کہ ہم امریکی سرزمین پر قدم رکھنے سے پہلے ہر افغان کی سخت جانچ پڑتال کریں گے، یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ انخلاء کے دوران افراتفری میں آنے والے ہر بندے پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا اور خدشہ ہے کہ کچھ انتہا پسند اور دہشت گرد عناصر بھی ان میں چھپے ہوئے ہیں۔ کچھ ماہرین افغان مہاجرین کی امریکہ میں نقل مکانی سے ‘شہریت کی جنگ’ شروع ہونے کے خدشات بھی ظاہر کررہے ہیں۔

سینیٹر ٹام کاٹن نے اپنے ایک کالم میں لکھا ہے کہ جو بائیڈن کے افغان درآمدی بحران کے باعث صرف جرائم اور انتہا پسندی ہی کے مسائل پیدا نہیں ہوں گے بلکہ ملک بھر میں فوجی اڈوں پر مقیم کئی افغانوں پر پہلے ہی نابالغوں اور امریکی فوجیوں کے خلاف جرائم کے لیے فرد جرم عائد کی جا چکی ہے۔ ایسی متعدد رپورٹیں بھی موصول ہوئی ہیں کہ کچھ بالغ مرد انخلا کے وقت اپنی “بہو” بھی ساتھ لے آئے ہیں اور ان میں وہ نوجوان خواتین بھی شامل ہیں جن کا ان بڑی عمر کے مردوں سے انخلاء سے پہلے کوئی تعلق نہیں تھا۔ وبائی بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔ مثلا اکتوبر میں شمالی ورجینیا کے ڈلس ہوائی اڈے پر پانچ افغانوں میں خسرہ کی تشخیص ہوئی چنانچہ خسرہ کی وبا پھیلنے کی وجہ سے جرمنی کے رامسٹین ایئر بیس سے امریکہ آنے والی افغانیوں کی پروازیں روک دی گئیں۔ ان کے بقول جو باائیڈن انتظامیہ نے ہزاروں غیر تصدیق شدہ افغانوں کو امریکیوں اوراتحادیوں سے پہلے نکال کر سخاوت نہیں بلکہ بڑی لاپروائ دکھائ ہے جس کے اثرات افغانستان میں شکست کی بے عزتی کے بعد طویل عرصے تک امریکیوں کا پیچھا کریں گے۔

پناہ گزینوں کی اکثریت ان لوگوں پر مشتمل ہے جنہوں نے بیس سالہ جنگ کے دوران امریکہ کی مدد کی تھی۔ امریکہ میں اس پر اتفاق ہے کہ ہزاروں افغانوں نے بطور مترجم، ہنرمند اور ملازم امریکی فوجیوں کے ساتھ وفاداری نبھائ اور ان کی مدد کرنے کے لیے جو کچھ ہو سکتا ہے وہ کرنا چاہیے تاکہ وہ محفوظ رہیں تاہم نقادوں کے مطابق امریکی انتظامیہ افغانستان میں حالات کا صحیح اندازہ لگانے میں ناکام رہی جس کی وجہ سے اسے پھر ایمرجنسی میں انخلا کرنا پڑا اور افغانستان میں موجود امریکی شہریوں, سفارت کاروں، سپیشل امیگرنٹ ویزہ یا گرین کارڈ کے حامل افغان اتحادیوں کو امریکہ لاتے وقت غیر تصدیق شدہ افغان بھی امریکہ لائے گئے جن کے پاس کوئ دستاویزات نہیں ہیں۔

چونکہ ان “مہاجرین” کو سرکاری حیثیت دینے کا وقت نہیں تھا اس لئے انہیں پیرول پر امریکہ آنے دیا گیا۔ یہ ایک عارضی حیثیت ہے جس کی بنیاد پرانہیں کچھ عرصہ رہنے کی اجازت دی گئ ہے۔ عام طور پر پیرول کوئ مراعات ملنے کی ضمانت نہیں تاہم ایک خبر کے مطابق پچھلے دنوں ان پیرول پناہ گزینوں کو غیر معینہ مدت تک کےلیے رہائش، خوراک اور دیگر سہولتیں فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پر بھی تنقید کی گئ ہے کیوں کہ سپیشل امیگرنٹ ویزہ والوں کو، جو امریکی فوج کے مددگار تھے، یہ مراعات آٹھ مہینے تک ملتی ہیں۔ سینیٹر ٹام کاٹن نے پیرول پناہ گزینوں کی مراعات کو 18 ماہ تک محدود کرنے کے لیے ایک ترمیم پیش کی تاہم سینیٹ کے ڈیموکریٹ ارکان نے اسے مسترد کر دیا۔

ان پناہ گزینوں میں کچھ ایسے خوش قسمت بھی ہیں جن کا خاندان یا دوست پہلے سے یہاں موجود تھے۔ یوں انہیں آبادکاری میں مدد مل سکتی ہے لیکن اکثر اس سہولت سے محروم ہیں۔ کئ ایک آزاد روانگی کی سہولت کے تحت اپنی مرضی سے اڈوں کو چھوڑکر باہر چلے گئے ہیں۔ اب انہیں فوائد کے لیے درخواست دینی ہوگی۔ امریکی انتظامیہ، شہریوں اور امدادی اداروں کو امیگریشن کے امور و دیگر مراحل پر ان کی رہنمائ اور صحت، تعلیم، ملازمت اورآبادکاری میں مدد کرنی ہوگی۔ اب تک امریکی عوام نے افغانستان سے چالیس ہزار پروازوں کا خرچہ اٹھانے کےلیے چندہ دیا ہے اور منتظمین اور بائیڈن انتظامیہ اسے دوگنا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ امریکی حکومت کو ان پناہ گزینوں کی آبادکاری کو تیز اور سہل بنانے کےلیے ایمرجنسی ریفیوجی اینڈ مائگریشن اسسٹنس کے اکاؤنٹ سے کافی رقم دینا ہوگی اور ان کی مستقل بحالی کےلئے کسی طویل المیعاد ٹھوس پالیسی بھی بنانا ہوگی۔

افغان پناہ گزین صرف امریکہ میں ہی نہیں ہیں بلکہ کینیڈا نے بیس ہزار تک، برطانیہ نے پہلے سال میں پانچ ہزار اور پھر بیس ہزار تک، آسٹریلیا نے سالانہ تین ہزار اور جرمنی نے بھی ہزاروں افغانی مہاجرین کولینے کا وعدہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئ ملکوں نے اس سلسلے میں تعاون کا یقین دلایا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کو ان ساری کوششوں کو مربوط کرنے کےلیے آگے آنا ہوگا۔

مہاجرین کنونشن 1951 کے تحت مہاجر وہ فرد ہے جو نسل، مذہب، قومیت، یا کسی سماجی گروپ کی رکنیت یا کسی سیاسی رائے کی بنیاد پر ظلم و زیادتی کے خوف کی وجہ سے اپنے اصلی وطن واپس آنے کے قابل یا رضامند نہیں۔ انسانی حقوق کے عالمی قانون کے تحت ہر ایک فرد کو اپنا ملک چھوڑنے کا حق ہے۔

یہ سب افغان سہانے مستقبل کی آس میں امریکہ چلے گئے کیوں کہ افغانستان میں انہیں اپنا مستقبل تاریک نظر آرہا تھا یا وہ خوفزدہ تھے۔ اگرچہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے یہاں بیس سال گزارے اور کھربوں ڈالر سے زیادہ خرچ کیے مگر اس کے باوجود بھی افغانستان بدامنی، غربت اور پسماندگی کا نمونہ ہے جہاں کسی کو اپنا اور اپنے بچوں کا مستقبل روشن نظر نہیں آتا اور موقع ملتے ہی اس سے نکل جاتا ہے۔

افغانستان کو اس حالت تک پہنچانے میں امریکہ کے حملے اور قبضے ۔کابھی کردار ہے۔ اب اس کی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ ان پناہ گزینوں کو عزت کے ساتھ رکھے یا طالبان حکومت کے ساتھ ان کی بحفاظت حوالگی، آبادکاری اور خوشحال مستقبل کےلیے معاہدہ کرے اور اس کےلیے وسائل بھی مختص کرے۔

بے شمار افغان ماہرین اور ہنرمند ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور طالبان کو حکومت چلانے کےلیے تجربہ کار لوگوں کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر انہیں سلامتی اور خوشحال مستقبل کی ضمانت دی جائے تو کیا یہ واپس افغانستان آ جائیں گے؟

https://www.dailyaaj.com.pk/columnisit/tahir-ali-khan

About Tahir Ali Khan (Official)
I am an academic, columnist, and a social worker.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: