کلبھوشن، ویانا کنونشن اور اقوام متحدہ کا چارٹر

کلبھوشن، ویانا کنونشن اور اقوام متحدہ کا چارٹر

طاہرعلی خان

http://daanish.pk/6971/

بین الاقوامی عدالت انصاف کی طرف سے کلبھوشن یادیو کیس میں عبوری فیصلے پر پاکستان میں لوگ اپنی سمجھ بوجھ اور سیاسی وابستگی کی روشنی میں تبصرے کر رہے ہیں۔ کوئی اسے جندال کے دورے سے جوڑ رہا ہے، کسی کے خیال میں پاکستانی وکلاء ٹیم کی کارکردگی مایوس کن تھی، کوئی کہتا ہے پاکستان کووہاں جانا ہی نہیں چاہیے تھا اور کسی کے مطابق بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے ماننا لازم نہیں اس لئے کلبھوشن کو فوراً پھانسی چڑھالینا چاہیے۔

پاکستانی وکلاء کی عالمی عدالت میں کارکرگی اور وزیراعظم نواز شریف اوران کے دوست بھارتی تاجر سجن جندال کی ملاقات سے اس کو جوڑنے والے نکات پر ایک سے زیادہ رائے ہو سکتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ ۹۴ کے مطابق بظاہر اس بات میں وزن دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان کے پاس یہ اختیار تھا کہ وہ عالمی عدالت نہ جاتا تو پھر اس کا فیصلہ ماننے کا پابند نہ ہوتا۔ اب چونکہ دانستگی یا نادانستگی میں پاکستان عالمی عدالت میں چلا گیا ہے اس لیے اس پر مزید بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تاہم آخری نکتہ کہ عالمی عدالت کے فیصلے بائینڈنگ نہیں اس لیے اب کلبھوشن کو پھانسی دے دینی چاہیے، متعلقہ قوانین اور بین الاقوامی ذمہ داریوں سے واضح لاعلمی پر مبنی ہیےاس لیے اس کی وضاحت ضروری ہے۔

اقوام متحدہ کے چارٹر کی دفعہ ۹۴ کےالفاظ یہ ہیں۔ ‘‘اقوام متحدہ کا ہر ممبر وعدہ کرتاہے کہ وہ ہر اس کیس میں عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کرےگا جس میں وہ فریق ہے۔ اگر کیس کا کوئی فریق عالمی عدالت کے فیصلے کے تحت عائد ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوجاتا ہے تو دوسرا فریق سیکورٹی کونسل سے رجوع کر سکتا ہےجو اگر ضروری سمجھے تو فیصلے پرعمل درآمد کے لئے سفارشات تجویز یا اقدامت کا فیصلہ کرسکتا ہے۔’’ چارٹر کی اس دفعہ کا انگریزی متن یہ ہے۔

UN Charter Article 94

  1. Each Member of the United Nations undertakes to comply with the decision of the International Court of Justice in any case to which it is a party.
  2. If any party to a case fails to perform the obligations incumbent upon it under a judgment rendered by the Court, the other party may have recourse to the Security Council, which may, if it deems necessary, make recommendations or decide upon measures to be taken to give effect to the judgment.

یہ بات تو واضح ہے کہ اب اس فیصلے سے روگردانی ممکن نہیں کیونکہ پاکستان امریکہ جیسی طاقت نہیں رکھتا جس نے کم ازکم دو مرتبہ عالمی عدالت کے اسی طرح کے فیصلوں کے باوجود ملزموں کو پھانسی چڑھا دیا تھا اور کوئی اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا تاہم پاکستان کے پاس راستہ کھلا ہے کہ وہ عالمی عدالت سے کلبھوشن کیس کا حتمی فیصلے اپنے حق میں کروانے کے لیے خوب تیاری کرے۔ اس کے لیے چند نکات پیش خدمت ہیں۔

ہندوستان نے ویانا کنونشن کی دفعہ ۳۶ کی روشنی میں پاکستان پر کلبھوشن تک قونصلر رسائی نہ دینے اوراسکی گرفتاری سے بروقت مطلع نہ کرنے پر مقدمہ کیا اور آفشنل پروٹوکول کے آرٹیکل ۱ کی بنیاد پر مطالبہ کیا تھا کہ عالمی عدالت انصاف ویانا کنوشن کے مفہوم اور اطلاق سے پیدا ہونے والے تنازعات پرچونکہ فیصلے دینے کا لازمی دائرۂ اختیار رکھتا ہےا س لیے وہ کلبھوشن کے مقدمے کو سنے تاہم پاکستان نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین ۲۰۰۸ میں قونصلر رسائی کا ایک معاہدہ ہوا تھا جس کی دفعہ ۶ کے مطابق سیاسی اور سیکورٹی بنیادوں پر گرفتاری، حراست اور سزا کی صورت میں ہر ریاست کو کیس کی میرٹ پر خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔

دیکھنا یہ ہے کہ آیا ۲۰۰۸ کا یہ پاک بھارت معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل۱۰۲ کے شق ا کے مطابق اقوام متحدہ کے ساتھ رجسٹرڈ کیا گیا تھا یا نہیں۔ اگرہاں تو پھر پاکستان کا کیس مضبوط ہے تاہم اسے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ کلبھوشن ایک غیرقانونی مداخلت کار اور جاسوس ہے۔ اگریہ رجسٹرڈ نہیں تو اسی آرٹیکل کے شق ۲ کے مطابق اقوام متحدہ کے کسی عضو کے سامنے ایسے کسی معاہدے سے مدد نہیں لی جا سکتی۔

انڈیا نے اگر یہی لائن لے لی تو پھراگر پاکستان کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں انسانی حقوق کی پامالیوں پرعالمی عدالت انصاف میں کیس کرلیتا ہے تو انڈیا بھی شملہ معاہدے کی آڑنہیں لے سکے گا کہ یقیناً یہ بھی اقوام متحدہ کےساتھ رجسٹرڈ نہیں کیا گیا ہوگا۔

تاہم ویانا کنونشن کے آپشنل پروٹوکول کے آرٹیکل ۱سے پہلے چند الفاظ آئے ہیں جن کی بنیاد پر پاکستان اپنا کیس بنا سکتاہے۔۔‘‘جب تک ایک معقول وقت کے اندر فریقین تصفیہ کی کسی اور شکل پرمتفق نہ ہوں، وہ کنوشن کی تفہیم یا اطلاق سے پیدا ہونےکسی بھی تنازع پر بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرنے کی خواہش کا اظہارکرتے ہیں’’۔ یہ معقول وقت کیاہے اور تصفیہ کی اور شکلیں کیا ہیں؟ اور یہ کہ اس کے بغیر کیا کوئی فریق براہ راست عالمی عدالت میں جا سکتا ہے؟

اس کنونشن کے آرٹیکل ۲ کے مطابق‘‘فریقین چاہیں، تواس کے بعد کہ ایک فریق نے دوسرے کو اطلاع دے دی ہو کہ تنازع موجود ہے، دو مہینے کے اندر اندر عالمی عدالت نہیں بلکہ کسی ثالثی ٹریبیونل سے رجوع کرنے پر متفق ہو جائیں۔ اس مدت کے اختتام پر کوئی بھی فریق ایک درخواست سے اس تنازع کو عالمی عدالت میں لا سکتا ہے’’۔

اس کنونشن کے آرٹیکل ۳ کے ذیلی شق ۱کے مطابق اسی دو مہینے کی مدت میں فریقین چاہیں تو عالمی عدالت سے رجوع کرنے سے پیشتر اصلاح و تصفیہ کے کسی طریق کار پر رضامند ہوں۔ شق دو کے مطابق یہ مفاہمتی کمیشن اپنی تقرری کے پانچ ماہ کے اندر اندر اپنی رپورٹ دے گا۔ اگر اس کمیشن کی سفارشات کو کوئی فریق دو ماہ کے اندر اندر قبول نہ کرے تو دوسرا فریق ایک درخواست کے ذریعے عالمی عدالت کے سامنے یہ تنازعہ لاسکتا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ عالمی عدالت میں جانے سے قبل یہ شرائط ہندوستان نے پوری کی تھیں۔ کیا اس نے پاکستان کے ساتھ کسی ٹریبیونل یا مفاہمتی کمیشن کے لئے بات کرنے کی خواہش اور کوشش کی تھی؟ اگر نہیں تو وہ اس کنونشن کے تحت براہ راست رجوع کرنے کا حق نہیں رکھتا اور پاکستان کو پرزور انداز میں یہ دلیل پیش کرنی چاہیے۔

پاکستان کہتا ہے کلبھوشن ایک جاسوس ہے جو دہشت گردی کرانے غیرقانونی طریقے سے بھیس بدل کر پاکستان میں داخل ہوا تھا اور اسے ویانا کنونشن کے تحت حقوق نہیں دیے جا سکتے جبکہ انڈیا اسے ایک بےگناہ ہندوستانی گردانتا ہے جس کو قونصلر رسائی اور قانونی امداد کے حقوق حاصل ہیں۔ اب ایک طرف ویانا کنونشن ہے اور دوسری طرف اقوام متحدہ کا چارٹر جو دوسرے ممالک کے اقتداراعلیٰ اور سالمیت کے احترام اور ان کے اندرونی امور میں مداخلت کی اجازت نہیں دیتا۔ ایک طرف ہندوستان کی ویانا کنونشن کے تحت ذمہ داریاں ہیں اور دوسری طرف اقوام متحدہ کے تحت۔ ان میں کس کو فوقیت دی جائیگی؟ اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل ۱۰۳ کا اس سلسلے میں فیصلہ یہ ہے۔ ‘‘اقوام متحدہ کے ارکان کی اس موجودہ چارٹر یا کسی دوسرے بین الاقوامی معاہدے کے تحت ذمہ داریوں پر کوئی اختلاف واقع ہو جائے تو اس چارٹر کی تحت ان کی ذمہ داریوں کو فوقیت حاصل رہے گی۔’’

کیا اقوام متحدہ کا چارٹر عالمی ادارے کے ممبران کو ایک دوسرے کے اندر مداخلت یا جاسوسی کرنے یا ایسا کرنے والوں کی مدد یا پشت پناہی کی اجازت دیتا ہے؟

Writer’s intro

طاہرعلی خان فری لانس صحافی ہیں، رواداری ، احترام انسانیت اور امن کے پرچارک ہیں اور ان مقاصد کے حصول کے لیے ۔    کے نام سے بلاگ بھی رکھتے ہیں ۔ www.tahirkatlang.wordpress.com لکھتے ہیں. وہ

%d bloggers like this: