An Appeal to Chinese

An Appeal to Chinese

By Tahir Ali Khan
It was agonizing. There were fewer people than before. All of them were scary and in a hurry. They had to be for they feared they might fall victim to the deadly Corona virus.

The sight and the concern for the future were distressing. I was about to weep and began sobbing. Then I tried to control myself thinking of the people around me. But I just couldn’t hold my tears from rolling down my cheeks.

I was in the mosque for Friday prayers. The prayer leader quickly wrapped up the sermon and the subsequent prayer. Earlier, he had asked the people to do ablutions at home, offer the traditional Sunnah prayers at home and just reach to the mosque for obligatory prayer. He then prayed to Allah, besides other things, to eradicate this menace of Corona Virus quickly and completely.

The people the4n left quickly to offer the remaining Sunnah and optional prayer at home.

I wept because the mosques are on the verge of being closed and we may not be able to attend congregational prayers at these Homes of Allah the Almighty; even the Sacred Mosque at Makkah and the Mosque of the Prophet Muhammad PBUH have been shut down for prayers; so do churches, Mandirs, shrines and religious places of other beliefs; Markets, parks and roads are almost empty; Schools and colleges are closed; There is no or less social interaction; We are mostly confined to homes.

But there is more to it.

The entire world has been hit hard by the virus. Thousands have died and hundreds of thousands are in danger. Billions have been confined to homes. World economy is in a shambles. Hundreds of millions are finding it hard to cater to their families in wake of lockdowns and the resultant joblessness and pricehike. Billions may die of hunger in coming months if the virus attack continues.

The world is fighting and trying hard to contain the deadly pandemic. All have to. There is just no other option. We all do. Sooner or later, we will win (If Allaah wills) but the entire world needs to ponder and decide: will it be the last time that the virus played havoc with us? or will it strike back? Will we be on the defensive and trying to cure the patients after being hit by the pandemic or need to be aggressive in our approach to stop the menace from occurring again?

It is here that I want to say something to our brothers in China and other nations who, for their culinary habits, have been playing havoc with the world by becoming the origin of the virus.

You have all rights to eat whatever you like. So, none can force you to eat or not to eat this or that thing. We can only make a humble request. And let me make one. Hope you will accept it in the best interest of your nation and the entire world.

Just AVOID EATING RATS, MICE, BATs, DOGs, PIGS and other animals who are believed to have been the main sources of this and other deadly viruses in the past.
Kindly reconsider your culinary habits, stop eating the dangerous virus-containing and bad-smelling animals and shift to vegetables.

And if you like eating flesh, just move on to other non-dangerous animals like goats, rams and buffalos etc.

We all need to have Empathy. Just think of the deadly effects the eating of such deadly animals has caused to the world. Could we hope you all will put yourselves in our shoes and have mercy on us all living in the world that we share with you? Could you please promise that you will never eat these animals again?

ربُّ العالمین کے در پر ۔۔۔۔ (1)

ربُّ العالمین کے در پر ۔۔۔۔ (1)

طاہر علی خان

حرمین شریفین کی زیارت ہر مسلم مرد وعورت کی آرزو ہوتی ہے۔ جب سے ہوش سنبھالا، ہمارے دل میں بھی یہ خواہش پیدا ہوئ جو وقت گزرنے کے ساتھ بڑھتی رہی۔

جس کسی کے بارے بھی ہمیں معلوم ہوجاتا کہ وہاں جارہا/رہی ہے، اسے بلاوے کےلیے نوافل، خصوصی دعاؤں اور حضور اکرم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر درود وسلام پہنچانے کی التجا کرنے ضرور جاتا۔ وہاں سے واپس آنے والوں کے استقبال کےلیے بھی ائرپورٹ یا خوش آمدید کہنے گھر جاتا۔

تاجدارِحرم والی مشہور قوالی جب بھی سنتا تو اکثر آنکھیں بھر آتیں اور دل سے بلاوے کی دعا نکلتی۔ چند ایک نعت ہائے مبارک کے سننے پر بھی یہی حال ہوتا رہا۔

ہم بھی بڑے عرصے سے متمنی تھے لیکن وسائل بھی کم تھے اور کوشش بھی کمزور اس لیے جلد جانے کی آرزو پوری ہونے کی امید نہ تھی۔کئ بار پیسے ہاتھ میں آئے مگر کبھی ایک تو کبھی دوسری مصروفیت، مسئلے اور ڈیوٹی کے تقاضے جانے میں مانع رہے۔

یہ اقرار کرنے میں کوئ حرج نہیں کہ اگرکسی مقصد کے حصول کےلیے تڑپ اور خواہش کی شدت کا عملی پتہ اس کے لیے کی جانے والی کوششوں اور تیاریوں سے چلتا ہے تو یہی سچ ہے کہ کماحقہ تڑپ اور تیاری کا فقدان تھا۔ البتہ اتنا کیا تھا کہ اپنا، رفیقہ حیات اور دیگر اہل وعیال کا پاسپورٹ پہلے سے بنالیا تھا۔

مگر اللہ رحیم و کریم ہے اور اس کی رحمت سے مایوسی مسلم کو زیبا نہیں اس لیے یقین تھا کہ جلد یا بدیر بلاوا آجائے گا۔ لوگ بھی اکثر بتاتے ہیں اور وہاں کچھ ایسے غریب افراد سے گفتگو کرنے کے بعد جن کے آنے کا بندوبست اللہ نے کسی اور کے ذریعے کردیا، میرا بھی خیال ہے کہ وہاں جانا وسائل سے زیادہ دل کی تڑپ اور لگن پر منحصر ہے۔

بہت سے صاحب مال وہاں جانہیں پاتے جبکہ وہاں جانے کی شدید خواہش، کوشش اور دعا کرنے والے بلا لیے جاتے ہیں۔

اگر آپ بھی جانے کے خوہشمند ہیں تو خود بھی دعائیں کریں، نفل و تہجد پڑھیں، پیسے جمع کرنا شروع کریں، وہاں جانے والے یا واپس آئے لوگوں سے دعائیں لیں، درود شریف کثرت سے پڑھیں، صدقہ دیا کریں۔ امید ہے آپ جلدی بلالیے جائیں گے۔

اس دوران ایک معمولی سرجری بھی ہوئ اور ابھی پوری طرح بحالی بھی نہیں ہوئ تھی کہ جانے کا مکمل ارادہ کرلیا۔ سوچا بہت لیٹ ہوگئے ہیں اور گھر میں کسی کو بتائے بغیر اپنے اور رفیقہ حیات کےلیے عمرے کا داخلہ کردیا کہ وہ بیچاری تو عرصے سے اس مقصد کےلیے راتوں کو تہجد پڑھتی اور لمبی لمبی دعائیں کر رہی تھی۔

یہ فروری کی تین تاریخ اور پیر کا دن تھا۔ دس فروری بروز پیر دن گیارہ بجے اسلام آباد ائرپورٹ سے روانگی طے پائی۔

اب چھٹی لینے کا مرحلہ درپیش تھا۔ محکمے کو این او سی کےلیے  پہلے لکھا تھا لیکن کہاگیا جہاز کے ٹکٹ اور فلائیٹ شیڈول کے ساتھ رابطہ کریں۔

چنانچہ اگلے دن صبح سویرےاین او سی اور چھٹی کےلیے کاغذات بھیجے۔ بدھ پانچ فروری کو یوم کشمیر کی چھٹی تھی۔ درمیان میں صرف جمعرات اور جمعہ کےدن تھے کہ پھر ہفتہ اور اتوار چھٹی تھی جبکہ پرواز پیر کو تھی۔ وقت کم تھا مگر محکمہ کے ملازمین اور افسران، اللہ انہیں اجر عظیم دے، نے کمال سرعت سے جمعے کو بعد از دوپہر این او سی اور چھٹی کا حکم نامہ جاری کردیا۔

یہاں معمول ہے کہ جو بھی حج یا عمرے پہ جاتا ہے یا وہاں سے واپس آتا ہے تو سب دوست و رشتہ دار اور محلے دار ان کو الوداع یا خوش آمدید کہنے آتے ہیں۔ میں نے سکول اور محکمے کے ساتھیوں، قریبی رشتہ داروں اور دو تین دوستوں کے سوا کسی کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ فیس بک وغیر پر بھی پوسٹ نہیں کیا۔ وجہ بس ریاکاری سے پرہیز، اخفاء کا ارادہ اور لوگوں کو تکلیف اور خرچے سے بچانے کی خواہش تھی۔ شاید روانگی میں تاخیر کا خدشہ بھی دامن گیر تھا۔

اپنا تو یہ حال تھا کہ جو بغیر بتائے حرمین شریفین چلا جاتا تو بہت دکھ ملتا کہ اس نے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام کی یاددہانی کے شرف سے محروم رکھا۔ اب میں نے بوجوہ روانگی خفیہ رکھی تو مصمم ارادہ کیا کہ سب دوستوں، رشتہ دادوں، ہم پیشہ ساتھیوں، گاؤں والوں اور مردہ و زندہ سب کےلیے دعا کروں گا چاہے کسی نے کہا ہے یا نہیں کہاہے۔

ایک اور پکا ارادہ حرمین شریفین سے پوسٹیں اور تصاویر بھی شیئر نہ کرنے کا تھا تاکہ وہاں اذکار، طواف اور عبادات پر کماحقہ توجہ دی جاسکے۔

روانگی سے پہلے احرام اور جوتے خریدے مگر ریال بوجوہ خریدنے کا موقع نہ ملا۔ اس کا نقصان یہ ہوا کہ یہاں پاکستان میں ریال چالیس روپے میں مل رہا تھا جبکہ مجھے وہاں سعودیہ میں  فی ریال ساڑھے تریالیس روپے ادا کرنے پڑے۔

روانگی سے پہلے رات گھر خاصی گہماگہمی تھی۔ قریبی رشتہ دار جمع ہوئے تھے۔ ہر ایک کی التجا تھی انہیں خصوصی دعا میں یاد رکھا جائے۔ چند دوستوں نے بھی اپنی مالی پریشانیوں، روحانی و جسمانی بیماریوں سے چھٹکارے اور حرمین شریفین کی زیارت کےلیے نوافل کی استدعا کی۔ ان سے وعدہ کیا۔

(جاری ہے)

قومی غیرت اور اقتدار اعلٰی

قومی غیرت اور اقتدار اعلٰی

طاہر علی خان

یکم اپریل 2001 کو امریکہ کا ایک جاسوس طیارہ بین الاقوامی سمندری حدود پر پرواز کرتے ہوئے چین کے حینان آئی لینڈ کی حدود میں داخل ہوا تو چین نے اسے اپنے لڑاکا طیاروں کے ذریعے گھیرے میں لے کر اترنے پر مجبور کردیا۔ اس جاسوس جہاز کی ٹکر سے چین کا ایک لڑاکا طیارہ سمندر میں گر کر تباہ اور اس کا پائلٹ مرگیا۔ جہاز اور اس پر موجود عملے کی واپسی پر چین اور امریکہ کے درمیان چپقلش پیدا ہوئ جو کئ مہینے جاری رہی۔

امریکہ کہتا تھا ہمارا جہاز بین القوامی ہوابازی حدود میں محو پرواز تھا جس میں ہر ملک کو جہاز اڑانے کی اجازت ہوتی ہے۔ چین کہتا تھا یہ ہمارے حدود میں اڑ رہا تھا، اس نے ہم سے اجازت نہیں لی تھی اور اس کی ٹکر سے ہمارا جہاز تباہ اور پائلٹ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اب امریکہ اس دخل اندازی پر چین سے معافی مانگے اور جہاز کی تباہی اور پائلٹ کے خون بہا کے طور پر ایک ملین ڈالر ادا کرے۔ امریکہ نے بالآخر دس دن بعد معافی مانگ لی تو اسے اپنے 24 اہلکار مل گئے۔ جہاز کو واپس لے جانے کےلیے گئے ہوئے اس کے پائلٹس کو مگر خالی ہاتھ آنا پڑا۔

چین نے کہا اب یہ جہاز ہماری سرزمین سے نہ خود اڑاکر اور نہ ہی اسے سالم حالت میں کسی دوسرے امریکی جہاز میں لے جایا سکتا ہے بلکہ اب اسے پرزے کرکے لے جانا پڑے گا۔ یوں اس جہاز کے پرزے صندوق میں بند کرکے ایک روسی جہاز میں لے جاکر امریکہ کے حوالے کیے گئے۔ اس کے ساتھ ایک اور کام بھی کیا گیا۔ امریکی اہلکاروں اور جہاز کو لے جانے، رکھنے، اہلکاروں کے کھانے پینے اور جہاز کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے واپس بھیجنے کے سارے اخراجات کی مد میں امریکہ سے 34567.89 ڈالرز بھی وصول کیے گئے۔

کیا آپ سوچ رہے ہیں چین ایک طاقت ور ملک ہے وہ اپنے قومی غیرت کے حوالے سے حساس ہو سکتا ہے اور اپنی مرضی بھی منوا سکتا ہے جبکہ غریب اور کمزور ملک آزادی سے اپنے فیصلے خود کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتے؟ چلیے آپ کو اپنے ملک کی تاریخ سے ہی چند مثالیں دیتے ہیں جب ہمارے سابقہ حکمران طاقت ور ممالک کے سامنے ڈٹے رہے اور انہوں نے آزادی کے ساتھ اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے۔

یہ 1962 کی بات ہے۔ جنرل ایوب خان ملک کے سربراہ ہیں۔ چین اور پاکستان کے درمیان رابطے اور گرم جوشی بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کو پتہ چلتا ہے تو وہ پاکستان کو اس وقت امریکہ کے دشمن چین سے دور رہنے کا کہتا ہے مگر پاکستان ماننے سے انکار کر دیتا ہے کہ چین سے تعلق اور دوستی اس کے ملکی مفاد کا تقاضاہے اور یہ تعلق کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ یہی امریکہ بعد میں پاکستاں کی منت کرتا ہے کہ وہ چین سے اس کی مذاکرات اور تعلقات قائم کرنے کا ذریعہ بنے۔

1969 یاد آرہا ہے۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کا اجلاس مراکش کے دارالحکومت رباط میں ہو رہا ہے۔ ہندوستان کو بھی تب ساٹھ ملین مسلم آبادی کی وجہ سے بطور رکن شرکت کرنے کی دعوت دی جا چکی ہے اور اس کا وفد شرکت کرنے پہنچ چکا ہے۔ یہ سن کر صدر پاکستان جنرل یحیٰی اجلاس میں آنے سے تب تک انکار کردیتے ہیں جب تک ہندوستان کو بطور ممبر اجلاس میں شرکت کی دعوت واپس نہیں لی جاتی۔ اجلاس کا وقت صبح دس بجے مقرر ہے مگر وہ اپنے جائے قیام سے باہر آنے سے منکر ہیں۔ انہیں منانے عرب ملکوں اور ایران کے رہنماء جاتے ہیں مگر ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہندوستانی وفد کو کانفرنس کو ناکامی سے بچانے کےلیے اپیل کی جاتی ہے کہ آپ مکمل رکن کے بجائے آبزرور کی حیثیت سے شریک ہوں یا اجلاس میں آنے سے اجتناب کریں مگر وہ بھی نہیں مانتے۔ ادھر صدر پاکستان بھی نہیں آرہے۔ کانفرنس ہال میں دوسرے ملکوں کے وفودبیٹھے ہیں پاکستانی صدر کا انتظار کررہے ہیں۔ اجلاس ملتوی ہوتا ہے بالآخر اگلے روز جب صدر پاکستان کی بات مان لی جاتی ہے اور ہندوستانی وفد کو اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ واپس لے لیا جاتا ہے اور اسے اجلاس میں شرکت نہیں کرنے دی جاتی تو صدر پاکستان اجلاس میں پہنچ جاتے ہیں۔

آئیے اب 1974 کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد دوبارہ اس قسم کی صورت حال سے بچنے اور عالم اسلام کے اتحاد کو یقینی کےلیے اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا اجلاس بلاتا ہے تو امریکہ وزیراعظم بھٹو کو ایسا نہ کرنے کا کہتا ہے اور نہ ماننے کی صورت میں اسے نشان عبرت بنانے کی دھمکی دیتا ہے مگر پاکستان اس کی بات ماننے سے انکار کرلیتا ہے کہ اپنے خارجہ پالیسی کے فیصلے وہ اپنے مفاد کے تحت کرے گا نہ کہ ان کے کہنے پر۔

اور وہ وقت بھی یاد کریں جب پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا تو امریکہ اور دوسرے ملکوں نے اسے “اسلامی بم” بنانے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی، پابندیاں لگائیں، ہمارے حکمرانوں کو دھمکیاں دیں مگر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے نواز شریف تک سب ڈٹے رہے اور ایٹم بنانے پر کام جاری رہا۔ بعد میں بے نظیر بھٹو مرحومہ کے دور میں بیلسٹک میزائل اور ان کے بنانے کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کی گئی اس لیے کہ ایسا کرنا ملک کی سلامتی کےلیے ضروری تھا اور یہی ملک کے مفاد میں تھا۔

1998 کی یاد آرہی ہے جب ہندوستان نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے اور پاکستان کو دھمکیاں دینی شروع کردیں۔ اس وقت کی نواز شریف حکومت نے اس پر مذہب، سیاست، سماج اور صحافت سمیت ہر شعبہ زندگی سے منسلک لوگوں سے مشورے شروع کر دیئے کہ کیا کیا جائے۔ اس دوران خفیہ طور پر جوابی ایٹمی دھماکوں کی تیاری بھی جاری رہی۔ دنیا کی طاقت ور انٹلی جنس ایجنسیوں کو شک تھا کہ پاکستان تیاری کررہا ہے لیکن جگہ کا پتہ نہ تھا۔ دنیا کے مختلف ممالک کے رہنماؤں نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کی کوششیں شروع کردیں، دھمکیوں سے کام نہ چلا تو امریکی صدر نے خود وزیراعظم نواز شریف صاحب کو فون کرکے دھماکے نہ کرنے کے عوض پانچ ارب ڈالرز اور مزید امداد کی پیشکش کی لیکن حکومت نے 28 مئ 1998 کو چھ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو مسلم ملکوں کی پہلی ایٹمی طاقت بنادیا۔

2003 میں پاکستان نے عراق کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کی اور جنگ میں حصہ لینے کےلیے اپنی فوج نہ بھیجی۔۔ جنگ کے بعد امریکہ اور برطانیہ پاکستان پردباؤ ڈالتے رہے کہ وہ عراق میں قیام امن میں مدد دینے کےلیے اپنی فوج بھیجے مگر پاکستان سمجھتا تھا کہ عراق میں صورتحال خطرناک تھی اور وہاں فوج بھیجنا نقصان دہ ہوگا۔ یوں پاکستان نے ایک دفعہ پھر اپنے مفاد میں فیصلہ لیا۔

نومبر 2011 میں امریکی فوج نے پاکستان افغانستان سرحد پر سلالہ کےمقام پر ایک کارروائی میں 28 پاکستانی فوجی شہید کردئیے۔ پاکستان نے اس کے نتیجے میں نیٹو سپلائ لائن منقطع کردی۔ پاکستان کا مطالبہ تھا امریکہ اس پر معافی مانگے اور قصورواروں کو سزا دے۔ امریکہ چاہتا تھا اس کے بغیر سپلائ لائن بحال کی جائے۔ وہ پاکستان پر مہینوں دباؤ ڈالتا رہا مگر جب تک جولائی 2012 میں اس نے معافی نہیں مانگی پاکستان نے نیٹو سپلائی لائن بحال نہ کیا۔ اس سے پہلے جب امریکی سیکرٹری دفاع نے کہا کہ ہمارا صبر تمام ہورہا ہے تو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے امریکی وفد سے ملاقات منسوخ کردی تھی۔

2011 ہی میں ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ ہوا۔ اس نے دو پاکستانیوں کو قتل کیا اور پاکستان نے اسے گرفتار کرکے اس پر مقدمہ شروع کیا۔ یہ امریکہ کے بقول ایک سفارتی اہلکار تھا جسےگرفتارکیا جا سکتا تھا نہ اس پر مقدمہ چلایا جاسکتا تھا۔ امریکہ نے پاکستان پر بے انتہا دباؤ ڈالا کہ ریمنڈ ڈیوس کو فوراً رہاکرے مگر پاکستان ڈٹا رہا۔ پاکستان نے ان کے سفارت کاروں کی تعداد اور سرگرمیاں انتہائ محدود کردیں ۔ باالآخر امریکی حکومت نے ان بندوں کے خاندان والوں کو خون بہا دے کر ریمنڈ ڈیوس کو معافی دلوائ اور یوں عدالت میں راضی نامہ پیش کرکے اس کی جان بخشی کروائ۔

آئیے اب 2015 کی طرف آتے ہیں۔ سعودی عرب، یو اے ای اور اس کے دیگر عرب اتحادی یمن میں اس کے بقول ایران نواز ہوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ اس کےلیے ایک فوجی اتحاد تیار بنایا جارہاہے جس میں پاکستان کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔ پاکستان میں نواز شریف کی حکومت ان دو ملکوں کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتی لیکن اس جنگ میں شریک بھی نہیں ہونا چاہتی۔ بالآخر حکومت وہاں فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ کرتی ہے کہ پاکستان مزید دوسروں کی ایک غیر ضروری جنگ میں آخر کیوں کودے۔ اس سے یقیناً سعودی عرب اور یو اے ای ناراض ہوئے اور نواز شریف کو اس کا اقامہ کے معاملے پر نقصان بھی ہوا مگر جنگ میں نہ کودنے کا فیصلہ انہوں نے پاکستان کے مفاد میں لے لیا تھا۔

اب ہم 2019 کی بات کرتے ہیں۔ کشمیر میں ہندوستان ظلم و ستم کا بازار گرم کر چکا ہے۔ پاکستان او آئ سی کا اجلاس بلانا چاہتا تھا۔ لیکن سعودی عرب اور یو اے ای نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ الٹا مودی کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔ پھر او آئی سی کا اجلاس ہوا جس میں ہندوستان کو بلایا گیا۔ پاکستان نے اس پر احتجاج کیا لیکن “بردران اسلام” نے اس کی بات کو توجہ ہی نہیں دی۔ چنانچہ اس نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا لیکن اسے منانے کسی نے آنے کی زحمت ہی نہیں کی۔

2019 ہی کے ستمبر میں ملائیشیا، ترکی اور پاکستان کے سربراہان نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ مسلم امہ کے مسائل کو کماحقہ کوریج دینے، اسلاموفوبیا کے پروپیگنڈے کا توڑ کرنے اور صحیح اسلامی بیانیہ کی ترویج کےلیے یہ تین ممالک ایک مشترکہ چینل بنائیں گے اور ایک مشترکہ کرنسی بھی لانچ کریں گے۔

ترکی، ملائشیا اور ایران نے کشمیر کے مسئلے پر کھل کر ہمارا ساتھ دیا حتیٰ کہ ملائشیا سے ہندوستان نے اربوں ڈالز کا خوردنی تیل درآمد کرنے کا آرڈر کینسل کردیا۔ اب ہمارے وزیراعظم کی منظوری سے اسی ملائشیا میں مسلم ممالک کا اجلاس بلایاگیا جس میں شرکت کا ہمارے وزیراعظم نے وعدہ کیا۔ اچانک وزیراعظم صاحب سعودی عرب چلے گئے اور وہاں شہزادہ سلمان سے ملے تو وہاں سے ہی خبر آگئ کہ وزیر اعظم صاحب ملائشیا نہیں جائیں گے۔ پاکستانی وزیرخارجہ نے اس پر کہا کہ ملائشیا اجلاس پر عرب ممالک کو تحفظات تھے جبکہ پاکستان امت میں انتشار نہیں چاہتا۔ ترک صدر نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو چالیس لاکھ پاکستانی کارکن سعودیہ عرب سے نکالنے اور سٹیٹ بنک میں رکھی اپنی رکھی گئ رقم واپس لینے کی دھمکی دے کر ملائشیا اجلاس میں جانے سے روکا ہے۔ تاہم پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نے اس تاثر اور بیان کی تردید کی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو ڈرا دھمکا کر اجلاس سے روکا ہے۔

اگر واقعی پاکستان کو دھمکی دے کر ملائشیا کے اجلاس میں جانے سے روکا گیا ہے تو سوال یہ ہے ہم نے ان کے کہنے پر کیوں فیصلہ تبدیل کیا اور وہ بھی ان کے خلاف جو کشمیر اور FATF وغیرہ کے معاملے پر اِن کے برعکس ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اور سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اب کون ہماری بات پر اعتبار کرے گا یا کشمیر کے مسئلے پر ہمارے ساتھ کھڑا ہونے کےلیے تیار ہوگا؟

اگر کوئ کہے کہ سعودی عرب نے تو نہی روکا لیکن وہاں نہ جانے میں ہی پاکستان کا فائدہ تھا تو پھر وہاں جانے کا وعدہ کیوں کیا گیا۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمارے فیصلہ کرنے والے دور اندیشی سے عاری ہیں۔ انہوں نے ترکی اور ملائشیا کے ساتھ نئے اتحاد اور پھر اجلاس میں شمولیت کا وعدہ اور فیصلہ اس کے تضمنات پر سوچے بغیر کیا۔ اگر یہ بات ہے تو یہ تو ملک کےمستقبل کےلیے اور بھی خطرناک بات ہے۔

قومی اقتدار اعلیٰ کا تقاضا ہے کہ کوئ بھی ملک اپنے اندرونی اور بیرونی فیصلے اپنی آزاد مرضی سے، بغیر کسی کے دباؤ اور مجبوری کے، اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے۔

ہارس ٹریڈنگ“ سے پاک سینیٹ انتخاب کیسے؟”

ہارس ٹریڈنگ“ سے پاک سینیٹ انتخاب کیسے؟”

سینیٹ کے انتخاب میں صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ کے ارکان کی ”ہارس ٹریڈنگ“ کا مسئلہ کافی سنگین صورت اختیار کرچکا اور جمہوریت کی نیک نامی، مضبوطی اور بقا کے لیے اس کا روکنا اور شفاف انتخاب کا اہتمام لازمی ہو گیا ہے۔

مگر آئیے ارکانِ سینیٹ اور چیئرمین و ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب میں دھن و دھاندلی کے سدِباب پر بات کرنے سے پہلے سینیٹرز کے موجودہ نظامِ انتخاب پر نظر ڈالیں۔

سینیٹ کا موجودہ نظامِ انتخاب

1973 کے پاکستانی آئین کی دفعات 59، 218 اور 226 میں سینیٹ کی بناوٹ، اس کے ارکان کے میعادِ عہدہ اور انتخاب کے طریقۂ کار پر بحث کی گئی ہے۔

 

سینیٹ پارلیمان کا ایوان بالا ہے جس میں وفاقی اکائیوں کو برابر نمائندگی دی گئی ہے تاکہ قومی اسمبلی، جس میں آبادی کے حساب سے صوبوں کو نشستیں دی گئی ہیں، میں کوئی بڑا صوبہ اپنی زیادہ نشستوں کی بنیاد پر چھوٹے صوبوں سے کوئی زیادتی نہ کر سکے۔ یہ ایک مستقل قانون ساز ادارہ ہے جس کے آدھے ارکان کا ہر تین سال بعد انتخاب ہوتا ہے۔

فی الحال سینیٹ کے کُل 104 ارکان ہیں جن میں ہر صوبے سے کُل 23، قبائلی علاقوں سے 8 اور اسلام آباد سے 4 ارکان چھ سال کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔ جبکہ قبائلی علاقوں کے منتخب ارکانِ قومی اسمبلی اس خطے کے ارکان اور قومی اسمبلی کے تمام ارکان اسلام آباد کے ارکان کا انتخاب کرتے ہیں۔

آئین کی دفعہ 59 کے مطابق ہر صوبے کی مختص نشستوں کو پُر کرنے کے لیے انتخاب متناسب نمائندگی کے نظام
(Proportional Representation System)
کے تحت واحد قابلِ انتقال ووٹ (Single Transferable vote) کے ذریعے ہوتا ہے۔

 

آرٹیکل 226 کہتا ہے آئین کے تحت ہونے والے انتخابات وزیراعظم اور وزراء اعلیٰ کے انتخاب کے سوا سب خفیہ رائے دہی سے ہوں گے۔ چنانچہ سینیٹرز اور چیئرمین و ڈپٹی چیئرمینِ سینیٹ کا انتخاب بھی خفیہ رائے دہی سے ہوتا ہے۔

خفیہ رائے دہی، فوائد و نقصانات

خفیہ رائے دہی کا نظام دو بنیادی توقعات پر قائم ہے۔ ایک کہ رائے دہندہ باشعور اور ایمان دار ہے موقع ملے تو وہ صحیح امیدوار کو منتخب کرے گا اور دوسرا یہ کہ اسے آزادی سے یہ فیصلہ کرنے اور کسی بھی انتقامی ردعمل سے بچانے کے لیے اُسے تنہائی میں یہ فیصلہ کرنے کا موقع دینا ضروری ہے۔

اگر اِس نظام پر صحیح عمل ہو تو نہ صرف ہر پارٹی کو صوبائی اسمبلی میں اپنی نشستوں کے تناسب سے سینیٹ میں نمائندگی ملے گی بلکہ اچھے لوگ بھی منتخب ہو سکیں گے لیکن بوجوہ ایسا اکثر ہو نہیں پاتا۔

 

یہ نظام بدعنوانی کا ذریعہ/مظہر بن گیا ہے۔ اس میں رائے دینے والے کی شناخت چھپی رہتی ہے۔ وہ ارکان یا چیئرمین سینیٹ کے انتخاب سے پہلے سب کے سامنے اپنی پارٹی کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے مگر اندر جاکر مخالف امیدوار کو ووٹ دے جاتا ہے اوراِس خفیہ فلور کراسنگ کے بدلے کروڑوں روپے وصول کر لیے جاتے ہیں۔

دولت یا عہدوں کے لالچ میں چوری چھپے کی جانے والی یہ بے ایمانی نہ صرف اپنی پارٹی کے نقصان بلکہ جمہوریت اور سیاستدانوں کی بدنامی کا باعث بھی بن جاتی ہے۔

”ہارس ٹریڈنگ“ سے پاک سینیٹ انتخاب کیسے؟

موجودہ نظام دھن اور دھاندلی روکنے میں ناکام ہو چکا۔ آئیے اس کے متبادل نظام اور اس میں درکار اصلاحات زیربحث لاتے ہیں۔

(Open Ballot system) کھلی رائے دہی

خفیہ رائے دہی کے ذریعے سینیٹرز کے انتخاب میں ”ہارس ٹریڈنگ“ کو دیکھتے ہوئے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ یہ انتخاب کھلی رائے دہی سے کیا جائے۔ اس کے کئی طریقے ہو سکتے ہیں۔

 

مثلاً ارکان انتخاب کے وقت ہاتھ اٹھاکر، پارٹی یا اتحاد کی بنیاد پر ایک طرف کھڑے ہوکر، اپنے پسندیدہ امیدوار کا نام لے کر یا زیادہ نشستوں کی صورت میں پسندیدہ امیدواروں کی با الترتیب آپشنز کی فہرست سب کے سامنے دے کر اپنی رائے دے سکتے ہیں جبکہ پارٹیاں بھی متناسب نمائندگی کے مطابق فہرست دے دیں۔ مگر اس سے جڑا خدشہ یہ ہے کہ انتخاب کرنے والے اپنی آزاد مرضی سے رائے نہیں دے سکیں گے یا پھر کسی طاقت ور امیدوار کی مخالفت کرکے نقصان و انتقام کا سامنا کرسکتے ہیں۔

سینیٹرز کا براہ راست انتخاب

صوبائی اسمبلیوں یا قومی اسمبلی کے ذریعے ارکانِ سینیٹ کے انتخاب میں بڑھتی ہوئی خرید و فروخت کے پیشِ نظر کچھ عرصے سے ارکانِ سینیٹ کے براہ راست انتخاب کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے۔

اس کے لیے یا تو پورا صوبہ ایک حلقہ ہو اور عوام ہر تین سال بعد پارٹیوں کو ووٹ دیں جن سے پہلے سے ان کے نامزد کردہ سینیٹروں کی لسٹ لی جاچکی ہوگی۔ یا صوبائی اسمبلی کے چار پانچ حلقوں کو ملا کر ایک سینیٹ حلقہ قائم کیا جائے جس میں عوام امیدواروں کو براہِ راست ووٹ دیں۔ دونوں طریقوں میں ایک تہائی یا آدھی نشستیں ماہرین، اقلیتوں اور خواتین کے لیے مختص ہوں گی جن کا انتخاب براہ راست نہیں بلکہ براہ راست ووٹنگ میں پارٹی پوزیشن کی بنیاد پر نامزدگی کے ذریعے ہوگا۔

 

لیکن ان دونوں طریقوں کے لیے ہر تین سال بعد انتخاب درکار ہوگا جو ظاہر ہے مشکل اور مہنگا کام ہے۔ پھر اس طرح سینیٹ صرف مالداروں کا کلب اور قومی اسمبلی کی نقل بن جائے گا۔
یہی وجہ ہے پورے سینیٹ کی کمیٹی نے بھی 2015 میں ایک رپورٹ میں سینیٹرز کے براہ راست انتخاب کو آئین کے بنیادی ڈھانچے سے متصادم قرار دیا تھا۔

صوبائی اسمبلیوں میں پارٹی پوزیشن کی بنیاد پر نامزدگی

آئین کی دفعہ 59 شق 2 کے تحت کسی صوبے کے سینیٹ میں نشستوں کو پُر کرنے کے لیے انتخاب متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت اور واحد قابل انتقال ووٹ کے ذریعے ہونا ہے۔ اس دفعہ میں تناقص ہے۔

ایک طرف کہا گیا ہے سینیٹ کی نشستیں لازمی صوبائی اسمبلی میں پارٹی پوزیشن کے تناسب سے ہوں جب کہ دوسری طرف اُن نشستوں پر خفیہ رائے دہی سے انتخاب کی بات کرکے یہ نشستیں دوسروں کے لیے بھی جیتنے کا امکان پیدا کیاگیا ہے جیسا کہ ڈیڑھ سال پہلے خیبر پختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کی نشستیں اوروں نے ہتھیالی تھیں۔ ظاہر ہے یہ آئین کی منشاء کے خلاف ہے۔ اگر ووٹ کسی کو بھی دیا جا سکتا ہو تو پھر متناسب نمائندگی کی بات کیوں کی گئی اور اگر پارٹی پوزیشن اور متناسب نمائندگی کی بنیاد پہ ہی ارکانِ سینیٹ منتخب کرنے ہیں تو پھر نامزدگی کے بجائے انتخاب کی بات کیوں کی گئ؟ یہ تناقص دور کرنے کی ضرورت ہے۔

صحیح راستہ یہ ہے کہ اُس صوبائی اسمبلی میں عام انتخابات میں پارٹی پوزیشن کی بنیاد پہ ہی وہاں کی نشستیں نامزدگی سے پُر کی جائیں اور واحد قابلِ انتقال ووٹ اور خفیہ رائے دہی کے ذریعے دوبارہ انتخاب سے متناسب نمائندگی کے امکان کو خطرے میں نہ ڈالا جائے۔ یعنی پارٹیوں سے اُن کے حصے کی نشستوں کے لیے نامزد ارکان کی فہرستیں طلب کی جائیں گی اور ان کا بطورّ سینیٹ ارکان حکم نامہ جاری کردیا جائے گا۔ اس طرح خرچہ بھی نہیں ہوگا اور ہارس ٹریڈنگ کا موقع بھی جاتا رہے گا۔ بس اس کے لیے اس دفعہ کی شق 2 میں ترمیم کرکے ”واحد قابلِ انتقال ووٹ“ کی جگہ ”پارٹی سربراہ کی جانب سے نامزدگی“ کے الفاظ شامل کردینے ہوں گے۔

موجودہ نظام میں اصلاحات

اگر ارکانِ سینیٹ کا انتخاب براہ راست عوام یا کھلی رائے دہی یا پھر کسی صوبائی اسمبلی میں موجود پارٹی پوزیشن/متناسب نمائندگی کے مطابق نامزدگی سے نہیں کروانا ہے اور موجودہ خفیہ رائے دہی کا نظام ہی برقرار رکھا جانا ہے تو پھر شفاف انتخاب کو یقینی بنانے کے لیے موجودہ نظام میں چند اصلاحات درکار ہیں۔

1۔ آزاد امیدواروں پہ پابندی لگائی جائے کیوں کہ جس کا صوبائی اسمبلی یا سینیٹ میں کوئی رکن نہ ہو وہ ظاہر ہے ارکان خرید کر ہی پاس ہو سکتا ہے۔

2۔ ہر ووٹ پر صوبائی اسمبلی، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے متعلقہ رکن کا نام لکھا ہو۔ آئین کی دفعہ 226 کے مطابق سینیٹ میں خفیہ رائے دہی ہوگی اس لیے اس میں ترمیم کرنا ہوگی تاکہ پارٹی سربراہ یا پارلیمانی قائد چاہے تو درخواست دینے پر کسی رکن کے ووٹ اسے دکھائے جاسکیں۔ اس طرح ہارس ٹریڈنگ کم/ختم ہو جائے گی۔

3۔ جو ووٹ خراب ہو اور مسترد ہونے والا ہو اس رکن سے پریزائیڈنگ افسر پوچھ کر اس کی رائے دوبارہ معلوم کرلے اس طرح ووٹ خراب کرکے نتیجہ کسی اور کے حق میں کرنا ناممکن ہو جائے گا جیسا پچھلے دنوں چیئرمینِ سینیٹ کے انتخاب میں پانچ مسترد ووٹوں سے ہو چکا۔

4۔ امیدواروں کی نامزدگی اور انتخاب میں پیسوں کا کردار ختم کرنے کے لیے پارٹیاں اُن اصلی کارکنوں کو ٹکٹ دیں جنہوں نے کم ازکم دس سال پارٹی میں گزارے ہوں۔ یوں پیسے والا ایک پارٹی کی سینیٹ نشست سے استعفیٰ دے کر دوسری پارٹی میں شامل ہوگا تو چند روز بعد ہی وہاں سینیٹر نہیں بن سکے گا۔

5۔ دفعہ 63 الف میں ترمیم کرکے سینیٹ انتخاب میں اپنی پارٹی لائن کے خلاف ووٹ دینے یا نہ دینے یا بغیر اجازت غیرحاضر ہونے کو بھی کسی رکن کی نا اہلی کے اسباب میں شامل کیا جائے۔
6۔ جو بھی کسی صوبے یا قبائلی علاقے یا دارالخلافے سے انتخاب لڑنا چاہے اس کے لیے لازم ہو کہ وہ وہاں کم ازکم پانچ سال سے مستقل رہائش رکھتا ہو۔

الوداع ونگ کمانڈر ابھے نیندن! 

یہ سطریں شائع ہونے تک بھارتی پائلٹ ونگ کمانڈر ابھے نیندن پاکستان سے اپنے وطن اور گھر پہنچ چکے ہوں گے۔ ہندوستان کے باشندے اور ان کے گھر والے ان کی واپسی پہ یقیناً خوش ہوں گے لیکن ہم پاکستانی ان کے جانے پرخوشی، دکھ اور فخر کے ملے جلے جذبات و احساسات سے سرشار ہیں۔ خوشی ان کی رہائی پر ہے، دکھ ان کی جدائی پر اور فخر ان کی بہترین رکھوالی پر۔

ابھے نیندن جی نہ صرف ایک بہادر فوجی نظر آئے بلکہ تعصبات سے بالاتر اور جلد گھل مل جانے والے ایک محب وطن، زیرک اور بے باک انسان کے طور پر بھی سامنے آئے۔

پیراشوٹ کے ذریعے زمین پر آئے تو انہوں نے ایک حقیقی فوجی کے طور پر اپنے حواس بحال رکھے، مقام کا پتہ لگانے کی کوشش کی، پھر پیچھا کرنے والوں کو پستول کی ہوائی فائرنگ سے ڈرانے اور اس میں ناکامی پر بھاگنے کی کوشش کی۔ جب اس میں بھی ناکام ہوئے تو اپنے ساتھ موجود اہم سرکاری مواد کو نگلنے اور پھر دریابرد کرنے کی تگ و دو کی۔ پھر ہتھیارپھینکنے سے پہلے لوگوں سے اپنی زندگی کا وعدہ لیا۔ ایک دو بندوں نے جب تھپڑ مارے تو بھی وہ نہ چیخے چلائے نہ فریاد کی بلکہ وقار کے ساتھ کھڑے رہے۔ پھر جب پاکستانی فوج کے دو سپاہی پہنچے تو انہیں اپنا سرکاری نمبر بتایا اور جب سپاہی نے اپنے افسر کو نمبر بتانے میں غلطی کی تو انہوں نے، باوجود یہ کہ انہیں زمین پر گرا کر ان کی گردن دبوچی گئی تھی، بلند آواز سے جرأت کے ساتھ غلطی کی دو دفعہ تصحیح کی تھی۔

اگرچہ انہوں نے پاکستانی فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور اپنی بہترین رکھوالی پر ان کا شکریہ ادا کیا، چائے کا لطف اٹھایا، ہمارے فوجی افسر کے ساتھ بے تکلفی سے بات چیت کی لیکن کوئی پیشہ ورانہ معلومات دینے سے صاف انکار کیا۔

ابھے نیندن ایک محب وطن ہندوستانی کے طور پر پاکستان ”شکار“ کی تلاش میں آئے تھے لیکن ان کا جہاز خود شکار ہوگیا۔ وہ خود بچ گئے اور زیادہ خوشی کی بات یہ کہ کہ ان کی زندگی اور امن کے نام پر رہائی کے ساتھ جنگ کے امکانات بھی کم یا ختم ہوگئے۔

واہگہ سرحد پر جس خندہ پیشانی اور فوجی وقار کے ساتھ وہ کھڑے تھے اس سے بالکل پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ ہندوستان کی نظر میں ایک دشمن ملک کی سرزمین پر اور ایک ”دشمن“ فوج کے درمیان کھڑا کوئی جنگجو تھا بلکہ جیسے کوئی اپنے پیاروں کے درمیان کھڑا ہوا ہے۔

ابھے نیندن جی آئے، دکھائی دیے اور اپنے رکھ رکھاٶ سے پاکستانیوں کو اپنا گرویدہ بنا کر چلے گئے۔

ابھے نیندن جی نے تو پاکستانی فوج کی محبت اور پیشہ ورانہ انسان دوست انداز و اطوار دیکھ لیے۔ امید ہے باقی ہندوستانی بھی جلد ماضی کی باہمی نفرت اور غلطیوں کو بھلا کر پاکستان کو اپنا ایک ہمدرد اور پیارا پڑوسی سمجھنا اوراس کے ساتھ امن سے رہنا شروع کر دیں گے۔

ابھے نیندن جی بڑے خوش قسمت نکلے کہ نہ ان کے پردھان منتری نریندر مودی نے ان کی رہائی کے لیے کوئی اپیل کی اور نہ اس ضمن میں ہمارے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے کی گئی کالز کا جواب دیا لیکن پھر بھی صرف امن اور صلح کے نام پر وزیر اعظم عمران خان نے ان کو رہا کرنے کا اعلان کیا۔ اب یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہوگی اگر ہندوستانی حکومت اور میڈیا اس کو مجبوری میں لیا گیا اقدام قرار دے۔ اس سے صرف امن کی آشا کو ہی نقصان پہنچے گا۔

ابھے نیندن جی نے کہا تھا میں واپس جاکر پاکستانی فوج کی تعریف والا اپنا بیان واپس نہیں لوں گا۔ ایسا ہوگیا تو وہ قول و قرار کے پکے بھی ثابت ہو جائیں گے۔ دعا ہے کہ ان کی رہائی مستقبل میں دونوں پڑوسی ملکوں کے درمیان امن اور دوستی پروان چڑھانے میں معاون ہو۔

پاکستانی فوج کے جن جوانوں کے ساتھ وہ رہے وہ اور پاکستانی عوام ان کو مس کریں گے۔ امید ہے وہ بھی وہاں پاکستان اور ہندوستان کے درمیان پرامن بقائے باہمی کے علمبرداروں کی نحیف آواز کو مضبوط بنائیں گے.

 

حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے چند مظاہر

حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے چند مظاہر

طاہرعلی خان

پاکستان اور ہندوستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران جہاں چند افسوسناک چیزیں دیکھی گئیں وہاں کچھ قابل فخر مظاہر بھی سامنے آئے ہیں۔ پلوامہ میں ایک کشمیری نوجوان نے ایک فوجی کانواٸے پر خود کش حملہ کیا تو ہندوستانی حکومت اور ذراٸع ابلاغ کی اکثریت نے بلاتحقیق پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانے اور اس کو سزا دینے کی باتیں شروع کردیں۔

بی جے پی حکومت بظاہر آٸندہ انتخابات میں پاکستان مخالف جذبات پیدا کرکے فاٸدہ اٹھانا چاہتی تھی چنانچہ ہندوستانی وزرإ اور صحافی منہ سے آگ برساتے رہے۔ یہ ایک غیر منصفانہ اورمعیوب طرزعمل تھا۔ ان کے برعکس پاکستانی وزرا، صحافی اور فوجی ترجمان وقار، تمکنت اور ہوش مندی کے قابل فخر نمونے دکھاٸی دیٸے۔ انہوں نے سرحد پار انتقام پر تلے پڑوسیوں کو جنگ کی تباہ کاریوں کا احساس بھی دلایا اور دلاٸل سے ان کے الزامات کو تہس نس بھی کر دیا۔

ہندوستانی حکومت نے جب پاکستان میں فضاٸی کاررواٸی کا مضحکہ خیز دعویٰ کیا تو اس کے بعد ان کے وزرا اور میڈیا نے پاکستان کا جس طرح مذاق اڑایا اور اپنے ”کارنامے“ پر جس طرح اتراتے رہے، وہ حد درجہ معیوب اور قابل افسوس تھا۔ اس کے برعکس پاکستان نے ان کے دو جہاز گراٸے اور پاٸلٹ پکڑا تو ان کی طرح شیخی خوری کے بجاٸے وقار و عاجزی دکھاٸی اور پاکستانی وزیراعظم نے پھر تحقیقات میں مدد اور امن مذاکرات کی پیشکش کا اعادہ کیا۔ یہ پاکستان کی اخلاقی فتح اور فخر کی بات تھی۔

اس پورے بحران کے دوران دنیا کی ”بڑی جمہوریت“ نے بریفنگ میں کسی صحافی کو سوال کرنے کا موقع نہیں دیا۔ اس کےبرعکس پاکستانی وزرإ اور فوج کے ترجمان ہر قسم کے سوال و جواب کے لیے دستیاب رہے۔ پاکستان یہاں بھی نکھر کر سامنے آیا۔

اگرچہ کٸ سال سے پاکستان باربار ہندوستان کو مذاکرات کی دعوت دیتا آرہا ہے لیکن ہندوستان رعونت سے مذاکرات سے انکار حتیٰ کہ پاکستان سے کھیلوں تک میں باٸیکاٹ پر اتر آیا۔

پاکستان نے پلوامہ حملے پر دکھ کا اظہار کیا اور تحقیقات میں مدد اور مذاکرات کی پیشکش کی تو ہندوستان نے اسے پاکستان کی کمزوری یا بزدلی گردانتے ہوٸے توجہ ہی نہیں دی اور انتقام انتقام کی لاگ الاپتا رہا۔ اس کے باوجود ہمارے وزرا اور فوجی ترجمان یاد لاتے رہے کہ جنگ میں صرف انسانیت ہی ہارتی ہے۔ یہ ایک باعزت قوم کا طرزعمل تھا۔

پاکستانی سپاہی مقبول حسین جو 1965 کی جنگ میں ہندوستان کا قیدی بنا تو اس کی زبان کاٹ دی گٸ اور جب 40 سال کے بعد وہ رہا ہوا تو جسمانی طور پر معذور تھا۔ اس کے برعکس پاکستانی فوج نے بھارتی پاٸلٹ ونگ کمانڈر ابھی نیندن کو عوام کے غیظ و غضب سے بچایا اور عزت دی۔ پاکستان یہاں بھی جیت گیا۔

اور اب امن اور خیر سگالی کے جذبے کے تحت پاکستانی وزیراعظم نے گرفتار بھارتی پاٸلٹ کو یکم مارچ سے رہا کرنے کا اعلان کردیا۔ یہ ریاست پاکستان اور سرحد کے دونوں جانب موجود امن پسندوں کی بڑی اخلاقی فتح ہے۔ لیکن اس اعلان کا خیر مقدم کرنے کے بجاٸے بعض ہندوستانی صحافی اسے پاکستان پر دباؤ کا نتیجہ قرار دیں یا کہیں کہ ہم نے پاکستان کو ابھی نیندن کو رہا کرنے پر مجبور کردیا ہے تو یہ ہندوستانی قوم کے لیے کوٸی قابل فخر طرزعمل نہیں ہے۔

پاکستان نے اپنے طرزعمل سے ثابت کردیا کہ یہ امن و انسانیت سے پیار کرنے والے، باعزت اور قومی سالمیت کےبارے میں حساس لوگوں کی سرزمین ہے۔ یہ جنگ سے نفرت کرتے ہیں لیکن اگر ان پر مسلط کی جاٸے تو اس میں کودنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔ کیا وزیراعظم نریندر مودی کو ایسے پیارے پڑوسی کو دشمن کی جگہ غنیمت نہیں سمجھنا چاہیے؟

اس بحران کے دوران پاکستان کی پوری سیاسی ومذہبی قیادت، حزب اختلاف اور صحافی حکومت اور فوج کے پیچھے کھڑے رہے۔ یہ ایک قابل فخر مظہر ہے۔ اس میں موجودہ حکمران جماعت کے لیے بھی سبق ہے جو ماضی میں بعض ایسے مواقع پر قومی اتفاق راٸے دکھانے میں مانع رہی۔

موجودہ حزب اختلاف نے وزیراعظم عمران خان کو ہندوستان اپنا ایلچی بھیجنے پر، نہ ہی مذاکرات کی بار بار پیشکش پر اور نہ ہی غیر مشروط طور پر، بغیر وزیر اعظم مودی کی اپیل کے، اچانک گرفتار بھارتی پاٸلٹ کی رہاٸی کے اعلان پر غداری اور ملک دشمنی کا طعنہ دیا۔ یہ ایک قابل رشک روایت ہے۔ کیا برسراقتدار جماعت اس سے سیکھنے کے لیے تیار ہے؟

کامیابی کی شاہراہ

کامیابی کی شاہراہ

طاہر علی خان

ایک کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنا ہر ایککی خواہش ہوتی ہے۔ یقیناً آپ بھی اپنے لیے یا اپنی اولاد کے لیے کامیابی چاہتے ہوں گے.

اور سب کی طرح یقیناً آپ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ اپنی خواہشات کے مطابق کامیاب زندگی کا حصول کس طرح ممکن بنائیں۔

میرے ہم پیشہ ساتھی، شاگرد، رشتہ دار اور دوست اکثر مجھ سے پوچھا کرتے ہیں کہ وہ کون سے اصول اور طریقے ہیں جو ناکامی سے بچاتے اور کامیابی دلواتے ہیں۔

میں انہیں جواب دیتا ہوں اگر آپ واقعی کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو چند اصولوں پر عمل کریں، آپ ضرور کامیابی سے ہم کنار ہوں گے۔ یہ اصول کیا ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں۔

1۔ اپنی زندگی پر نظر دوڑائیں اور اپنا احتساب کریں۔ معلوم کرلیں کہ وہ کون سی چیزیں، لوگ اور سرگرمیاں ہیں جن کی وجہ سے ابھی تک آپ ناکام رہے ہیں۔ ان سب سے کنارہ کش ہو جائیں۔ جب کہ جو لوگ اور سرگرمیاں آپ کے لیے کچھ حد تک مفید اور کارآمد ثابت ہوئی ہوں ان کو اپنائے رکھیں۔ ان نقصان دہ اور مفید چیزوں، لوگوں اور سرگرمیوں کی فہرستیں بنالیں اور ساتھ رکھیں۔

2۔ اپنی زندگی کے لیے سوچ سمجھ کر واضح مقاصد متعین کرلیں۔ آپ کیا بننا چاہتے ہیں اور کس طرح اور کتنی مدت میں، یہ متعین کرنا لازمی ہے۔ مقاصد اور ان کے حصول کے لیے مدت اور طریقہ کار کا تعین نہ ہو تو وقت اور وسائل کے ضیاع کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ مقاصد اونچے ہوں مگر آپ کے پاس دستیاب وسائل، صلاحیت اور وقت کے لحاظ سے حقیقت پسندانہ ہوں۔

ان مقاصد اور ان کے حصول کا دورانیہ اور لائحہ ہائے عمل اپنی ڈائری میں لکھ ڈالیں۔ خود سے وعدہ کریں کہ میں ان مقاصد کے حصول تک چین سے نہیں بیٹھوں گا۔ ہو سکے تو یہ سب کسی چارٹ پر لکھوالیں تاکہ آپ بار بار اس کو دیکھتے رہیں اور آپ کو اپنے وعدے یاد رہیں۔ اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو ڈائری میں لکھتے رہیں تاکہ آپ مسلسل اپنا جائزہ لے سکیں کہ مقاصد کی طرف آپ کی پیش رفت جاری ہے یا نہیں۔

آپ مقاصد اور لائحہ عمل کے تعین میں اساتذہ، والدین اور ماہرین سے مشورہ کرسکتے ہیں دوسروں سے مشورہ بے شک لے لیں لیکن اس کے لیے قنوطیت پسند نہیں بلکہ رجائیت پسند افراد سے رجوع کریں۔ یاد۔ رکھیں زندگی آپ کی ہے۔ اسے آپ مکمل طور پر دوسروں کی پسند و ناپسند کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ اپنے فیصلے آپ خود کریں بس جہاں رہنمائی درکار ہو، وہاں ہی دوسروں کی مدد لیں۔

3۔ جب مختلف قلیل مدتی، وسط مدتی اور طویل مدتی مقاصد اور ان کے حصول کے لیے مدت اور راستے آپ نے چن لیے تو اب ان کے حصول کے لیے کام میں لگ جائیں۔ سخت محنت کو شعار بنائیں۔ کام سے عشق کریں۔ خود بہترین انداز میں کام کریں، دوسروں کے سہارے کی تلاش اور انتظار میں نہ رہیں۔ کاہلی، آرام طلبی اور کام کو ملتوی کرنے سے اجتناب کریں۔ اور کسی دوسرے کو بھی اجازت نہ دیں کہ آپ کو اپنے مقاصد سے بدظن اور ان کے حصول سے مایوس کریں۔ ایسے لوگوں کو میں توانائی کی بلاٸیں (Energy vampires) کہتا ہوں۔ ان سے بچ کر رہیں۔

4۔ یاد رکھیں کہ سیوا بن میوا نہیں۔ آج اگر آپ اپنی من پسند اور توجہ ہٹانے والی چیزوں (Distractions) مثلاً زیادہ نیند، دوستوں کی محفلیں، موبائل اور کمپیوٹر کا استعمال، فلمیں دیکھنا اور کھیل کود میں ہمیشہ مگن رہنے وغیرہ، کی قربانی نہیں دیں گے تو آپ یکسوئی کے ساتھ درکار محنت نہیں کر سکیں گے اور کامیابی مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے ان چیزوں سے بچیں اور آپ کے مقاصد میں معاون چیزوں، سرگرمیوں اور لوگوں کو زیادہ وقت دینا شروع کریں۔

5۔ قابل اور کامیاب لوگوں کی سوانح اور کہانیاں پڑھیں۔ ان سے کامیابی کے اصول اور طریقے سیکھیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ کوئی رول ماڈل سامنے ہو تو بندے کو محنت کے لیے جوش و جذبہ اور ترغیب میسر رہتے ہیں۔

6۔ جو بھی مقاصد متعین کرلیں ان کے حصول پر مکمل یقین رکھیں۔ اپنے مقاصد اور ان کے حصول کے ذرائع سے دیوانہ وار عشق کریں۔ اس خلوص اور عشق کے بغیر کامیابی مشکل سے ملتی ہے۔

7۔ سب کے لیے محبت، خلوص، قربانی اور سہولت کا ذریعہ بن جائیں۔ کسی کے لیے تکلیف، دکھ اور پریشانی کا ذریعہ با الکل نہ بنیں۔

8۔ ہر ممکن حد تک دوسروں کی مدد اور خدمت کریں۔ چرند و پرند کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھیں۔ والدین، بزرگوں، بیواٶں، بچوں، محتاجوں سب کی دعائیں لیا کریں۔ دعائیں ساتھ ہوں تو بڑی بڑی رکاوٹیں ختم ہوجاتی ہیں اور کامیابی کے راستے کھل جاتے ہیں۔

9۔ پابندی سے مطالعہ کو معمول بنالیں۔ آہستہ آہستہ اس کی مقدار بڑھاتے جائیں۔ مطالعے کے نوٹس لیا کریں۔ دوستوں سے مل کر کتاب سوسائٹی بنائیں جس میں کتابوں کے خلاصے اور تبصرے پیش کیا کریں۔

میں اپنے شاگردوں اور سامعین کو اکثر کہتا ہوں کہ کتاب کو معشوق بنالیں۔ یہ دنیا کی واحد معشوق ہے جو اپنے عاشق کو کبھی خوار نہیں ہونے دیتی بلکہ کامیابی، ترقی، عزت اور خوشحالی سے ہمکنار کرواتی ہے۔

10۔ اپنی صحت کا خیال رکھیں۔ ورزش کو معمول بنائیں۔ متوازن خوراک لیں اور مناسب آرام کیا کریں۔ ہرقسم کے نشہ اور لت سے، خواہ وہ منشیات کا ہو یا محفلوں کا یا سوشل میڈیا کے استعمال کا، خود کو بچا کر رکھیں۔ ٹینشن دینے والی چیزوں اور لوگوں سے خود کو دور رکھیں تاکہ آپ کی جسمانی اورذہنی صلاحتیں لایعنی چیزوں میں ضائع نہ ہونے پائیں۔

11۔ آپ نے اپنے مقاصد متعین کر لیے، خود محنت کر رہے ہیں اور دوسروں کی دعائیں بھی آپ کے ساتھ ہیں تو اب اپنے رب سے مانگنے لگ جائیں۔ اللہ کی مدد پر بھروسا رکھیں۔ یاد رکھیں کہ ہمت مرداں مددِ خدا۔ یقین رکھیں وہ محنت کو کبھی رائیگاں نہیں جانے دیتا۔ جو بھی محنت کرتا ہے اسے اس کا صلہ لازمی مل کر رہتا ہے۔ بس آپ یقینی بنائیں کہ آپ کی محنت اور تیاری اس معیار کی ہو جو کامیابی کے لیے ضروری ہے تو کامیابی آپ کو مل کر رہے گی۔

 

To PM Modi and India

To Modi and India

We remind you of wisdom and sense but find you always indulging yourself in suspense and nonsense.

We talk of poverty alleviation but your every act leads to tension aggravation.

We talk of construction but you conspire for destruction and obstruction.

We remind you of civility and responsibility but you only like vanity and insanity.

Byt Remember that he who hatches mischief is ultimately caught by mischief.

And that outbreak of war, like a devil, is easy to raise but difficult to lay and subdue.

Take pity on your morally and politically ailing and demoralized forces and civil population fed up with your interminable and insatiable love for blood.

But if you are not ready to heed our love for peace and bent on bringing havoc to your country and the region,

And consider our patience as weakness or cowardice, which it is not,

Then listen! you will come to grief when we respond but responsibility thereof will rest only at your shoulders.

So, step back, express a remorse over what you have done, seek forgiveness and behave as a normal human being.

Taken with edition and addition from FB wall of Prof Fazal Hanan

سعودی عرب، پاکستان اور ہندوستان

سعودی عرب، پاکستان اور ہندوستان

طاہر علی خان

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حالیہ دورہ پاکستان میں سعودی عرب نے پاکستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ اس کے بعد مگر ان کے دورہ ہندوستان میں سرکاری شعبے میں 28 ارب ڈالر کے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط سمیت سعودی عرب جنرل انوسمنٹ اتھارٹی نے ہندوستان کے نجی شعبے کے ساتھ اربوں ڈالرز کے 11 مزید مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے۔ شہزادہ محمد نے ہندوستان میں ایک تقریب میں یہ بھی کہا کہ اگلے دوسالوں میں انہیں سعودی عرب کی طرف سے ہندوستان میں 100 ارب ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کے امکانات نظر آ رہے ہیں۔

یاد رہے ہندوستان اور سعودی عرب کے باہمی تجارت کا حجم 18۔ 2017 میں تقریباً 28 ارب ڈالر تھا جبکہ سعودی عرب ہندوستان کا چوتھا بڑا تجارتی پارٹنر بھی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تجارت کا حجم محض 3.4 ارب ڈالر ہے۔ 2010 میں یہ حجم 4 ارب ڈالر تھا۔ سعودی عرب کی طرف سے پاکستان میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کا حجم پچھلے مالی سال میں صرف 17.4 ملین ڈالر تھا۔

شہزادہ محمد نے دورے کے دوران نہ صرف ہندوستانی وزیراعظم نریندر مودی کو اپنا بڑا بھائی قرار دیا بلکہ ان کی درخواست پر ہندوستان کا حج کوٹہ دو لاکھ تک بڑھانے اور سعودی عرب کی جیلوں میں قید تقریباً 900 ہندوستانیوں کو رہا کرنے کا اعلان بھی کردیا۔

ہمارے ہاں عام خیال ہے کہ پاکستان کو اہم گردانتے ہوئے ہی ولی عہد شہزادہ محمد نے خود کو سعودی عرب میں پاکستان کا سفیر قرار دیا جبکہ ہمارے وزیراعظم کی کرشماتی شخصیت ہی کی وجہ سے وہ پاکستان کا حج کوٹہ بڑھانے اور 2000 پاکستانیوں کو قید سے رہا کرنے پر آمادہ ہوئے تھے۔

کیا ہندوستان اور اس کے وزیراعظم نریندر مودی کو اتنی زیادہ اہمیت دینے کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب اورجناب محمد بن سلمان کی نظر میں پاکستانی وزیر اعظم عمران خان اور ان کے ہندوستانی منصب مودی یا پاکستان اور ہندوستان یکساں مقام رکھتے ہیں؟

اور یہ اس کے باوجود کہ پاکستان ان کا ایک برادر اسلامی ملک اور ہندوستان مسلمانوں کے دشمن اسرائیل کا قریبی دوست، کشمیر کے لاکھوں مسلمانوں کا قاتل اور ”کافروں“ کاملک ہے ؟ اگرچہ ہمارے انقلابی یہ بات نہیں مانتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سب ممالک اپنے بین الاقوامی تعلقات مذہبی رشتے نہیں بلکہ اپنے مفادات کی بنیاد پر بناتے اور رکھتے ہیں۔ دوسرے ممالک ہماری طرح بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ نہیں ہوتے۔ جہاں سے بھی ان کو فائدہ ملتا ہو اس ملک یا ممالک سے راہ و رسم بڑھانا اور تجارت کرنا ان کے حکمران اپنا قومی فریضہ سمجھتے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سعودی عرب نے تقریباً ہر تکلیف اور ضرورت کے وقت پاکستان کی مدد کی ہے اور وہاں موجود پاکستانی تارکین وطن ہر سال تقریباً 5 ارب ڈالرز کا زرمبادلہ بھیجتے ہیں لیکن پاکستان نے بھی تقریباً ہر مسئلے پر ان کا ساتھ دیا ہے۔ پاکستانی تارکین وطن نے سعودی عرب کی جدید تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا جبکہ پاکستانی فوج نے ان کی فوجی استعداد بڑھانے اور دفاع کو یقینی بنانے کے لیے خود کو وقف کیا ہوا ہے۔ یعنی اس تعلق میں دونوں کا ہی فائدہ تھا اور ہے اس لیے یہ برقرار رہا اور پروان چڑھتا رہا۔ اس کی کوئی دوسری وجہ نہیں۔

تاہم پاکستان کے لیے ان کے دورہ ہندوستان میں خوشی کی خبر یہ ہے کہ ہندوستان کی خواہش کے باوجود شہزادہ محمد نے اپنے دورے کے دوران یا اختتام پر سرکاری اعلامیہ میں پاکستان یا اس کی کسی تنظیم کو پلوامہ حملے میں موردالزام ٹھہرانے سے اجتناب برتا۔ اس کے برعکس اعلامیہ میں مودی نے ان کے ساتھ مان لیا کہ

”The two sides stressed the importance of regional stability and good neighbouring relations۔ “

یعنی دونوں ملکوں نے علاقائی استحکام اور اچھے پڑوسی تعلقات کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم مودی جس انداز میں پاکستان کے خلاف بولتے ہیں اس کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اعلامیہ پر دستخط ان کے لیے یقیناً ایک سخت مشکل اور ناخوشگوار فیصلہ ہوا ہوگا۔

Uncalled for

Rulers and leaders of a nation must be very cateful in the choice and use of words while talking especially when they are speakong at foreign soil.

Weaknessesanf shortcomings of the nation and its people and parties are not supposed to be told. It is not truth. It is rather stupidity.

Why shouldn’t IK fail?

Failure of IK and PTI will weaken belief in positive change through democracy.

It will again mean reversion to age-old twoparty system.

It will disappoint the youth who will invariably then become inclined towards militants and extremists.

Improving education in Pakistan

How can Pakistani Education system be improved?
By Tahir Ali Khan

This can be done by taking the following steps.

A. Students related.

(Plato had said a child is like a plant, which if properly nurtured must necessarily grow into all virtue and if planted in alien soil becomes the most obnoxious of all seeds.)

Students must
1. Be regular and punctual.
2. be attentive to what is taught.
3. work hard.
4. Properly manage their time, avoid time bandits like tv/mobiles etc so as to be able to fully utilize their time for learning.
5. avoid staying absent from school.
6. be obedient and disciplined.
7. love learning.
8. Read extensively and intensively and take notes of what they read.
9. do/complete homework regularly.
10. respect teachers and rules of schools.
11. believe that hardwork does benefit ultimately.
12. Be ready to ask questions.
13. study atleast 4 hours a day at home.
14. stay aloof from politics, political organisations and political/religious movements.

B. Schools related.
Schools must

1. have a conducive atmosphere for learning.
2. have fully equipled computer and science labs.
3. have multimedia system for presentations.
4. have proper and regular system of parentsteacher coordination.
5. have an information system in place through mobile about absence of children from school.
6. have a regular system of encouragement of students and teachers through praise and rewards.
7. Arrange activitybased learning.
8. Provide sports facilities for physique of students.

C. Teachers related
Teachers must

1. be committed, full of motivation, sincere and hardworking.
2. Knowledgeable and noble.
3. own and love students and institutions.
4. make teaching interesting.
5. invlove students in learning.
6. be rolemodels in terms of discipline and good character.
7. Be hardworking, committed to duty and friendly towards students. This way they can totally transform a student’s life and remember that a dictatorial and unfriendly Teacher destroys the learning process.
8. Give Individual attention to weaker students.
9. Consider individual differences based on background, financial position, domestic conditions, extra support and knowledge of parents and deal students as needed.
10. be accessible to students via mobiles at home after school hours.
11. train and educate students on good paper presentation skills in exam.
12. Impart and instil a thirst and love of learning in their students.
13. arrange contests amongst students on regular basis. Competition brings about excellence.
14. Give work assignments to students both for home and at school.
15. Prepare lecture notes for students.
D. Parents related.
Parents should
1. Love and support their children.
2. Monitor and Guide them but avoid overloading them.
3. Ensure pleasant and peaceful environment at home.
5. Give them balance diet and take care of their physique.
6. Regularly visit schools and remain in constant contact with their teachers and admins.
7. Ensure that they study atleast three to four hours a day at home.
8. Ensure their children’s regularity and punctuality.

E. Govt related.
Govt and fgei dte must
1. Introduce financial incentives for high achieving teachers and students like stars of fgei.
2. Equip labs.
3. Increase salaries of staff and other benefits.
4. Fill staff vacancies.
5. Provide all facilities needed for best educational environment at institutions.
6. Provide funds for study tours of students countrywide. 7. Provide funds for interative boards in classrooms.
8. Ensure continuous renovation and repair of institutions.
9. Post teachers at home stations or provide accomodation/hostels to them if posted faraway from home.

Lessons from Quaid’s life

Lessons from Quaid´s Life

By Tahir Ali Khani
The nation celebrated the Birth anniversary of Quaide Azam (May Allah grant him the highest of paradises) yesterday.

This celebration must also be a will to learn from his life.

Here are some of the characteristics of his character we all need to follow and a few lessons from his life we must learn and remember.

The Quaid´s life, character and mindset can be summarized as follows.

1. He was a man of great honesty. integrity, intellect and sagacity.

2. He could neither be deceived nor intimidated nor bribed.

3. He was sincere and strongly committed to his nation and cause and did all he could to win Pakistan.

4. He was a great believer in a constitutional, legal and peaceful democratic political struggle. He believed in democracy, freedom, respect of other´s rights and rule of law. He always followed laws and never violated them.

5. He neither believed nor ever resorted to militancy, underground struggle and extremism. He was above narrow religious sectarianism, regional or linguistic tendencies. That´s why all sections of society rallied behind him.

6. He never indulged himself in corruption. Rather, he dedicated all his personal wealth to schools and colleges.

7. He worked with a great passion but with patience. He never abused his political opponents. he was strong and firm but very polite and respectful.

8. He believed in hardwork. He would think before speaking and taking a decision. And once he reached at a decision after careful deliberation, none and nothing could move him from his chosen path.

9. He always took decisions in the light of ground realities and opted for the best possible path open to the nation. He never opted for emotionalism and populism.

10. So, the nation, our leaders and rulers need to learn the ideals of democracy, integrity, honesty, constitutional and peaceful political struggle, respect of rule of law, passion and patience, hardwork, sincerity, respect for others, tolerance and moderation from his life.

Six Success Strategies for Students

Read more of this post

an Old article: Give true democracy a chance

Give true democracy a chance

Everyone who contests elections is ultimately a winner or loser. Obviously, there can only be one winner amongst contesting candidates. However, it is the people’s mandate to choose whom they wish — if a candidate has lost, they need to accept the electorate’s verdict and their own defeat. Otherwise, there will be no difference between them and extremists impose their will on people

Ex PTI KPK govt and education: an appraisal

PTI and education: an appraisal

PTI has not lived up to to it’s claim that it gives top priority to education

West’s Double Standards

West’s Double Standards: An Unending threat for the World?

Double

 

When the Syrian regime was accused of using chemical weapons in Syria in April this year, US President Trump immediately issued a tweet describing the Syrian President Basharul Asad as “an animal” who gassed his own people.

And when anti-government demonstrations erupted in several Iranian cities earlier this year, the US ambassador to UN Nikki Haley was quick to embrace their cause. “The Iranian regime’s contempt for the rights of its people has been widely documented for many years,” she told the UN Security Council session.

However, the US, conversely, has been keeping mum over human rights violations perpetrated by its allies; Saudi Arabia, Israel and Egypt. The US, instead, supported them with money, weapons and deals despite their anti-democracy agendas and ruthless suppression of political opponents. The United States even continues to assist Saudi Arabia in its atrocity-ridden military intervention in Yemen.

As Israel’s biggest ally, the US has used its UN Security Council veto dozens of times to protect the Jewish state from resolutions condemning illegal settlements to violence against Palestinians.

Most of the big powers take pains to portray themselves as humane, lovers and protectors of rights and democracy, yet the reality is quite different. They often indulge themselves in double standards and selective morality, unmatched with their known commitments to justice and liberties.

Read more: Syrian imbroglio

The United States, particularly, has been supporting extremely repressive regimes like the Shah of Iran, Nicaragua’s Somoza family, Taiwan’s Chiang Kai-shek, and Egypt’s Hosni Mubarak and military dictators like Egypt’s Abdul Fatah Alsisi and Pakistan’s Zia-ul-haq. The discriminatory US policy on intended Indian and Pakistani membership in the Nuclear Suppliers Group (NSG) is another classic case of double standard.

Pakistan and India applied for NSG membership in 2016. Though the signing of Nuclear Non-Proliferation Treaty (NPT) is a prerequisite for entry and India is yet to sign it, the US is spearheading efforts to waiver the NPT- signing exemption for India. And the United States has added seven Pakistani companies to a list of foreign entities that are subject to stringent export control measures, a move that could hamper Pakistan’s bid to join NSG.

The US has also signed nuclear deal with India but Pakistan has been denied the same deal. The pact between the US and India exempts military facilities and stockpiles of nuclear fuel from scrutiny by the International Atomic Energy agency which has enabled India to sign nuclear cooperation agreements with Japan, Russia, France, Britain, South Korea, Canada, Argentina, Kazakhstan, Mongolia, and Namibia.

India rejects this line, insisting Kashmir is a bilateral dispute between the two countries.

The abuse of Veto power

The constitution of the UN Security Council is anything but justice. There is no equality of opportunity to every member state. Veto power given to big powers, therein gives undue leverage to them in getting things done as against the smaller ones. Which means that if any P-5 member or its ally is the aggressor or wrongdoer, no adverse action is possible against it as the P-5 member vetoes any such move. As Israel’s biggest ally, the US has used its UN Security Council veto dozens of times to protect the Jewish state from resolutions condemning illegal settlements to violence against Palestinians.

Read more: Germany’s Syria Strategy

While Israel is allowed to stockpile loads of nuclear arms and no hostile military action is initiated against it even if it blatantly and arrogantly rejects UN resolutions on halt of extension in settlements, Iraq is attacked and its cities turned into heaps of debris under the false pretext that it’s preparing/piling weapons of mass destruction despite report to the contrary by UN inspectors who had been deputed there.

And while there is continuous silence on blatant heinous human violations by “allies” such as Israel, there is a strong reaction to similar incidents perpetrated by “others” such as Saddam Hussain’s era Iraq.

Selective morality and double standards

And it is nothing but double standard and selective morality if Israel that openly violates/rejects international laws, UN resolutions and any serious effort for peaceful solution of its issues with Palestinians is equated with/ preferred over Palestinians whose lands have been usurped and who are being displaced and denied human rights.

Veto power given to big powers, therein gives undue leverage to them in getting things done as against the smaller ones.

Catalonia’s recent example, where Spain arrested an elected leader Carles Puidgemont for holding a separatist referendum, is ironic how the western world, across Europe, has united to extradite an elected Spanish leader, with popular mandate, yet is often seen providing asylums (and perhaps other help) to violent insurgent leaders from Baloch insurgency in Pakistan.

Read more: Wrath for separatists in Spain but sympathy for Baloch insurgents from Pakistan: Europe’s Double Standards?

Another example is their take on Pak- India relations. With both being nuclear powers, a war between the two can have dangerous repercussions for global peace. But the US and  Britain famously urge Pakistan and India to resolve their issues through mutual negotiations.

As India is not ready to talk to Pakistan, accusing Pakistan of state terrorism, Pakistan rightly urges major powers for mediation on Kashmir. India rejects this line, insisting Kashmir is a bilateral dispute between the two countries.

When the US and Britain insist India and Pakistan should resolve their dispute through mutual dialogue and refuse to mediate or condemn India for its atrocities in Kashmir, they are actually toeing Indian lines.

An extremist Hindu fundamentalist party, is voted to power with a clear majority in the 2014 Indian General Elections

It is but injustice if India which is clearly the wrongdoer being violator of several UN resolutions on Kashmir and whose leaders openly admit helping breaking up Pakistan in 1971 and vowing to drying up Pakistan against all international norms – is treated at par with Pakistan -which is trying its level best to bring India to the negotiation table for resolution of its disputes with it though unsuccessfully so far.

Read more: Russia, Turkey, Iran to hold Syria talks

One fails to understand how can Pakistan and India resolve their disputes peacefully and through mutual discussions when India is not ready to talk to Pakistan and powerful nations are silent spectators lest any offer for mediation or any criticism of perpetrated state-violence by India in Kashmir displease India – a big economic market.

The US and Britain say they are perturbed over violence in Kashmir and urge patience. It is welcome but what is objectionable is when the oppressor is not asked to refrain from using brute force against the peaceful demonstrators and the unarmed oppressed Kashmiri civilians are not openly supported in their fight for self-determination allowed and promised to them by UN resolutions in 1948, 1949 and by the Indian leadership till 1957 before Kashmir was made an integral part of Indian federation.

Stereotyping Muslim Nations

Another example of this double standard is the stereotype mindset that eyes all Muslim nation/states as extremists. Never has any extremist political or religious group obtained absolute majority in any Muslim country in any general elections. Such groups either don’t have the courage to take part and if they do, they have the lowest popular support base, often standing at less than one percent.

Iraq is attacked and its cities turned into heaps of debris under the false pretext that it’s preparing/piling weapons of mass destruction despite report to the contrary by UN inspectors who had been deputed there.

While Pakistan is considered an intolerant and extremist society, no  extremist group ever has obtained absolute majority here. For example, the Jamat-e-Islami Pakistan, an Islamic fundamentalist party, obtained only 0.4 percent of the total polled 46 million votes in the 2013 elections while Pakistan Muslim League-N, Pakistan People’s Party and Pakistan Tehreek Insaf having tolerant, democratic and anti-extremism credentials jointly polled around 30 million of the total votes.

Read more: Syrian government forces announce Yarmouk camp evacuation agreement

But India is considered one of the biggest democratic and liberal society in the world despite the fact that Prime Minister Narendara Modi’s Bharatia Janata Party, an extremist Hindu fundamentalist party, is voted to power with a clear majority in the 2014 Indian General Elections –it contested on 437 seats of the total 543 seats in the LoK Sabha and grabbed 282 seats, polling over 31 percent of the total polled votes.

The US and other states may have plausible arguments and reasons for persisting in such double standards. But they need to be candid and acknowledge that their decisions are based on cold calculations of national interest, not ethical considerations. They should at least spare us the pretense that they care about human rights and liberties.

Tahir Ali Khan is an academic with over 28 years experience and blogger. He has written over 700 articles. He blogs at http://www.tahirkatlang.wordpress.com and can be reached at tahirkatlang039@gmail.com

Pak-US ties: A tale of one-sided love

Pak-US relations: A tale of one-sided love
By Tahir Ali Khan

https://dailytimes.com.pk/236047/pak-us-relations-a-tale-of-one-sided-love/

Pakistan is an ally of the US in the War on Terror (WoT). Despite having done more than any other ally in the WoT, it is accused of not having done enough to wipe out terrorism.
Feeling neglected, Pakistan has responded with its improved relations and alliance with China and Russia. And it now says it has done enough and it is the US that has to do more now on that front.
A comparative study of what Pakistan and the USA have been doing for each other show the relationship has been a sad story of one-sided love.
Ignoring the former Union of Soviet Socialist Republics (USSR)’s invitation for a visit in 1951, Pakistan’s then Prime Minister Liaqat Ali Khan flew to the USA. In 1956, President Dwight Eisenhower requested Pakistani Prime Minister Mr Suhrawardy to lease Peshawar Air Station to the American Army for keeping an eye on the USSR and its ballistic missile programme. Pakistan accepted. All this annoyed the Communist regime. It threw its entire weight later in India’s favour, armed it tooth and nail and supported it abundantly.
Pakistan opted for the US and the “Free World” but had been left to tackle eventualities on its own. It joined the SEATO and CENTO thinking that the US/West would come to its rescue but it did quite the opposite. In 1965, when India attacked Pakistan, the USA, instead of supporting it militarily or financially being an ally, slapped sanctions on supply of military equipments to Pakistan. And in 1971, USA’s Seventh Fleet “couldn’t arrive in time” to defend it against USSR supported Indian aggression leading to its dismemberment.
Pakistan had successfully negotiated a deal between USA and China in 70’s. A Chinese leader during these parleys had reportedly told the US envoy not to neglect Pakistan but the US quickly abandoned its ally and silently allowing India to dismember it with the support of the USSR.
In April 1979, the US administration that had whole-heartedly supported the Israeli atomic programme and the “Jewish” Bomb, accusing Pakistan of trying to have an “Islamic” Bomb and citing military dictatorship, imposed sanctions on Pakistan.
However a few months later, when it needed Pakistan’s help against the Red forces in Afghanistan, the US changed course, forgot about dictatorship and the “Islamic Bomb” and sent Dr. Berznisky with a package to Pakistan. Pakistan fought for the West. But when their interests were safeguarded with the defeat and withdrawal of USSR from there, the US/the west left it to bear the sinister aftermath of the militancy alone. Agonisingly, the threat of Pakistan’s nuclear programme surfaced again. And in 1990, as the country by then had lost its strategic importance, the US, under the Pressler amendment, imposed sanctions on Pakistan, whereby every kind of military assistance was banned again to Pakistan. During those years, it did everything to deprive Pakistan of its indigenous nuclear and missile development programme.
This US indifference and double standards with Pakistan continued until the tragedy of 9/11 again made vital Pakistan’s help. Musharraf, the very man who was not entitled to a Photo-session with the US President for being a dictator, became their ‘friend’ overnight. All sanctions were lifted against Pakistan. Pakistan jumped into the WoT. But even then it was made just Non-NATO ally. While Pakistan was denied any atomic energy, with India a civilian nuclear deal was finalised.
The US administration was so selfish vis-à-vis Pakistan that though Pakistan had paid for F16s aircrafts, it neither handed over the F16s to it nor returned the money it had paid for them. Instead, it took from it the maintenance expenditures for these F16s which were held back by the US for sanctions.
Pakistan has come to help/rescue the US twice in Afghanistan. In 1980s, it joined hands with it to defeat the invaders –the USSR. In 2001, it supported it though the US was itself an invader. Then it fought the puppet regime in Kabul; now it supports their ‘puppet regime’ there. Then, they dubbed ‘Mujahideen’ as freedom fighters and Pakistan accepted. Now they dub them terrorists and it accepts even now. Pakistan allowed American army to use its military bases for launching attacks on Afghan soil.
Pakistan even killed its citizens the US considered as its enemies. The US said Dr. Abdul Qadeer is “guilty” of nuclear proliferation and he was immediately put under house arrest. Pakistan even arrested Mulla Zaeef- Afghanistan’s ambassador to Pakistan- for the US for the first time ever in world’s history. It had arrested more than 500 top Alqaeda associates and handed them over to it. Alqaeda since then has attacked Pakistani leaders frequently. Alqaeda had done no harm to Pakistan till then. Pakistan became their enemy when it supported the US in WoT.
The WoT and the resultant militancy and terrorism have badly impacted Pakistan’s economy. Careful estimates put the overall loss at around $120bn. It has resulted into the deaths of thousands of its valiant security personnel and civilians in terrorist acts. But despite all this, it openly questions Pakistan’s commitment to WoT and is still far from being satisfied.
Pakistan arrests and kills the enemies of the US –like Alqaeda, Daesh and Afghan Taliban –considering them its own enemies. But the US openly befriends Pakistan’s enemies and renders them every diplomatic, military, scientific and financial help. It has had ignored and didn’t target the militants fighting against Pakistan until recently. It attacks its territory (the Silala attack), meddles in its internal affairs and thus creates problems for its leaders.
Pakistan needs to be dealt fairly and respectfully as an ally. The policy of doubting its intentions and demanding more from Pakistan will hardly do the US any favour. It only will push Pakistan away towards more reliable allies in China and Russia.

Tahir Ali Khan is an academic and researcher. He blogs at http://www.tahirkatlang.wordpress.com and can be reached at tahirkatlang039@gmail.com

Reward of Tolerance

Patience and tolerance towards something distasteful or agonising to you can rid you of many vices.

Radical Delusions

Radical delusions

https://dailytimes.com.pk/208154/radical-delusions/

While Muslims are asked to work for reformation, they are not bound to ensure it at any cost.

%d bloggers like this: