کالام میں سیاح دوستی

کالام میں سیاح دوست رویہ

طاہرعلی خان

http://www.humsub.com.pk/69143/tahir-ali-khan-5/

 3جولائی 2017 کو ہم سب پر وسی بابا کی تحریر‘‘شمال والو! بدتمیزی کا علاج بتاؤں؟’’ شایع ہوئی جس میں انہوں نے شمالی علاقہ جات کے مکینوں کو اپنی روایت کا تحفظ کرنے، جس سیاح کے خلاف بدتمیزی کا واقعہ رپورٹ ہو اس سے جرمانہ وصول کرنے اور دوبارہ مخصوص عرصے کے لیے اپنے علاقے میں گھسنے نہ  دینے کا مشورہ دیا ہے  اور امید ظاہر کی ہے کہ جب دو چار کو پانچ دس ہزار جرمانہ ہو گا تو لڑکے لڑکیوں سے کئی گز دور رہیں گے۔ اس تحریر پر ایک تبصرہ میں رانا اورنگزیب رانگا  نے پٹھانوں میں اجنبیوں، مسافروں اور خواتین کے ساتھ تعاون واحترام کے چند واقعات قلمبند کرتے ہوئے انکی تریف کی ہے۔

جالبنڑ کی چڑھائی

یہ کالم اور اس پر تبصرہ پڑھ کر مجھے کالام سوات کے حوالے سے اپنے کچھ  مشاہدات ا ور تاثرات یاد آئے۔ یہ آج سے پندرہ برس پہلے کی بات ہے۔ گرمیوں کی تین مہینے کی تعطیلات کے لیے سکول بند ہوگٗئے تو ہم چند دوستوں نے یہ چھٹیاں خاندان کے ہمراہ پاکستان کے سوئٹزر لیںڈ سوات کے علاقے کالام میں گزارنے کا ارادہ کیا۔ وہاں جانے سے پہلے ہم نے گھر کرائے پر لے لیے تھے۔ تین مہینے کے لے اُس وقت ایک مناسب گھر دس سے پندرہ ہزار میں مل جاتا تھا ۔ 2010 کے سیلاب سے ابھی سڑکیں خراب نہیں ہوئی تھیں۔ ہم سہولت سے پہنچے بھی اور وہاں ہمارا قیام بھی بڑاخوشگوار رہا۔ ہم چار دوست روزانہ میلوں پیدل آس پاس کے علاقوں کے چکرلگاتے رہتے اور ہفتے میں ایک بار دورافتادہ مقامات پر گاڑی میں بھی جاتے ۔اس دوران کئ ایک یادگار واقعات پیش آئے جن سے ایک دوواقعات وسی بابا  کے کالم اور اس پر تبصرہ کی تائید کرتی ہیں۔

جالبنڑ سے کالام کا نظارہ

ہم نے کالام بازار سے مغرب کی طرف تین کلومیٹر بلندی پر واقع ایک گاؤں جالبنڑ میں جگہ کرائے پر حاصل کی تھی۔ جالبنڑ سے  مغرب کی طرف اونچائی پرایک بڑا پہاڑ ہے اور ایک آبشار  بھی ہے جس پر چھوٹا سا بجلی گھر بنایا گیا ہے۔ مشرق کی طرف اونچائی پر برف سے لدی ہوئی پہاڑی چوٹیاں نظر آتی ہیں۔ شمال کی طرف بھی پہاڑیاں اور وسیع جنگلات دکھائی دیتے ہیں جبکہ اس کے جنوب میں  ایک پہاڑی ہے جس کے اُس طرف گیل کی مشہور وادی ہے۔ گیل اور جالبنڑ کے درمیانی پہاڑ کی چوٹی پر وسیع رقبے پر محیط ایک محل نما گھر اور باغ تھا، اس کے چاروں طرف خاردار تاریں اور آہنی جنگلے لگے ہوئے تھے۔ علاقے کے مکینوں کا کہنا تھا یہ لاہور کے شریف خاندان کا سرمائی گھر ہے۔

 جالبنڑ سے  بازار آنے جانے کے لیے کھیتوں کے درمیان ایک سڑک بنی ہوئی تھی۔ اس کی حالت بہت خراب تھی۔گیل کی وادی تک پہنچنے کے لیے جالبنڑ سے ایک انتہائی سخت چڑھائی والی پگڈنڈی لوگوں نے بنائی ہوئی تھی۔ ان راستوں پر نیچے آنے اور پھر واپس جانے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ پٹھے مضبوط ہونے شروع ہوئے تو دم بھی آہستہ آہستہ پختہ ہوتا گیا۔ آغازمیں معمولی سفر کے بعد آرام کرنا پڑتا لیکن پھر میلوں سفر پر بھی اس کی ضرورت نہ پڑتی۔ یوں تو ہر ایک کو  فائدہ ہوا مگر ہمارے ایک لحیم دوست جس کا وزن کالام جانے سے پہلے ۱۱۰ کلوگرام تھا ان سیاحتی مٹرگشتیوں کے بعد ۸۰ کلو تک آگئے۔

جالبنڑ کے لوگوں کو بڑا ملنسارپایا۔ جس شخص کا مکان ہم نے کرایہ پر لیا تھا وہ حاجی صاحب کہلاتے تھے۔ انہوں نے ہماری دعوت کی۔ اس کے بعد کئ دوسرے افراد نے بھی مہمان نوازی کی۔ پنجاب اور دوسرے علاقوں کے لوگ بھی یہاں رہ رہے تھے اور وہ بھی بڑے خوش اور مطمئن تھے۔

ایک روز جالبنڑ میں عشاء کی نماز کے شوروغوغا بلند ہوا۔ پتہ چلا کسی سیاح پنجابی جوڑی کو کسی نے بازار سے اوپر جالبنڑ آتے ہوئے نقدی اور زیورات سے محروم کردیا ہے۔ کچھ بزرگ حضرات  رونے والی لڑکی اور پریشان لڑکے کی ڈھارس بندھانے لگے جب کہ اس دوران لاؤڈ سپیکروں پر جوڑے کے لٹنے کا اعلان کرکےکہا گیا کہ سب لوگ نکل آئیں تاکہ چوروں کو پکڑا جا سکے۔ آناً فاناً  اپنے علاقے کی اس طرح بدنامی پر بپھرے اور لاٹھیوں سے مسلح جوان ادھر ادھر پھیل گئے۔ تھوڑی دیر بعد دو نوجوان ان کے قبضے میں تھے۔ انہیں بزرگوں کے سامنے پیش کیاگیا مگر اس سے پہلے انکی اچھی خاصی مرمت کی جا چکی تھی۔ معلوم ہوا یہ لڑکے بھی سیاح کے طور پرباہر سے آئے تھے۔ ان سے رقم اور زیورات لےکر جوڑے کےحوالے کر دئیے گئے۔ وہ ڈاکو روتے دھوتے معافی مانگتے رہے کہ آئندہ وہ یہاں ایسا کچھ نہیں کریں گے اور نہ ہی وہ سوات آئیں گے۔ بعد میں غالباً انہیں پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

kondol lake

ایک اورناقابل فراموش واقعہ کالام سے سولہ کلومیٹردور شمال میں واقع اتروڑ وادی میں پیش آیا۔ اتروڑ سے شمال کی جانب چار میل کی مسافت پر واقع جھیل کنڈول یا کنڈل جھیل (ڈھنڈٌ) کو جانے کا راستہ دشوار گزار ہے، پانچ چھے گھنٹہ کا پیدل سفر ہے اور اوپر آکسیجن کی کمی بھی پیش آتی ہے جس کے لیے مقامی لوگوں نے ایک مقامی بوٹی کو مسلسل سونگھتے رہنے کی ہدایت کی۔ وہ واقعی ایک کٹھن سفر تھا۔ ہمارے لحیم دوست کی سانس تو لگ بھگ ٹوٹ گئ تھی اور ہمارے ہاتھوں کے توتے اڑ گئے تھے لیکن خدا خدا کرکے کنڈل جھیل پہنچ گئے تو ایک اورامتحان ہمارے منتظر تھا۔ ہمارے ساتھ لاہور سے تعلق رکھنے والے پانچ لڑکوں کو ایک گروپ بھی تھا۔ ہم وہاں پہنچ گئے تو لاہوری بھائیوں کے درمیان کسی مسئلے پر توتو میں میں شروع ہوگئ۔ دیکھتے ہی تین لڑکے ایک دھان پان سے لڑکے پر ٹوٹ پڑے اور اس سے پہلے کہ ہم بیچ بچاؤ کرتے وہ لڑکا اور اس کے ایک اور ساتھی کے سر اور چہرے سے خون بہنے لگا۔ ان کے کپڑے جگہ جگہ سے پھٹ گئے تھے۔ ہم نے لڑکوں کو روکنے کی کوشش کی تو وہ ہم سے بھی الجھ گئے کہ ہمارا ان کے ذاتی معاملے میں کیا کام۔ جو قصور اس لڑکےکا ان سے معلوم ہوا وہ  بہت معمولی تھا مگرلاہوری دوست ہمارے منع کرنے اور اس لڑکے کی بچاؤ بچاؤ کی دہائی کے باوجود  اس دوران اس کو ٹھڈے مارتے رہے۔ اس دوران مارنے والوں میں سے ایک نے آواز لگائی اس۔۔۔ کے کپڑے نکال دو۔  ہم ابھی اپنے اگلے طرزعمل پر ابھی سوچ رہے تھے کہ اس دوران  کچھ فاصلے پر موجود تین لڑکوں کا ایک گروپ تیزی سے قریب آیا۔  ایک لڑکے ، جس نے لمبا کوٹ اور چادر اوڑھی ہوئی تھی، نے آتے ہی مارنے والوں کو کہا کہ ہاتھ روک دیں اور ساتھ ہی ہمیں بھی کھری کھری سنائیں کہ پٹھان ہونے کے باوجود ہم خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں اور مظلوم کو بچانہیں رہے۔ بپھرے ہوئے لاہوری جوانوں نے اس کو بھی جھڑک دیا۔ اس لڑکے نے اچانک چادر اتار پھینکی اور کوٹ کے نیچے ہاتھ ڈال کر نکالا تو اس  میں کلاشنکوف تھی۔ اس نےکلاشنکوف کا رخ ان کی طرف کرکے انہیں ہاتھ اوپر اٹھانے اور آنکھیں بند کرکے کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ اس کے بعد اس لڑکے کو اٹھایا اور اپنے ساتھیوں سے بھاری بھاری بدلہ لینے کا کہا۔ وہ لڑکا رونےلگ گیا کہ میں انہیں معاف کرتا ہوں آپ بھی انہیں معاف کردیں۔ کلاشنکوف والا لڑکا کہنے لگا۔ نہیں مگر اگر یہ خود آپ سے معافی مانگ لیں۔ لڑکے جو اس سے پہلے بڑے تیس مار خان بنے ہوئے تھے، فوراً لڑکے کے پاؤں پڑ گئے۔ لڑکے نے انہیں اٹھا کر گلے لگایا اور ہم سب نے ہنسی خوشی اکٹھے کھانا کھایا۔ کلاشنکوف والا لڑکا پھروہاں سے پہاڑکی جانب چلا اور جلد ہی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔

ایک اور عجیب و غریب تجربہ یا مشاہدہ یہ تھا کہ کالام میں آپ کہیں بھی کسی کھیت یا باغ کے اندر مصروف کار لوگوں سے کوئی سبزی یا پھل مانگ لیں تو وہ آپ سے پیسے نہیں لیتے۔ بازار کی بات الگ ہے۔ گھر سے آپ کو دودھ بھی پیسوں سے نہیں مفت ملے گا اگر ہوگا تو۔ وہ کہتے ہیں کھیت، باغ اور گھر سے مانگنے کی کوئی چیز پیسوں سےبیچنا ان کی روایات کے خلاف ہے۔

مٹلتان کالام

ایک اور واقعہ پیش خدمت ہے۔ ایک روز حاجی صاحب اور جالبنڑ کے چند اور بزرگوں کے ساتھ ہم گیل وادی میں ’’شریف محل‘‘ میں ایک دعوت سے فارغ ہوکر واپس آرہے تھے کہ پہاڑ کی چوٹی پر راستے سے کافی دور ایک لڑکا لڑکی جھاڑیوں میں ’’راز ونیاز‘‘ کرتے نظر آئے۔ ہم ان کے پاس گئے کہ ان سے ’’تفتیش‘‘ کرلیں مگر حاجی صاحب نے ایک دو سوالات کے بعد ہی ہمیں انہیں چھوڑ کر نماز کے لیے مسجد کی راہ لینے پر آمادہ کر لیا۔ایسا لگا ہماری ’تجسس‘ اور ان کی ’سیاح دوستی‘ کے مقابلے میں ہماری تجسس ہار گئ۔

مہو ڈھنڈ کالام

وزیراعظم کا شکریہ. پس چہ باید کرد

طاہر علی خان

images.jpg

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کل جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

ان کا یہ فیصلہ سراہا جانا چاہئے کہ یہ ملک میں قانون کی بالادستی اور قانون کے سامنے سب کی برابری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔

میاں محمد نواز شریف اگر چاہتے تو بطور وزیر اعظم آئین پاکستان کے آرٹیکل 148 کے تحت اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ان کو قانونی کارروائی سےحاصل استثنیٰ سے فائدہ اٹھا کر جےآئی ٹی کے سامنے پیشی سے انکار کر سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو قانونی طور پر ایسا کرنا غلط نہ ہوتا۔

وزیر اعظم اگر چاہتے تو جےآئی ٹی کو تفتیش کر لینےیا گواہی لینے کے لیے وزیراعظم ہاؤس بھی طلب کر سکتے تھے جس طرح سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نیب کی تفتیشی ٹیم کے سمن کے جواب میں آئینی استثنیٰ کی بنیاد پر پہلے پیش ہونے سے انکار کیا اور پھر انہیں وزیراعظم ہاؤس طلب کرکے ان کے سوالات کے جوابات دئیے تھے. تاہم انہوں نے یہ

.سہولت بھی نہ لی

ان کے مخالفین کہتے ہیں ان کے پاس سوائے حاضری کے کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا کیونکہ ان کے مبینہ کرپشن پر ان سے پوچھ گچھ کی جسنی تھی لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ وزیر اعظم بطورملزم نہیں بلکہ بطور گواہ بلائے گئے تھے.

 

پانامہ لیکس میں اگرچہ ان کا نام براہ راست شامل نہیں تھا تاہم انہوں نے اس معاملے کے منظر عام پر آتے ہی خود کو احتساب کے لیے پیش کر دیا تھا اور ایک کمیشن کے قیام کی پیشکش کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو اس کے لیے خط بھی لکھ دیا تھا لیکن ان کے مخالفین اس وقت ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے رہے اور کافی وقت گزرنے کے بعدجے آئی ٹی کے لیے تیار ہوئے۔ اگر وہ وقت پر اس کے لیے راضی ہوئے ہوتے تو اب تک یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ وزیراعظم کی اس طرح قانون کے سامنے خود کو ایک عام شہری کی طرح پیشی کے بعد دوسرے رہنماؤں کو بھی عدالتوں کے سامنے پیشی سے راہ فرار کی عادت اب ترک کر دینی چاہیے.اس کے بعد لازم ہے کہ ان تمام دیگر لوگوں, جن کے نام پانامہ لیکس میں آئے تھے, کے خلاف بھی اسی طرح قانون کو حرکت میں آجانا چاہیے جس طرح کی تیزی وزیراعظم کے خلاف نظر آتی رہی ہے۔وزیراعظم کی اس پیشی کے بعدان دوسرے سیاسی و غیرسیاسی رہنماؤں اور عناصر کو بھی عدالتوںاور تفتیشی اداروں کے سامنے پیش ہو کر اپنی بےگناہی ثابت کر نی چاہیے۔وزیراعظم کےساتھ نہ نرمی ہونی چاہیے نہ خصوصی سختی. تاہم کہا جا سکتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں جس طرح تفتیش آگے بڑھ رہی ہے اس سے یقین کیا جاسکتا ہے کہ میرٹ اور انصاف کی بنیاد پر ہی انکے مقدمے کا فیصلہ ہو گا نہ کہ عوامی خواہشات اور توقعات کی بنیاد پر۔ اگرچہ عمران خان صاحب سمجھتے تھے وزیراعظم اگر استعفیٰ نہیں دیتے تو ان کے ماتحتوں پر مشتمل جےآئی ٹی ان سے صحیح تفتیش نہیں کر سکے گی لیکن جس طرح تفتیش کار کسی کے عہدے اور مالی و سماجی رتبے سے قطع نظر اپنا کام کر رہے ہیں حقیقت یہ ہے ان کی بات غلط ثابت ہو گئی ہے ۔تاہم وزیراعظم اور ان کے خاندان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ، جے آئی ٹی کو یا اس کے کام کو متنازعہ بنا کر وہ کوئی فائدہ حاصل تو کیا کریں گے الٹا اپنا بھی نقصان کریں گے اورملک میں جمہوریت اور آئین و قانون کی بالادستی کو بھی خطرے سے دوچار کر دیں گے۔اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے ترجمانوں اور رہنماؤںو کارکنوں کی زبانوں اورجذبات کو لگام دیں۔

 

Kindness Revolution

Kindness Revolution

By Tahir Ali Khan

http://daanish.pk/7237/

images6

With rampant corruption, poverty, terrorism, extremism, intolerance and self-centredness making life difficult and miserable for most of the humans and animals in the world, it is high time a Kindness Revolution is seen here.

We all wish that we and our family members, relatives and friends live a life full of love, peace and ease. We also want our country and the world to be peaceful and pleasant.

It’s indeed good to aspire for these ideals but if there is no corresponding commitment to do something for the purposes, we won’t have the cherished environment.

Remember that the difference between what is impossible and what is possible to achieve is the extent to which we are committed and determined to achieve our goals.

And remember that to make the world a lovely and pleasant place, every man and woman has got to fulfil his/her responsibilities in this regard. We will have to start a kindness process ourselves today. This surely will result in a kindness revolution.

Here are a few steps that anyone can take and which can help make the world a better abode for all of us and other creatures.

  1. Be courteous to all. Meet everyone with a smile on your face. Try to be of ease and mercy for others. Deal all with honesty, tenderness, tolerance and spirit of sacrifice.images
  2. Love to all and hatred for none should be your motto. Kick hatred, vengeance and self-interest out of your heart and you will be safe from lots of problems.
  3. Offer gifts to anyone who looks hungry or needs/asks for it.
  4. If Allah has been kind to you, you must help the poor on regular and permanent basis. Feeding them, buying them clothes, financing their treatment or educating them could be some of its shapes. Make it your habit to offer this support to your relatives, neighbours or strangers.
  5. Try to help the needy and the poor. Feed, clothe and educate them. Give permanent support to a few needy families. Try to reduce the burden of the people by guiding them, lifting or carrying their luggage, searching for things, crossing of roads or climbing up and so on.
  6. Never ridicule others. Respect all.images1
  7. Give preference to others over yourselves. Sacrifice your ease for others. Offer your seat to ladies or elders who are standing in public transport. Let others stand or go before you in lines. Share your umbrella with others when it rains. Offer lifts to the needy, children and ladies in good faith.
  8. Be patient and tolerant especially when others are harsh to you. It is indeed real nobility.
  9. Visit hospitals, old age centres, orphanages and Darulkifalas. Talk to the inmates there. Listen to them. Help them in every possible way and also urge others.
  10. Assist both your permanent and temporary neighbours (companions in journey etc) and permanent ones when they need or request for it.
  11. Value and extol good habits, words and conduct.
  12. Always be the first to greet. Don’t wait for others to talk to you first.
  13. Give praise, respect, gifts and attention to others without any expectation of the same.
  14. Contact your friends, relatives, teachers, elders and youngsters through call, messaging or letters. Give them importance. They will surely feel inclined towards you more.
  15. Respect, facilitate and love your subordinates like all noble persons.
  16. Invite your relatives, neighbours and job colleagues every regularly even if at a cup of tea or glass of juice.
  17. Be a good listener. Listen intently. Talk on your turn and if after others finish speaking.
  18. Talk gently and properly. Your words and manner must both be proper. Your voice should neither be too feeble nor loud. Turn your whole body to the person who you talk to. Looking sideways while talking displays arrogance or lack of courage. Avoid this.images3
  19. Avoid suspecting others as far as possible. Always think positively when thinking of the person, character and faith of others.
  20. If you are an employee, try to perform your duties with utmost devotion and honesty. Treat the visitors and applicants well. Give them a good smile and try to help them out.
  21. Give maximum time and enjoy your company with friends, family members and the people at hand. Give them enough attention and respect. No noble person could be expected to keep messaging distant friends but ignore those sitting beside him at present.
  22. Never sever relations with friends or relatives or show haughtiness and indifference to them. Always be prepared to clarify if they feel annoyed. But always remember to ignore their faults. Be a source of unity and never of disarray.
  23. Anger, malice, backbiting and self-centredness cut down love and brotherhood. Avoid them. Don’t say anything about someone which you could hardly tolerate yourselves from their side.A-man-giving-a-homeless-woman-his-shoes
  24. Readily accept a mistake if you commit one. Get rid of the habit of blaming others for a problem, failure or hardship. If you find others to be harsh, emotional, intolerant and unjust and you see that your response could make things worse, show patience. Keeping quiet or talking softly and sweetly is a sure recipe of keeping peace, relationships and love.
  25. Keep quiet in anger and control your senses and response. You must always be inclined to know and respect what others feel. Love empathy.
  26. Love the children. Confront them with a smile in neighbourhood, market, park and pathways. Greet them. Give them toffees when you meet them.images4
  27. Alms giving surely help remove problems and ensure prosperity. Spend at least one percent of your income on the poor and needy. But please spend carefully. A portion of your charity must be apportioned for those relatives, neighbours and strangers who don’t ask for charity but appear entitled even to a layman.
  28. Instead of making videos on mobile when there is an accident or bomb blast, try to take the injured to the hospital, inform the police or their relatives and emergency rescue services.
  29. Raise your voice for the illiterate children, orphans, widows, the sick, minorities, the beggars and the poor and against aerial firing, drugs and other social evils.
  30. Be a friend of environment. Work for green and clean atmosphere. Create awareness on tree plantation and conservation of flora. Also love animals. Provide the ants, birds and other animals with ease and food in your home and neighbourhood.

    images5

کلبھوشن، ویانا کنونشن اور اقوام متحدہ کا چارٹر

کلبھوشن، ویانا کنونشن اور اقوام متحدہ کا چارٹر

طاہرعلی خان

http://daanish.pk/6971/

بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے کلبھوشن یادیو کیس میں عبوری فیصلے پر پاکستان میں لوگ اپنی سمجھ بوجھ اور سیاسی وابستگی کی روشنی میں تبصرے کر رہے ہیں۔ کوئی اسے جندال کے دورے سے جوڑ رہا ہے، کسی کے خیال میں پاکستانی وکلاء ٹیم کی کارکردگی مایوس کن تھی، کوئی کہتا ہے پاکستان کووہاں جانا ہی نہیں چاہیے تھا اور کسی کے مطابق بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے ماننا لازم نہیں اس لئے کلبھوشن کو فوراً پھانسی چڑھالینا چاہیے۔

پاکستانی وکلاء کی عالمی عدالت میں کارکرگی اور وزیراعظم نواز شریف اوران کے دوست بھارتی تاجر سجن جندال کی ملاقات سے اس کو جوڑنے والے نکات پر ایک سے زیادہ رائے ہو سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ ۹۴ کے مطابق بظاہر اس بات میں وزن دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ عالمی عدالت نہ جاتا تو پھر اس کا فیصلہ ماننے کا پابند نہ ہوتا۔ اب چونکہ دانستگی یا نادانستگی میں پاکستان عالمی عدالت میں چلا گیا ہے اس لیے اس پر مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تاہم آخری نکتہ کہ عالمی عدالت کے فیصلے بائینڈنگ نہیں اس لیے اب کلبھوشن کو پھانسی دے دینی چاہیے، متعلقہ قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے واضح لاعلمی پر مبنی ہیےاس لیے اس کی وضاحت ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ ۹۴ کےالفاظ یہ ہیں۔ ‘‘اقوام متحدہ کا ہر ممبر وعدہ کرتاہے کہ وہ ہر اس کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کرےگا جس میں وہ فریق ہے۔ اگر کیس کا کوئی فریق عالمی عدالت کے فیصلے کے تحت عائد ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو دوسرا فریق سیکورٹی کونسل سے رجوع کر سکتا ہےجو اگر ضروری سمجھے تو فیصلے پرعمل درآمد کے لئے سفارشات تجویز یا اقدامت کا فیصلہ کرسکتا ہے۔’’ چارٹر کی اس دفعہ کا انگریزی متن یہ ہے۔

UN Charter Article 94

  1. Each Member of the United Nations undertakes to comply with the decision of the International Court of Justice in any case to which it is a party.
  2. If any party to a case fails to perform the obligations incumbent upon it under a judgment rendered by the Court, the other party may have recourse to the Security Council, which may, if it deems necessary, make recommendations or decide upon measures to be taken to give effect to the judgment.

یہ بات تو واضح ہے کہ اب اس فیصلے سے روگردانی ممکن نہیں کیونکہ پاکستان امریکہ جیسی طاقت نہیں رکھتا جس نے کم ازکم دو مرتبہ عالمی عدالت کے اسی طرح کے فیصلوں کے باوجود ملزموں کو پھانسی چڑھا دیا تھا اور کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا تاہم پاکستان کے پاس راستہ کھلا ہے کہ وہ عالمی عدالت سے کلبھوشن کیس کا حتمی فیصلے اپنے حق میں کروانے کے لیے خوب تیاری کرے۔ اس کے لیے چند نکات پیش خدمت ہیں۔

ہندوستان نے ویانا کنونشن کی دفعہ ۳۶ کی روشنی میں پاکستان پر کلبھوشن تک قونصلر رسائی نہ دینے اوراسکی گرفتاری سے بروقت مطلع نہ کرنے پر مقدمہ کیا اور آفشنل پروٹوکول کے آرٹیکل ۱ کی بنیاد پر مطالبہ کیا تھا کہ عالمی عدالت انصاف ویانا کنوشن کے مفہوم اور اطلاق سے پیدا ہونے والے تنازعات پرچونکہ فیصلے دینے کا لازمی دائرۂ اختیار رکھتا ہےا س لیے وہ کلبھوشن کے مقدمے کو سنے تاہم پاکستان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین ۲۰۰۸ میں قونصلر رسائی کا ایک معاہدہ ہوا تھا جس کی دفعہ ۶ کے مطابق سیاسی اور سیکورٹی بنیادوں پر گرفتاری، حراست اور سزا کی صورت میں ہر ریاست کو کیس کی میرٹ پر خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ آیا ۲۰۰۸ کا یہ پاک بھارت معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل۱۰۲ کے شق ا کے مطابق اقوام متحدہ کے ساتھ رجسٹرڈ کیا گیا تھا یا نہیں۔ اگرہاں تو پھر پاکستان کا کیس مضبوط ہے تاہم اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کلبھوشن ایک غیرقانونی مداخلت کار اور جاسوس ہے۔ اگریہ رجسٹرڈ نہیں تو اسی آرٹیکل کے شق ۲ کے مطابق اقوام متحدہ کے کسی عضو کے سامنے ایسے کسی معاہدے سے مدد نہیں لی جا سکتی۔

انڈیا نے اگر یہی لائن لے لی تو پھراگر پاکستان کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں پرعالمی عدالت انصاف میں کیس کرلیتا ہے تو انڈیا بھی شملہ معاہدے کی آڑنہیں لے سکے گا کہ یقیناً یہ بھی اقوام متحدہ کےساتھ رجسٹرڈ نہیں کیا گیا ہوگا۔

تاہم ویانا کنونشن کے آپشنل پروٹوکول کے آرٹیکل ۱سے پہلے چند الفاظ آئے ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان اپنا کیس بنا سکتاہے۔۔‘‘جب تک ایک معقول وقت کے اندر فریقین تصفیہ کی کسی اور شکل پرمتفق نہ ہوں، وہ کنوشن کی تفہیم یا اطلاق سے پیدا ہونےکسی بھی تنازع پر بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں’’۔ یہ معقول وقت کیاہے اور تصفیہ کی اور شکلیں کیا ہیں؟ اور یہ کہ اس کے بغیر کیا کوئی فریق براہ راست عالمی عدالت میں جا سکتا ہے؟

اس کنونشن کے آرٹیکل ۲ کے مطابق‘‘فریقین چاہیں، تواس کے بعد کہ ایک فریق نے دوسرے کو اطلاع دے دی ہو کہ تنازع موجود ہے، دو مہینے کے اندر اندر عالمی عدالت نہیں بلکہ کسی ثالثی ٹریبیونل سے رجوع کرنے پر متفق ہو جائیں۔ اس مدت کے اختتام پر کوئی بھی فریق ایک درخواست سے اس تنازع کو عالمی عدالت میں لا سکتا ہے’’۔

اس کنونشن کے آرٹیکل ۳ کے ذیلی شق ۱کے مطابق اسی دو مہینے کی مدت میں فریقین چاہیں تو عالمی عدالت سے رجوع کرنے سے پیشتر اصلاح و تصفیہ کے کسی طریق کار پر رضامند ہوں۔ شق دو کے مطابق یہ مفاہمتی کمیشن اپنی تقرری کے پانچ ماہ کے اندر اندر اپنی رپورٹ دے گا۔ اگر اس کمیشن کی سفارشات کو کوئی فریق دو ماہ کے اندر اندر قبول نہ کرے تو دوسرا فریق ایک درخواست کے ذریعے عالمی عدالت کے سامنے یہ تنازعہ لاسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی عدالت میں جانے سے قبل یہ شرائط ہندوستان نے پوری کی تھیں۔ کیا اس نے پاکستان کے ساتھ کسی ٹریبیونل یا مفاہمتی کمیشن کے لئے بات کرنے کی خواہش اور کوشش کی تھی؟ اگر نہیں تو وہ اس کنونشن کے تحت براہ راست رجوع کرنے کا حق نہیں رکھتا اور پاکستان کو پرزور انداز میں یہ دلیل پیش کرنی چاہیے۔

پاکستان کہتا ہے کلبھوشن ایک جاسوس ہے جو دہشت گردی کرانے غیرقانونی طریقے سے بھیس بدل کر پاکستان میں داخل ہوا تھا اور اسے ویانا کنونشن کے تحت حقوق نہیں دیے جا سکتے جبکہ انڈیا اسے ایک بےگناہ ہندوستانی گردانتا ہے جس کو قونصلر رسائی اور قانونی امداد کے حقوق حاصل ہیں۔ اب ایک طرف ویانا کنونشن ہے اور دوسری طرف اقوام متحدہ کا چارٹر جو دوسرے ممالک کے اقتداراعلیٰ اور سالمیت کے احترام اور ان کے اندرونی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک طرف ہندوستان کی ویانا کنونشن کے تحت ذمہ داریاں ہیں اور دوسری طرف اقوام متحدہ کے تحت۔ ان میں کس کو فوقیت دی جائیگی؟ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل ۱۰۳ کا اس سلسلے میں فیصلہ یہ ہے۔ ‘‘اقوام متحدہ کے ارکان کی اس موجودہ چارٹر یا کسی دوسرے بین الاقوامی معاہدے کے تحت ذمہ داریوں پر کوئی اختلاف واقع ہو جائے تو اس چارٹر کی تحت ان کی ذمہ داریوں کو فوقیت حاصل رہے گی۔’’

کیا اقوام متحدہ کا چارٹر عالمی ادارے کے ممبران کو ایک دوسرے کے اندر مداخلت یا جاسوسی کرنے یا ایسا کرنے والوں کی مدد یا پشت پناہی کی اجازت دیتا ہے؟

Writer’s intro

طاہرعلی خان فری لانس صحافی ہیں، رواداری ، احترام انسانیت اور امن کے پرچارک ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لیے ۔    کے نام سے بلاگ بھی رکھتے ہیں ۔ www.tahirkatlang.wordpress.com لکھتے ہیں. وہ

ردعمل یا صبر و حکمت؟

ردعمل یا صبر و حکمت؟

چند مہینے پیشتر پی ٹی وی ہوم پر ایک ڈرامہ چلا تھا۔ ایک لڑکی، جو ڈرامےکا مرکزی کردار تھی، کے رشتے کے لئے ایک عورت، اس کا شوہراور بیٹا آئے ہوئے تھے۔ لڑکی انہیں پسند آئی، اس کے بعد لڑکے کی ماں نے دبے لفظوں میں جہیز کا تقاضا کیا۔ لڑکی، جو کچھ فاصلےپر کھڑی یہ باتیں سن رہی تھی، اس پر بھڑک اٹھی اور اس نےاپنے ماں باپ کی موجودگی کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس عورت سے کہا ’’معاف کیجئے آپ کو اپنے بیٹے کے لئے بیوی چاہیے یا گھر کےلئے جہیز؟ ‘‘۔ پھر اس نے کھڑےکھڑےفیصلہ سنا دیا کہ وہ کسی ایسے گھر میں شادی نہیں کرے گی جو جہیز مانگے گا۔ اور پھر انہیں درشت لہجے میں فوراً چلے جانے کو کہا۔ لڑکے لڑکی دونوں کے والدین حیران ایک دوسرے کا منہ تکنےلگے۔ لڑکے کی ماں اٹھی تو لڑکے نے اسے بٹھا دیا اور اپنافیصلہ سنا دیا کہ وہ اسی لڑکی سےہی شادی کرے گا۔ پھر شادی ہو گئی، لڑکا لڑکی نے چند روز ہنسی خوشی سے گزارے۔ پھر بہو ساس کی روایتی ان بن ہو نے لگی مگر لڑکے کی ماں اگر ایک بات سناتی تو ’نڈر اور حق گو‘ لڑکی بھی دو بدو جواب دیتی۔ لڑکی کی تیزی کی شکایت ماں نے بیٹےسےکردی اور اس نے بیوی سے شکایت کی تو ’’حق گو صاحبہ‘‘ یہاں بھی خوب برسی اور اپنی بے گناہی کا رونا روتی رہی۔ مرتا کیا نہ کرتا شوہر برداشت اور خوش اخلاقی کی تلقین کرتا چلا گیا۔

اس کے بعد بھی کئی دفعہ ساس بہو کےدرمیان چپقلش ہوئی اور لڑکی ساًس کے ساتھ تیزی اور بے ادبی کا مظاہرہ کرتی رہی۔

ایک روز لڑکی کی ساس کے ساتھ حسب دستور توتو میں میں جاری تھی کہ بیٹا اندر آیا۔ ماں اسے دیکھ کر چپ ہو گئی مگر بیوی کی شوہر کی طرف پشت تھی، وہ اسے دیکھ نہ پائی اور وہ ساس کے ساتھ غصے میں بات کرتی رہی۔ کچھ دیر بعد بیٹا سامنے آیا اور اس نے اپنی ماں کے ساتھ بیوی کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا تو لڑکی نے اپنی باتوں کی صفائی دینی چاہی اور معذرت کرنے سے انکار کر دیا۔ شوہر کے ساتھ بھی اس کا لہجہ سخت تھا اور جب شوہر نے اس کو کہا کہ وہ اپنا رویہ درست کرے ورنہ اسے میکے چلےجانا ہوگا تو اس نے اپنی ماں باپ کی عزت پر کوئی سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے گھر جانے کا فیصلہ کر دیا۔

نئی نویلی دلہن بیٹی اکیلے گھر لوٹ آئی تو ماں باپ رونے دھونے لگے۔ وہاں لڑکی کا کوئی دور کا کزن اس وقت موجود تھا، اسے بھی ایک ایسی ہی لڑکی کا انتظار تھا چنانچہ اس نے لڑکی کو شریک حیات بنانے کا فیصلہ کر دیا۔ ڈرامہ یوں ہنسی خوشی ختم ہو گیا۔

اس ڈرامے کے محاسن و نقائص پر بات کر نےسے پہلے چند ضروری گزارشات پیش خدمت ہیں۔

1۔ اسلام نے شادی کے وقت مرد و عورت دونوں کو انتخاب کاحق دیا ہے اور شادی کے وقوع کےلئے دونوں کی رضامندی کو بنیادی شرط قرار ډیا ہے۔

:2اسلام رشتوں ناتوں کو جوڑنے اور انہیں توڑنے سے اجتناب کی ہدایت کرتا ہے اور رشتے ناتے توڑنے والے کو جنت سے محروم قرار دیتا ہے۔ ناچاقی کی صورت میں مرد کو طلاق جبکہ عورت کو خلع کا حق حاصل ہے۔ تاہم رشتوں کو قائم رکھنے کے لیے اسلام طلاق کو جائز مگر ناپسندیدہ عمل گردانتا ہے۔

:3 اسلام شوہر اور بیوی دونوں کو باہمی محبت، برداشت، احترام اور وفاداری کی تلقین کرتا ہے۔

4۔ اسلام معاشرتی میل جول اور خانگی زندگی دونوں میں برداشت، رواداری، خوش اخلاقی اور عفو و درگزر کا درس دیتا ہے۔

5۔ جہیز اپنی حیثیت کے مطابق دینی چاہیے اوراس کی بنیاد پر رشتہ کرنا یا توڑنا ایک قبیح عمل ہے جس کی ایک شریف آدمی سے توقع نہیں کی جا سکتی۔ اللہ اور اس کا رسول اس ظلم سے بری ہے کہ جہیز نہ ہونے کی وجہ سے قوم کی بیٹیاں تجرد کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوں۔

آئیےاب اس ڈرامے پر بات کرتےہیں۔ اس ڈرامے کے پلاٹ میں موجود چند بنیادی نقائص ( جیسے ڈرامے میں دګھائےجانے والے مفلس خاندان میں لڑکے کا رشتے سے پہلے ہی ماں باپ کےساتھ رشتہ کرنے لڑکی کےگھرجانا، لڑکی کی وہاں باتوں میں مداخلت اور آخر میں طلاق و عدت کے بغیر ہی دوسری شادی کے لئے راضی ہونا وغیرہ) کے علی الرغم ڈرامہ نگار نے قوم کی بیٹیوں کو جو تعلیم دی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے۔

’’جہیز ایک لعنت ہے، اس سے نجات کےلئےلڑکیوں کواپنے معاملات اور فیصلے اپنے ہاتھوں میں لینے ہوں گے، صبر و برداشت کی جگہ ردعمل اورانتقام کو طرزعمل بنانا ہوگا، خوش اخلاقی اور اطاعت کی بجائےوالدین کی نافرمانی اور بزرگوں سےگستاخی کوشعار بنانا ہوگا۔ انہیں اس بات کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ شرافت کی بجائے دھونس سے کام لیں تاکہ کوئی ہر کوئی ان سے ڈرے۔ ساس سے دب کر بات کرنے کی بجائے اسے دو بدو جواب دیں۔ ایسا کرتے ہوئےانہیں اس اندیشے میں نہیں پڑنا چاہئیےکہ یہ رشتہ ٹوٹ گیا تو پھر ان کا ہاتھ تھامنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ بلکہ وہ جیسے ہی اس رشتے کوتوڑ دیں گی، انہیں نئے رشتے فوراً مل جائیں گے۔ ‘‘

ڈرامےمیں جس طرح دکھایاگیا عملی زندگی میں ویسا کہاں دیکھنے میں آتا ہے۔ جب لڑکی ماں باپ کے سامنے ہی گھر آئے ہوئے مہمانوں کی کلاس لےلے تو ایسی لڑکی کو کون بہو کے طورپہ قبول کرےگا؟ اس لڑکی کو زبان دراز اور گستاخ نہیں سمجھا جاتا کیا؟ ایسی لڑکی کو کوئی کیوں بہو بنا کر گھر میں آفت کی پوڑی لانے کی کوشش کرے گا، یہ بات سمجھ نہیں آئی۔

پھر ڈرامے میں جس طرح اس حق گو لڑکی کو ہر بار اس کی ‘حق گوئی‘ پر انعام دیا گیا کہ پہلی بدسلوکی کےباوجود لڑکے نے اس سے شادی کی اور پھر اس کے ساتھ جیسے ہی ناچاقی پیدا ہو گئی تو دوسرا لڑکا اسی وقت اس سےشادی کےلئے تیار ہو گیا ایسے اتفاقات کا عملی زندگی سے دور کا بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔

سوچئے اس ڈرامے کو دیکھنےوالی اور اس سے سبق لینے والی کوئی دختر ملت اس امید پر اپنا ایک رشتہ ختم کریگی کہ اسےمتبادل رشتہ فوراً مل جائے گا اور پھر ویسا نہ ہو تو وہ اپنی ناکامی اور تنہائی کی شکایت پھر کس سے کرے گی؟

ڈرامے میں جس طرح لڑکی کو بات بات پر غصے اور جذبات میں بات کرتے، بازپرس کرتے اور بات بات کا بتنگڑ بناتے دکھایا گیا اور اس پر اسے جیسا انعام ملنا دکھایا گیا اسے یقیناً بد خوئی، جذباتیت، اور عدم برداشت کی تبلیغ ہی سمجھا جائے گا نہ کہ جہیز کی بیخ کنی اور عورتوں کے حقوق کی حفاظت کی کوشش۔

میری ان معروضات کو اگر کوئی ان معنوں میں لے گاکہ میں عورتوں کو نکاح سے پہلے حق انتخاب کا منکر یا ان پر ظلم وجبر کا قائل ہوں تو یہ اس کی اپنی کج فہمی پر دلالت کرے گی۔ میں جو چاہتا ہوں وہ یہ ہےکہ یہ جہیزکی لعنت سے چھٹکارا حاصل کرنے اور عورتوں کی حقوق کی حفاظت کا کام بد تہذیبی اور ناشائستگی کے بغیر اور صبر و حکمت، خوش اخلاقی اور خدمت و احترام سے بدرجہا بہتر اندازمیں ممکن ہو سکتی ہے۔

قوم کی بیٹوں کو ردعمل اور انتقام کی راہ پر ڈالنے کے متمنی کیا نہیں جانتے کہ یہ راستہ رشتوں میں دائمی بگا ڑ اور تباہی پر منتج ہوتا ہے؟ یہ بات سمجھنے کےلئے عقل افلاطون نہبں چاہئیے کہ صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ رشتوں کو قائم رکھنےکا آزمودہ نسخہ یہ ہے کہ ایک طرف سے اگر زیادتی ہو، جذباتی رویہ، عدم برداشت اور ترش خوئی سامنے آئے اور اس وقت جواب دینے سے بات مزید بگڑنے اور رشتےختم ہونے کا خدشہ ہو تو دوسرا فریق صبر و حکمت سے کام لے اور خاموشی اختیار کرلے۔

اختلاف اور لڑائی گھر کی ہو یا باہر کی اس کے ہنگام صبر سے کام لینا، خاموش رہنا اور میٹھےبول بولنا امن لانے، رشتوں کو قائم رکھنے اور دوستی و پیار قائم کرنے کا ایک بہترین اور یقینی راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی قرآن مجید میں بتایا ہے لوگوں کےساتھ اچھی طرح بات کیاکرو۔ تم دیکھوگےکہ جن لوگوں کی تمھارےساتھ دشمنی و عداوت ہے وہ تمھارے جگری دوست بن جائیں گے۔

CIVIC SENSE

What is civic sense? Do Pakistanis have/lack civil sense? Why do Pakistanis lack civic sense? What is needed for promoting civic sense?

By Tahir Ali

The writer is an academic who blogs at www.tahirkatlang.wordpress.com and can be reached at tahir_katlang@yahoo.com

 

While being interviewed by a panel at the Federal Public Service Commission, I was, inter alia, asked these questions, “What do you understand by the term civic-sense? What are the causes of lack of civic sense in Pakistan and what are your suggestions for ensuring widespread civic sense in Pakistan?

I answered the questions and the subsequent counter questions put by the interviewers in detail.  I had then resolved to write a comprehensive article on the issue but the idea could not materialise for my pressing engagements. It might have delayed it further but an interaction with one of my friends last week pushed me to go for it.

Last week, the friend Islam Ghani visited me and in the course of our discussion, he told me. “Every day when I leave home for my office, I see the drainage system blocked by polythene bags/garbage because one of my neighbours is in the habit of sweeping out all his garbage into the drain. I often clean the drain myself. The person and his children usually see me doing that. I request them to be sensitive to the neighbours but to no effect. And last week, the person had this to tell me: “I have done that. Do what you want/can. Do you think my garbage was to lie in my house? Why don’t you approach the municipal workers to come and clean the mess instead of becoming sweeper yourself or asking me to?” says Islam Ghani.

Throwing out your garbage this way and the subsequent response by the guilty speaks a lot of our public morality and an acute lack of civic sense in our society, he adds.

WHAT IS CIVIC SENSE?

The word ‘Civic’ means of or related to a city or people who live there or the duties and responsibilities of citizens, and the word ‘Sense’ means sound practical judgement or awareness about something. The term, therefore, literally means an understanding of the way how people should live and behave in a society.

Civic sense is a consideration for the norms of society. It includes respect for the law and for the ease and feelings of others and maintaining etiquettes while dealing and interacting with others. For example, if we visit someone’s house, ethics demand that we knock at the door, ask for permission to go inside or that we avoid visiting someone at the time of meals or at bed/rest time.

It means we respect and help others, avoid spitting on roads, streets and public places, avoid listening to loud music, refrain from blowing pressure horns, adhere to traffic rules, obey laws, park vehicles at nominated places, avoid wall chalking, ensure economical use of the natural resources and public facilities, help reduce leakage/wastage/misuse of gas/water/electricity, pay taxes and utility bills, wait for our turn, be tolerant towards opposing views, respect minorities and ensure religious harmony and devote ourselves to welfare/community services.

One is considered to have Civic Sense if he is caring and sensitive towards the elderly, women, children, disabled persons, the poor, the needy, neighbours, companions, subordinates, officers, public and private property, the environment, the animals, natural resources, or in short is behaving better with everyone and everything everywhere. It is about keeping lane while driving, desisting from rash driving or from driving while not in senses, throwing garbage but in a dustbin or designated places and avoiding smoking at public transport/places.

DO PAKISTANIS HAVE or LACK CIVIC SENSE?

Pakistan has been abundantly bestowed with natural resources. It has a highly fertile land. It has plenty of water. Its people are very intelligent and hard-working who have proved their worth and competence in every corner of the world. But the lack of civic sense is tarnishing our image as a respectable nation in the comity of nations and making the country an inhospitable place for both humans and animals. Instead of utilising the abundant natural and physical resources with care, these are being destroyed/wasted with impunity.

Good manners are exceptionally important in life and at the workplace. Unfortunately, most Pakistanis lack civil sense. They generally spit here and there, throw litters on and dirty the roads/public parks/platforms, disturb others by playing high-pitched music; we don’t care for others; we freely tease and harm others if we can escape getting caught/punished; we want to please our Lord by doing Naat-Khaani on loudspeakers even if it does adds to the woes of the neighbours or the sick; we waste natural resources with impunity and do not pay the utility bills; we violate laws, especially the traffic rules; we drive recklessly–one-wheeling on motorbikes is frequently seen; we write advertisements/graffiti on walls especially those of the toilets; we give bribes; we smoke in public places/vehicles; we ridicule the poor; we are intolerant towards others; and suspect and abuse others for nothing; hardly a few amongst us have the courtesy to offer their seat to a woman or an old person in public transport; the heaps of garbage in public parks, sea views, lakes and gardens, waste of food in functions and profuse use of polythene bags in our society display how acutely we lack civic sense. The polythene bags are not only creating health hazards but have the potential to disturb life in cities and destroy agriculture by blocking the sewerage and irrigation systems.

The scourges of extremism and terrorism are extreme manifestations of this lack of civic sense. Extremism has been resulted by the lack of due regard and tolerance for opponents and opposing ideologies. And terrorism is the result of a callous and ruthless mindset which divides the world between “us and them” and where there right of security of life and property is available only to ‘us’ while death is reserved for ‘them’, the opponents. Obviously, a man having civic sense –or regard for the life, honour, peace, happiness and ease of others- can neither be an extremist nor terrorism.

We often see people parking their vehicles in front of ‘No Parking’ signboards and at the footpaths. Materialism, terrorism, sectarianism, extremism, intolerance, racism, mud- slinging and quarrelling on petty issues, a mad race to excel others in money and prestige and disregard for the rule of law are both causes and manifestations of this lack of civic sense. Instead of listening carefully and respectfully to what others say, most of us resort to taunting and vandalism. As a nation, it seems, we are ruled more by our emotions than mind.

We claim having a strong culture of discipline and decency but then our people forget everything when it comes to eating and swarm the food in festivals and programmes.

WHY DO PAKISTANIS LACK CIVIC SENSE?

The familiar stereotyped perception is that the illiterate and the poor have no civic sense but it is erroneous to associate the lack of civic sense to wealth or poverty as the rich and the mighty also display lack of civic sense. For example, they delay flights with complete disregard for other passengers.

Lack of civic sense could be either due to lack of education and awareness. It could also be resulted by the lack of sensitivity and disregard for one’s obligations either for sheer arrogance or for the fact that there is monitoring/accountability structure in a given society that is required for forcing compliance to law. It is rightly said that people who have no sense of duties also have no civic sense and they usually violate not only laws but ethical obligations as well.

Then, we Pakistanis are always in a hurry so lining up and waiting for one’s turn is rarely seen. Again, materialism is fuelling the mad race for self-aggrandisement and account for the vices of corruption, nepotism, favouritism and other malpractices in government departments and private/public dealings.

Many dream of bringing change in Pakistan. But hardly a few are ready to change themselves. We want to bring change but only by criticising/correcting others. We are least prepared for introspection and self-reformation. The basic principle –that we cannot bring change unless we change ourselves, our attitudes and our mindsets –is generally forgotten

There is a memorable quote that best describes our style of religiosity. It read: “Pakistan is facing problems because everyone here wants a hearty share from the temporal bounties for himself/herself but is worried for the life-hereafter of others”.

The media, the intelligentsia and the education curricula could have been more helpful in bringing home the importance of civic sense. It has, unfortunately, been neglected thus far.

WHAT IS NEEDED FOR PROMOTING CIVIC SENSE?

NOT GOVERNMENT ALONE?

All responsibilities and tasks should not be left to government. Citizens need to perform their due role in each walk of life. We will have to shun the mentality that we have the right to throw garbage and spit anywhere and that it is the government’s duty to clean it.

INTROSPECTION AND SELF-IMPROVEMENT

For things to change, we must change. For things to get better, we must get better. We need to change ourselves first if we want change, reform and improved services. Setting a good example is better than teaching/preaching others what to do and what not to do. The Quran also declares: “Do you ask others to do the right things and forget about yourself?”

EMPATHY

We must be empathic. Empathy is trying to feel what somebody else is feeling or look at something through someone else’s eyes so as to understand, help and console him/her if needed. We should always have capacity and penchant to put ourselves in other place and think what would I have felt if this and that had been done to me. We need to be more civilized and caring for others. He/she must respect and facilitate others at home, schools, offices, hospitals, parks, transport and thoroughfares and in dealings, interactions, engagements and functions.

RIGHTS IMPLY DUTIES

It must never be forgotten that rights imply duties. Our rights are duties for others and others’ rights are duties for us. If we have a right to good, clean and peaceful environment, resources, security of life and property, and to be treated respectfully, these rights also imply duties on our part towards others. We must remember that every citizen has the right to enjoy civic amenities like drinking water, electricity, transport facilities etc. It is the duty of every citizen to use these civic amenities properly/carefully and pay the bills and other taxes imposed by the government so that welfare –development and repair/maintenance expenditures of public facilities –could be financed.

CONCERTED EFFORTS BY DIFFERENT STAKEHOLDERS

Different stakeholders –government, law enforcement agencies, media, religious scholars, civil society, professionals, the intelligentsia, and all others –should be involved and need to play their roles in promoting civic sense among the people.

ADVOCACY/ AWARENESS CAMPAIGNS

There is a great need to educate/motivate people, organize training sessions, and run advocacy campaigns. There print and electronic media, the ulema, the civil society and the intelligentsia should spread more awareness on the demands of urbanisation, social ethics and conservation of natural resources and our duties as predecessors to our successors –the next generations.

INCORPORATING CIVIC SENSE IN TEXTBOOKS

Government should include reading material regarding civic sense in textbooks. By educating the youngsters in schools through textbooks, pictures and videos on civic sense, we will not only be making him a better human being but also help rebuilding the country.

PICTURES AND VIDEOS ON CIVIC SENSE

Media could promote civic sense by telecasting/broadcasting short clips about positive and negative behaviours. There are quite a lot of useful and impressive videos already available on the internet on civic sense. In one of them, a person spit in front of neighbour’s door. The neighbour cleans it daily and smiles back whenever the guilty one passes by. At last, the guilty person repents and gives up the bad habit. In another, four youngsters dirty a wall. Usually, passersby warn and try to beat the boys and they disappear but reappear soon to start dirtying the wall again. This practice goes on until a boy with civic sense appears. He brings water and duster to cleanse the wall dirtied by the boys. He is soon joined by many passersby in his effort. At last, the trouble-makers too come and help wash/cleanse the wall.

COMPETITIONS ON CIVIC SENSE BETWEEN PERSONS, TOWNS, CITIES

The government and civil society should announce competitions on different aspects of civic sense like cleanliness, courtesy, humility, cooperation, following the law, paying taxes, helping the needy, caring for others, respecting others, tolerance, awareness and sensitivity to others’ rights, sense of duty and service to humanity etc. These competitions could be used to ascertain and reward the person with the best civic sense in offices, departments, institutions, localities. Similarly, this competition could be used to determine the best cities, villages, wards, Union councils, tehsils and districts on any of the above aspects.

BAN ON POLYTHENE BAGS

As regards the abundant use of polythene bags, the government should prohibit the carrying of daily items in plastic bags. The ban is already there but it needs to be implemented.

BAN ON ONE-WHEELING

One-wheeling has resulted in countless tragedies but it, nevertheless, continues. It is not only insensitivity for one’s own but also for others’ lives. Merry-making at the cost of human lives cannot be tolerated.

ACCOUNTABILITY MECHANISM

Government should announce that the shopkeepers and residents of a particular locality would have to dump their garbage at identified points only. It must also ensure that if someone is not throwing garbage in its proper place, he/she will have to pay a specific fine. The administration should bring to book the culprits destroying the natural resources and playing havoc with the lives and peace in society.

 

 

Qital in Pakistan?

Genesis of the Jamaat
Tahir Ali November 30, 2014

http://tns.thenews.com.pk/genesis-of-jamaat-e-islami/#.VaDmAomxVK0 Nov 30,2014

Is Jamaat-e-Islami switching over from its peaceful democratic struggle to violent means to achieve its objectives?

Genesis of the Jamaat
Does Munawar Hasan know the implications of his views?Tahir-Ali2

Addressing last week’s Jamaat-e-Islami’s (JI) annual gathering in Lahore, former JI Ameer Munawar Hasan said that it was beyond the system based on elections to overcome the challenges being faced by Pakistan. “The problems of the society… can only be resolved through adopting and promoting the culture of jihad and qataal in the country. We need to wage jihad in the way of Almighty Allah along with democratic struggle to eliminate oppression and injustice from society.”
Does Munawar Hasan know the implications of his views? Will this qataal be against Pakistani security forces, political and religious leadership, parties or the entire system? Is the state on the wrong side and Taliban on the right or vice versa? Does JI support al-Qaeda?
It is ironical that he was the Ameer of JI and a successor of Maulana Maududi. Did Maududi write his famous book Aljehad Fil Islam on the strategy of qataal in a Muslim society? Munawar Hasan himself has never visited the battlefield himself or allowed his family members to go to the frontline. His assertion is likely to be misconstrued as an invitation/permission for violent reformation struggle.
Munawar Hasan represents a narrative in Pakistan that has many buyers. This narrative looks at democracy and electoral system as a hurdle in change. He dreams of an Islamic revolution, favours use of force to coerce compliance to Shariah, doesn’t accept the state boundaries and believes in Ummah as a political concept, sympathises with militants and considers them Mujahideen, thinks suicide attacks and terrorism are planned and executed by local agencies or Raw, CIA, Blackwater and attributed to Muslims to malign Islam, opposes military operations against militants and urges talks with them and so on.
Also read: The ameer and his party
He is not alone in these views. And there are many reasons — our dysfunctional system of justice and social services delivery system has disillusioned the masses. Private TV channels, intellectuals, religious class and state institutions have played their role to perpetuate and expand this disillusionment. Anti-democracy sentiments have spread especially in religious parties which have traditionally received negligible electoral success. The JUI F talks of democracy, for it has enjoyed sufficient electoral benefits.
JI at a crossroads
Earlier, Munawar Hasan had said that JI shared the same ideology with TTP and that the difference was in the tactics that JI employed. But how could JI, a political party that believes in democracy and constitutional rule within Pakistan, and al Qaeda and TTP, militant violent outfits that work for global khilafat, have same ideology.
Munawar Hasan represents a narrative in Pakistan that has many buyers. This narrative looks at democracy and electoral system as a hurdle in change. He dreams of an Islamic revolution.
There is no room for violent means in the JI strategy. Article 5 of the JI Constitution spells out that for the desired reform and revolution, the Jamaat shall use democratic and constitutional means, i.e., the use of advice and propagation of thought for reforming the mind and character, and preparing public opinion for accepting the desired changes and that this struggle for the realisation of its objectives shall be open and public, and not on the pattern of secret movements.
JI has several advantages vis-à-vis its rivals — discipline, countrywide support, internal democracy and simplicity. Even though Sirajul Haq, Ameer JI, says ballot paper is the only source of power and reformation, JI is at a crossroads. It has to decide whether it prefers the successful peaceful democratic Turkish model or the failed reactionary/violent Algerian and Egyptian models.
It has to decide whether it has to maintain status quo in its targets, ideology, structure and strategy. Or it has to become an ultra right militant group like al-Qaeda and TTP, or it reviews its plans and performances in the light of careful analyses of failure of Egypt’s Muslim Brotherhood and Turkey’s Justice and Development Party, to shape anew its political vision and mission and become a modern party.
Private jihad not allowed
Jihad is not synonymous with terrorism but opinions differ on what constitutes true jihad. For example, al-Qaeda and TTP assert that they fight for Islam; what is jihad for them is terrorism for others. There is no concept of war without state permission. War has only to be declared and managed by the state and government.
Similarly, administration of justice and execution of punishment is also the sole authority of the state. Women, sick people, children, animals, crops and non-combatants cannot be targeted. And desecration of bodies and targeting of religious places is not allowed.
All big religious schools of thought agree over this. There is no exemption for anyone.
Maulana Maududi never approved of jihad by private outfits. He had even outlawed jihad in Kashmir in 1948 for Pakistan had infiltrated private fighters there without any formal declaration of war. Had he been alive, he certainly would not have liked JI’s militant leanings.
Covert war against state(s) having diplomatic relations with Pakistan?
Maulana Maududi refers to Surah Anfaal 8:72, which says that Muslims are not allowed to indulge in secret subversive activities against infidels. He explains: “If we get into a dispute with a nation we are associated in a treaty with, and we realise that dialogue or international arbitration is not helpful in resolving the conflict or that it is bent on using force, it is legitimate for us to use force for its resolution. But this verse makes us morally bound that this use of force should come after clear and open declaration. To undertake covert armed activities, which we are not ready to admit openly, is an immorality which is not taught by Islam.”
Muslim states responsible only for their own citizens
In this verse, it has also been mandated that Islamic state is in no way responsible for the Muslims living outside its border. Maududi explains: “The responsibility of the Islamic states, as per this verse, is restricted to those living inside its borders….thus Islam has uprooted the very dispute that often originates from international complexities because when a country takes it upon itself to support some minorities living in other countries, it creates such anomalies that cannot be even solved by recurrent wars.”
What is Ummah?
Ummah is a spiritual concept but it is unfeasible as a political ideology. Unity is witnessed in Hajj which is a religious gathering. However, when Muslims come together in UN, OPEC, OIC, ECO etc which are political or economic entities, each country tries to safeguard its own interests for the ruler of each is the guardian of his nation who is accountable to/for his subjects. And when religious sects/parties cannot tolerate their rivals in other sects and in political struggle/fields and don’t unite into one, how could they argue for global Muslim Ummah neglecting state boundaries.
Muslims live in different countries and though they have sympathies with Muslims, every state pursues its own national interests first.
Sirajul Haq as a political leader prefers his party interests. As KP Finance Minister, he is not ready to share KP benefits with other provinces. At individual level, a Muslim doesn’t let stranger “Muslim brothers” enter his house or let them construct house on his land. Can he travel to another country without a valid visa issued by the other state from the Muslim ummah? Where is ummah in this equation?
Confusion?
Religious parties are confused over the genesis of terrorism. Terrorism can either be the work of foreigners/non Muslims or of extremists who are unhappy with the foreign policy. It cannot be two things at the same time. If it is the work of the former, there should be no reason to attribute the rise of terrorism to our alliance with the West and to suggest withdrawal from the coalition or talks with them as the prerequisite for peace in the region. And if it is committed by extremists, foreign agencies get automatically absolved of the blame.
Even if, as they say, Pakistan’s alliance with the West is the only reason for terrorism in Pakistan, does this justify the violence perpetrated by the extremists? They are yet to openly declare the TTP’s strategy unjust and un-Islamic.

Tahir Ali
tahir ali
The author is an academic and a freelance columnist. He blogs at tahirkatlang.wordpress.com and can be reached at tahir_katlang@yahoo.com.

……………………………………………………………………

ORIGINAL TEXT OF THE ARTICLE

Jihad and Qital and democracy

By Tahir Ali

Addressing last week’s Jamaate Islami’s (JI) annual gathering in Lahore, Munawar Hasan, Ex Amir JI, ruled that it was beyond the system based on elections to overcome the challenges being faced by Pakistan. “I won’t mince my words in declaring that the problems of the society in which we live can only be resolved through adopting and promoting the culture of Jihad and Qital (war) in the country. “We need to wage Jihad in the way of Almighty Allah along with democratic struggle to eliminate oppression and injustice from society.”

When MH says Jihad and Qital is needed to support democratic dispensation which alone doesn’t suffice to solve problems, does he know what could be the implications of his views? Will this Qital be against Pakistani security forces, political and religious leadership, parties or the entire system? Is the state on the wrong and Taliban on the right or vice versa? Does JI support Alqaeda? Is it legitimate to wage war against Pakistan and its citizens? The nation awaits clarification.

It is ironical he was the Amir of JI and a successor of Maulana Madoodi who was famous for his constitutional mind. Did Maulana Maudoodi write his famous book Aljehad Fil Islam on the strategy of Qital in a Muslim society? And then MH has passed almost his entire life in the peaceful democratic political struggle. He doesn’t seem ever to have visited battlefield himself or allowed his family members to go to the frontline of Qital. Then why this assertion which could be misunderstood by Pakistani youth as an invitation/permission for violent reformation struggle.

By persisting with intermittent statements that often trigger controversies, Munawar Hasan has shown that the leftwing activist in him who joined the National Students Federation – a student body with a communist ideology- and was elected its President in 1959 is very much still there. In NSF, he seems to have contracted an extreme hatred for the ‘US Imperialism’ that still overwhelmingly shapes his thoughts. Whosoever that fights or claims to fight with the US becomes his hero. An acute hatred of this kind often leads one to deviate from the path of justice and fair-play.

Munawar Hasan represents a narrative in Pakistan that has, nevertheless, many buyers here. This narrative looks at democracy and electoral system as a hurdle in change’; dreams of an Islamic revolution; favours use of force to coerce compliance to Shariah; doesn’t accept the state boundaries and believes in Ummah as a political concept; sympathises with  militants and considers them Mujahideen in Allah’s path; thinks suicide attacks and terrorism are planned and executed by local agencies or Raw, CIA, Blackwater and attributed to Muslims to malign Islam; opposes military operations against militants and urges talks with them and so on.

He is not alone in these views. Many do so. Reasons thereof are many. Our dysfunctional system of justice and social services delivery system has disillusioned the masses. Private TV channels, intellectuals, religious class and state institutions played their role to perpetuate and expand this disillusionment. Anti-democracy sentiments have spread enormously especially in religious parties which have traditionally received negligible electoral success. JUI F talks of democracy for it has enjoyed sufficient benefits from its democratic manoeuvres so far.

JI at a crossroads

Earlier, Munawar Hasan had said that JI shared the same ideology with TTP and that the difference was in the tactics that JI employed. But how could JI, a political party that believes in democracy and constitutional rule within Pakistan, and Alqaeda and TTP, militant violent outfits that work for global khilafat, have same ideology, one fails to understand.

There is no room for violent means in JI strategy. Article 5 of the JI Constitution spells out that for the desired reform and revolution, the Jamaat shall use democratic and constitutional means, i.e., the use of advice and propagation of thought for reforming the mind and character and preparing public opinion for accepting the desired changes and that this struggle for the realisation of its objectives shall be open and public, and not on the pattern of secret movements.

JI has several advantages vis-à-vis its rivals like discipline, countrywide support, internal democracy and simplicity. Even though Sirajul Haq, Amir JI, says ballot paper is the only source of power and reformation, JI is at a crossroads. It has to decide whether it prefers the successful peaceful democratic Turkish model or the failed reactionary/violent Algerian and Egyptian models.

It has to decide whether it has to maintain status quo in its targets, ideology, structure and strategy. Or it has to become an ultra right militant group like Alqaeda and TTP, or it reviews its plans and performances in the light of careful analysis of failure of Egypt’s Muslim brotherhood and turkey’s  Justice and Development Party, to shape anew its political vision and mission and become a modern party.

Muslims should obey their rulers

Religion doesn’t prescribe a particular political system but it gives broad principles that the government of the Muslims be formed and run through consultations, that it should be obeyed in all matters except vices, that disobedience to it is a sin and revolt against it is not allowed unless a kufre bawah (open heresy like denouncing Quran or prayer or Haj for example) is witnessed, that baaghi (mutineers) and fasadi (mischief-mongers) will be with dealt severely etc.

Prophet Muhammad (PBUH) said: “If someone ever hears some disgusting things from his ruler, he should observe patience because if anyone went out even a hand sized distance from the obedience of his government and died thus, he died in a state of jahiliant (ignorance) [Bukhari 7053]. But if he is ordered to commit a sin, he will neither listen to him nor obey him [Muslim 4763].

 

Private Jihad not allowed

Jihad is not synonymous with terrorism but opinions differ on what constitute true Jihad. For example, Alqaeda and TTP assert that they fight for Islam. What is Jihad for them is terrorism to others. There is no concept of war without state permission. War has only to be declared and managed by the state and government. Similarly administration of justice and execution of punishment is also the sole authority of the state. Women, the sick, the children, animals, crops and Non-combatants cannot be targeted which are. And desecration of bodies and targeting of religious places is not allowed. All big religious schools of thought agree over this. There is no exemption in this principle for anyone. When Allah didn’t even confer on His prophets the right to declare war without first gaining state/sovereign power, how can it be given to the Mujahideen of today?

Maulana Maudoodi never approved of Jihad by private outfits. He had even outlawed Jihad in Kashmir in 1948 for Pakistan had infiltrated private fighters there without any formal declaration of war. Had he been alive, he certainly would not have liked JI militant leanings. It is incomprehensible that MH learnt from his 40plus years of association with Maulana Maudoodi and JI that a culture of Qital needs to be spread in Pakistan. It deserves a better future than being subjected to and degenerated to be like Afghanistan, Iraq, Syria, Labya by recourse to militancy?

Covert war against state(s) having diplomatic relations with Pakistan?

Muslims, in Anfaal 8:72, are not allowed to indulge in secret subversive activities against infidels, what to talk of Muslim governments. Maulana Maudoodi explains: “If we get into a dispute with a nation we are associated in a treaty with, and we realise that dialogue or international arbitration is not helpful in resolving the conflict or that it is bent on using force, it is legitimate for us to use force for its resolution. But this verse makes us morally bound that this use of force should come after clear and open declaration. To undertake covert armed activities, which we are not ready to admit openly, is an immorality which is not taught by Islam.”

Suicide attacks are also wrong and illegitimate from Islamic perspective for in a suicide attack, the attacker kills himself first with his own hands which is prohibited in Islam.

Muslim states responsible only for their own citizens

In this verse, it has also been mandated that Islamic state is in no way responsible for the Muslims living outside its border. Maudoodi explains: “the responsibility of the Islamic states, as per this verse, is restricted to those living inside its borders….thus Islam has uprooted the very dispute that often originates international complexities because when a country takes it upon itself to support some minorities living in other countries, it creates such anomalies that cannot be even solved by recurrent wars.”

Democratic and peaceful struggle

The situation is Pakistan is that to the extent of statute book, all laws (except the interest based bank transactions) are in consonance with traditional Islamic jurisprudence. If our system has failed to deliver it is because the laws are not being rightly followed, plaintiff and defendant lie in courts, witnesses either decline to give testimony or give wrong one, the police is corrupt, the lawyers use delaying tactics and the court officials seek bribes. There is room for improvement but the only way to remove the shortcomings and bring improvement in the government and individuals is the peaceful non-violent way comprising strategies of education, incitement, persuasion, encouragement, giving good tidings and informing/cautioning on vices. The violent strategy for that purpose leads only to disunity, injustices, anarchy and destruction.

Democracy may have its shortcomings but its benefits outnumber its drawbacks. It provides opportunity for gradual improvement. When peaceful change is possible (MMA, PTI mandate) why resort to illegal violent means?

Is coercion allowed?

 

Extremists advocate Jihad increases compliance with Islamic laws. But Muslims are not bound or entitled to force people or governments to come to the right path. Even the prophets of Allah were bound to preach and not to be dictators and force compliance. How could others be? Preaching should be done slowly, gradually, peacefully, affectionately and patiently. All the great Scholars of all Islam- Imam Abu Hanifa, Imam Malik, Imam Ahmad, Imam Shafi, Imam Bukhari etc never resorted to armed struggle against Muslim rulers who were more vicious and sinful than the rulers of today.

What is Ummah? Where is Ummah

Ummah is a spiritual concept but it is unfeasible as a political ideology. Unity is witnessed in Hajj which is a religious gathering. However when Muslims come together in UN, OPEC, OIC, ECO etc which are political or economic entities, each tries to safeguard its own interests for the ruler of each is the guardian of his nation who is accountable to/for his subjects. And when religious sects/parties cannot tolerate their rivals in other sects and in political struggle/fields and don’t unite into one, how could they argue for global Muslim ummah neglecting state boundaries. Muslims live in different countries and though they have sympathies with Muslims, every state pursues its own national interests first. Sirajul Haq as a political leader prefers his party interests and as KP finance minister is not ready to share KP benefits with other provinces. At individual level, a Muslim doesn’t let stranger “Muslim brothers” enter his house or let them construct house on his land. Can he travel to another country without a valid visa issued by the other state from the Muslim ummah? Where is ummah in this equation?
Gradual reformation?

Many Islamists who are eager and impatient to bring revolution are confusing two things: first, to desire and work for reformation; two, to be able to realise the dream. While Muslims are asked to work for bringing reformation, they are not bound to ensure it at any cost. They have to work for that and if they fail, they still will be rewarded for their sincere efforts. Forgetting this difference leads one to resort to hasty violent means for achieving objectives.

A collective system and its continuous reformation is the prerequisite for a civilised life but there is disagreement over whether reformation of society should precede that of the political system or follow it. One viewpoint argues when society and its people are reformed, governmental system will improve. The other says a competent and honest government automatically entails a transformed and honest society.

Confusion?

 

Religious parties are confused over genesis of terrorism. Terrorism can either be the work of foreigners/non Muslims or of extremists who are unhappy with the foreign policy. It cannot be two things at the same time. If it is the work of the former, there should be no reason to attribute rise of terrorism to our alliance with the west and to suggest withdrawal from the coalition or talks with them as the pre-requisite for peace in the region. And if it is committed by the extremists, foreign agencies get automatically absolved of the blame.

Even if, as they say, Pakistan’s alliance with the west is the only reason for terrorism in Pakistan, does this justify the violence perpetrated by the extremists? They are yet to openly declare the TTP’s strategy unjust and un-Islamic.

Tahir Ali

The author is an academic and a freelance columnist. He blogs at tahirkatlang.wordpress.com and can be reached at tahir_katlang@yahoo.com

%d bloggers like this: