امریکہ میں افغان جائزہ کمیشن کا قیام

روزنامہ آج۔ 2022-01-20
امریکہ میں افغان جائزہ کمیشن کا قیام
طاہر علی خان

امریکی کانگریس نے افغانستان میں امریکہ کی ناکامی اور طالبان کی فتح کے اسباب کا تجزیہ کرنے اور مستقبل میں ایسی ناکامیوں سے بچنے کی حکمت عملی مرتب کرنے کےلیے ایک تحقیقاتی کمیشن قائم کردیا ہے جس میں دونوں بڑی امریکی جماعتوں کے سولہ سولہ نمائندے ہوں گے اور یہ ایک سال بعد ابتدائی رپورٹ جبکہ تین سال میں حتمی رپورٹ پیش کرے گا۔

یہ کمیشن 2001 میں افغانستان جنگ شروع کرنے کی وجوہات اور اس جنگ سے پہلے افغانستان سے متعلق امریکی پالیسیوں کا بھی جائزہ لے گا۔

اس کمیشن کی بنیاد بننے والے نیشنل ڈیفنس اتھارائزیشن ایکٹ میں کہا گیا ہے، “کمیشن افغانستان میں جنگ کا جامع جائزہ لے گا اور مستقبل کی کارروائیو ں کے لیے حکمت عملی اور اسٹریٹیجک طریقہ کار کی سفارشات پیش کرے گا، جن میں فوجیوں میں اضافے و کمی اور مقررہ ڈیڈ لائن کی وجہ سے پڑنے والے اثرات بھی شامل ہیں۔”

اس قانون میں امریکی انتظامیہ کو کہا گیا ہے کہ وہ چین کے مقابلے میں تائیوان کی غیر متناسب دفاعی صلاحیتوں کوبہتر بنائے اور امریکی دفاعی اخراجات بھی گزشتہ سال سے 28 ارب ڈالر بڑھا دیئے گئے ہیں۔

اس کمیشن کے نکات کار میں مستقبل کی فوجی کارروائیوں کےلیے حکمت عملی اور تزویراتی طریقہ کار کی سفارشات کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنی ناکامی سے کوئ سبق نہیں سیکھا اور یہ آئندہ بھی دوسرے ممالک میں مداخلت کرتا رہے گا۔

افغانستان کی تعمیر نو کے لیے اسپیشل انسپکٹر جنرل کے دفتر SIGAR سیگار، جسے کانگریس نے 2008 میں افغان جنگ میں پیسوں کے ضیاع اور دھوکہ دہی کی تحقیقات کے لیے بنایا تھا، نے 2014 میں اپنے ڈائریکٹر جنرل جان سوپکو کی ہدایت پر “lesson learned سبق جو سیکھے گئے” کے عنوان سے افغان حکام، امریکی اور اتحادی اہلکاروں، سفارت کاروں اور امدادی کارکنوں سمیت تقریباً چھ سو افراد کے انٹرویوز کے بعد ایک رپورٹ تیار کی تھی جس کا مقصد افغانستان میں پالیسی ناکامیوں کا پتا لگانا تھا تاکہ اگلی بار جب امریکہ کسی ملک پر حملہ کرے یا منتشر ملک کے تعمیرنوکی کوشش کرے تو وہ ایسی غلطیاں نہ دہرائے۔

سیگار 2016 سے اب تک افغانستان کے مسائل اور ان کے حل پر سات رپورٹیں تیار کر چکا ہے۔

مشہور امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے کچھ عرصہ قبل سیگار کے دو ہزار صفحات پر مشتمل ان افغانستان پیپرز کے نقول تین سال کی قانونی جدوجہد کے بعد حاصل اور شائع کیے تھے جن میں افغانستان میں امریکی ناکامی کی وجوہات بیان کی گئ ہیں۔

ان تحقیقاتی رپورٹوں کی موجودگی میں مزید تحقیقات کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے، وہ ہم سمجھنے سے قاصر ہیں۔

امریکہ چار صدور کی نگرانی میں افغانستان میں بیس برس گزارنے، تقریباً آٹھ لاکھ فوجی یہاں لگانے، ٹریلین ڈالرز خرچ کرنے، چوبیس سو امریکی فوجیوں کو مروانے اور بیس ہزار کو زخمی کروانے، چھیاسٹھ ہزار افغان سپاہیوں کو کھونے، پچاس ہزار افغانوں کو مارنے، اپنے اکیاون اتحادیوں کو جنگ میں شریک کرنے اور ان کے بارہ سو سپاہی ہلاک کروانے، ساڑھے چار سو انسانی حقوق کارکنوں اور پچھتر صحافیوں کو اپنی انا کی بھینٹ چڑھانے، پچیس لاکھ افغانوں کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنے اور تقریباً پینتیس لاکھ کو اندرون ملک بے گھر کرنے کے بعد بھی طالبان کو شکست نہیں دے سکا جنہوں نے محض دس دن میں افغانستان بھر پر قبضہ کرلیا۔

ماہرین کے مطابق افغانستان میں امریکی ناکامی کی بڑی وجوہات میں امریکی رہنماؤں کی حد سے زیادہ خود اعتمادی، متلون مزاجی، غلط ترجیحات، حقائق سے ناواقفیت یا چشم پوشی شامل ہیں۔

اگر امریکہ پہلے افغانستان کی خودمختاری اور عوام کی حق حکومت سازی کا احترام کرتا اور حملے سے اجتناب کرتا، یا پھر افغانستان پر حملے کے بعد اسے غلطی مانتا، طالبان اور دیگر جنگجو گروہوں کے ساتھ آزاد ماحول میں مذاکرات کرتا، بین الافغان تصفیہ کےلیے کوشش کرتا، افغانستان کے پڑوسیوں اور مقامی و بین الاقوامی طاقتوں کو افغان مسئلے کے حل کےلیے ساتھ لیتا، افغانستان کی بحالی و تعمیر نو کےلیے زیادہ وسائل مختص کرتا اور وہاں بدعنوانی اور طاقت کے استعمال پر جواب دہی کا بندوبست کرتا تو افغانستان تباہی سے اور امریکہ شکست وبدنامی سے بچ پاتا مگر امریکی رہنماؤں نے امریکی عوام کو گمراہ کیا اور ناکامی کے اسباب جان بوجھ کر نظرانداز کیے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امریکہ صومالیہ، ویتنام اور عراق میں تو ناکام ہوا ہی تھا اب افغانستان میں بھی ناکام ہوگیا۔

امریکہ کے بقول وہ افغانستان طالبان حکومت اور دہشت گردی ختم کرنے، جمہوریت قائم کرنے، منشیات کی پیداوار ختم کرنے اور عورتوں کو آزادی دینے کےلیے آیا تھا لیکن افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہو چکا ہے اور وہ اپنے تزویراتی اہمیت کے ساتھ روس اور چین کے ہاتھوں میں جاچکا ہے۔ کابل کے تیز زوال نے 1975 میں ویت نام میں سیگون کے ذلت آمیز امریکی زوال کی یاد تازہ کردی۔ بدقسمتی یہ ہے کہ امریکہ شکست قبول کرنے اور اپنی غلطیاں ماننے کےلیے آمادہ نہیں تو ایسے میں وہ اس ناکامی سے کیا سبق حاصل کرے گا۔

جارح کی مزاحمت اور اپنے وقار، مذہب اور وطن کا دفاع افغانیوں کی سرشت میں شامل ہے مگر امریکہ نے بیرونی حملہ آوروں کے خلاف افغان عوام کی مزاحمت کی تاریخ نظر انداز کی اور ناحق چرھائ کردی۔ ان کا خیال تھا طالبان کو شکست دینا اور ایک متبادل مرکزی حکومت قائم کرنا ممکن ہے مگر یہ ممکن ہی نہیں تھا۔

افغانستان پر حملہ کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ بات چیت سے القاعدہ کا مسئلہ حل کیا جانا ممکن تھا مگر طاقت کے زعم میں افغانستان پر چرھائ کردی گئی۔ طالبان روپوش ہوگئے۔

ان کی حکومت کے خاتمے دو سال بعد امریکی سنٹرل کمانڈ نے انہیں” ختم شدہ طاقت” قرار دیا۔ رمز فیلڈ نے 2003 کے اوائل میں اعلان کیا کہ مشن پورا ہوگیا ہے اور پھر بش اور اس کی ٹیم نے عراق پر حملہ کرکے ایک فاش غلطی کردی۔

اس دوران طالبان سے بات چیت کا راستہ بند رہا اور فروری 2006 میں ہزاروں طالبان نے پورے اضلاع پر قبضہ کرنا اور صوبائی دارالحکومتوں کا گھیراؤ کرنا شروع کردیا۔ اگلے تین سالوں کے دوران طالبان نے ملک کے بیشتر جنوبی اور مشرقی حصوں پر قبضہ کرلیا۔ اس دوران امریکی فوجیوں کی تعداد 100،000ہو گئ مگر فوج بڑھی تو جانی و مالی نقصان بھی زیادہ ہوا۔ اس دوران امریکی اخراجات 110 بلین ڈالر سالانہ تھے۔ اپنی یاداشتوں میں بش نے لکھا ہے”افغان حکومت کے غیر معمولی خرچ سے روکنے کی کوشش میں ہم نے افغان فوج کی تعداد بہت کم رکھی تھی۔”

https://www.dailyaaj.com.pk/column/54980

دو ہزار تیرہ تک امریکہ نے 350،000 افغان فوجیوں کی تربیت کی مگر اکثر افغان سکیورٹی فورسز اپنی عددی و اسلحہ برتری اور رسد کے باوجود مقابلہ کرنے کے بجائے پیچھے ہٹ گئیں کیوں کہ طالبان شہید یا غازی بننے کے لئے لڑ رہے تھے جبکہ فوج اور پولیس پیسوں کی خاطر۔

پھر افغان حکومت اور اس کے جنگجو اتحادی اکثر بدعنوان تھے۔ انہوں نے افغانیوں کے ساتھ برا سلوک کیا، زمینیں ہتھیائیں، سرکاری ملازمتوں کی بندربانٹ کی اور اکثر امریکی اسپیشل آپریشن فورسز کو اپنے سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانے کے لئے استعمال کیا اور یوں مزاحمت مضبوط ہوتی گئی۔

امریکہ نے جنگجو سرداروں اور اشرافیہ کا ایک ایسا استحصالی طبقہ افغان عوام پر مسلط کردیا جس نے اربوں ڈالرز کی رقم ضرورت مندوں پر خرچ کرنے کے بجائے خوردبرد کرلی۔
باقی اگلے کالم میں

https://www.dailyaaj.com.pk/column/54980

About Tahir Ali Khan (Official)
I am an academic, columnist, and a social worker.

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: