دنیاکیسی ہوگی 2021

دنیاکیسی ہوگی 2021

طاہرعلی خان

مستقبل کے بارے میں پیشن گوئی کرنا آسان نہیں۔ مثلاً ایک سال قبل کسی کو کیا پتا تھا کہ ایک وبائی بیماری دنیا کی ہیئت مکمل تبدیل کرکے رکھ دے گی۔ آج نئے سال کا پہلا دن ہے۔ اس سال میں دنیا میں کیا کیا وقوع پذیر ہوسکتا ہے، اس پر لکھا جارہا ہے۔ امکان ہے کہ ہمیشہ کی طرح اس سال بھی کبھی خوش کن اور کبھی مایوس کن واقعات جاری رہیں گے۔

کورونا وائرس نے 2020 میں دنیا کو تبدیل کردیا ہے۔ دنیا بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 1.7 ملین ہوگئی یے اور کروڑوں اس سے لڑ رہے ہیں۔ وائرس کی نئی خطرناک شکلیں سامنے آرہی ہیں۔ عالمی معیشت کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔ دنیا کو معمول پر لوٹ آنے میں خاصا وقت لگے گا۔ خوشخبری یہ ہے کہ دو انتہائی موثر ویکسین استعمال کے لئے منظور کرلی گئ ہیں اور مزید بنائ جارہی ہیں۔ مگر ویکسین کو وسیع پیمانے پر تقسیم کرنے میں بڑی مشکلیں پیش آئیں گی۔ اگرچہ دو ارب ویکسین لگائے جانے کا منصوبہ ہے مگر اس بارے سازشی نظریات، مالی مسائل اور ترسیل میں مشکلات کی وجہ سے یہ ٹارگٹ آسان نہیں۔ لگتا ہے ماسک پہننے، معاشرتی دوری، وائرس کی تشخیص اور علاج وغیرہ سے متعلق خبریں 2021 میں بھی چھائ رہیں گی۔

علاج معالجے،  نقل و حمل، پیغام رسانی ، ڈی این اے  اور برقی کاروں وغیرہ میں عالمی سطح پر  سائنس کی حیران کن ترقی کاسلسلہ جاری رہے گا۔ امریکہ میں ماحول دوست جو بائیڈن کی کامیابی اور اس سال انتخابات کے بعد جرمنی میں گرین پارٹی کی حکومت سازی میں متوقع اہم کردار سے امید کی جارہی ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی پر بھی اب تیزی سے کام ہوگا۔

جو بائیڈن بیس جنوری کو ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے 46 ویں صدر بننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہیں ایک منقسم امریکہ ملا ہے۔ افغانستان اور چین وغیرہ جیسے خارجہ پالیسی چیلنجز، پیرس موسمیاتی معاہدے اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ساتھ دوبارہ جا شامل ہونے، ایران سے جوہری پروگرام کے معاہدے کی تجدید، ششمالی کوریا کے میزائل یا جوہری تجربات اور امریکی حکومت اور کارپوریشنوں کے روس کی ہیکنگ سے پیدا شدہ مسائل وغیرہ انہیں درپیش ہیں۔ بائیڈن کو امید ہے وہ چین کے ساتھ معاملات ٹھیک کرلیں گے اور مرہم اور معافی کے اپنے اندرونی ایجنڈے پر بھی پیشرفت کرسکیں گے۔ کیا ان کی سرکردگی میں امریکہ ایک ہمدرد اور ذمہ دار ملک کےںطور پر ان سب امور پر مثبت کردار ادا کرسکے گا؟ اگر ہاں تو پھر امریکہ اور دنیا دونوں کو فائدہ ہوگا۔ انہیں اندرون ملک کانگریس کی طرف سے اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد میں مسائل بھی ہوں گے تاہم اگر بائیڈن چھ جنوری کو جارجیا میں ہونے والے سینیٹ کے انتخابات میں ڈیموکریٹس کو جتوا سکیں تو کانگریس کی طرف سے وہ مطمئن ہو جائیں گے۔ امکان بہرحال یہ ہے کہ ٹرمپ اور ان کا سیاسی ورثہ بائیڈن کے لیے مستقل درد سر بنے رہیں گے۔

 ماہرین کے مطابق امکان ہے کہ اس سال سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کا اعلان سامنے ائے گا جو مشرق وسطیٰ  میں ایک اہم پیش رفت ہوگی۔

چین تیزی سے اپنا اثر ورسوخ پھیلا رہا ہے۔ 2020 میں بھارت کے ساتھ اس کا سرحدی تصادم ہوا۔ اس نے ہانگ کانگ پر ایک نیا قومی سلامتی قانون نافذ کیا جو برطانیہ سے کیے گئے معاہدے کے بظاہر خلاف تھا اور جس سے وہاں منظم عوامی احتجاج اب مشکل نظر آرہا ہے۔ اس نے تائیوان کو بار بار امریکہ سے تعلقات مضبوط کرنے پر دھمکانے کی کوشش کی۔ وہ عالمی سیاست اور معیشت پر اجارہ داری کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اس سلسلے میں مشرق وسطی اس کی دلچسپی کا ایک اور میدان ہے۔ اندازہ ہے کہ وہ اگلے سات برس میں امریکہ سے آگے نکل کر دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ چین کے ساتھ ماحول ٹھنڈا  رکھے گا  یا چین کا مقابلہ کرے گا۔ آنے والے مہینوں میں اس حوالے سے سرد و گرم دونوں کی توقع کی جاسکتی ہے۔

غربت اور بے روزگاری میں بھی عالمی سطح پر اضافہ متوقع ہے۔ کوویڈ ۔19 نے 2020 میں عالمی معیشت کو سخت نقصان پہنچایا۔ اس سال عالمی پیداوار 5.2 فیصد تک سکڑنے کا امکان ہے۔ وبا سے پہلے  شرح نمو  2.5 سے 3.4 فیصد تھی۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ نے 2022 کے بعد عالمی معاشی نمو کے لئے اپنے تخمینے کو کم کردیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ عالمی غربت میں اضافہ 2020 سے بھی آگے بڑھ سکتا ہے۔ غریب ممالک  معاشی بدحالی سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔ ایک اندازے کے مطابق وبائی امراض کی وجہ سے دنیا بھر میں انتہائی غربت میں ڈوبے لوگوں کی تعداد میں 120ملین کا اضافہ ہوا ہے۔

چین واحد واحد بڑی معیشت ہے جس نے 2020 میں ترقی کی۔ کم ملکی قرضے، سمجھدار معاشی نظم و نسق ، اور کورونا وائرس پر موثر کنٹرول کے اشاریوں پر چینی معیشت 2021 میں دنیا  کی ایک تہائی حصہ بن سکتی ہے۔ اس کے برعکس ، یورپ اور شمالی امریکہ کی معیشتیں  پیچھے رہنے اور ڈالر کا عالمی اثر و رسوخ کم ہونے کا امکان ہے۔ عالمی بینک نے کہا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں، جو تجارت، سیاحت اور ترسیلات زر پر انحصار کرتی ہیں، خاص طور پر سخت نقصان میں ہوں گی۔ خوراک اور صاف پانی کی کمی بھی ایک بڑا مسئلہ بن رہا ہے۔ امکان اور خدشہ یہ ہےکہ معاشی پریشانیوں اور غربت سے مزید سیاسی تنازعات پیدا ہوں گے، چاہے ملکوں کے اندر ہوں یا ملکوں کے مابین۔

بھارت میں مودی سرکار مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے میں اپنی کامیابی دیکھ رہی ہے۔ یہ بہت خطرناک بات ہے اور کسی بھی لمحے وہ اپنے سیاسی مقاصد کےلیے جنگ کی آگ بھڑکا سکتے ہیں۔

ستمبر گیارہ کو امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون پر حملوں نے دنیا کو تبدیل کر دیا تھا۔ مبصرین کو  خدشہ  ہے کہ جلد گیارہ ستمبر جیسا  ایک بڑا دہشت گرد حملہ ہوسکتا ہے جس سے پھر دنیا میں نئ صف بندی اور نفرت پیدا ہوگی۔

افغانستان میں امن کی کوششیں جلد کامیاب ہونے کا امکان نظر نہیں آرہا۔ ایسے میں افغانستان پاکستان پر اپنی ناکامی کا ملبہ گرانے کےلیے الزامات کاسلسلہ جاری رکھے گا۔ پاکستان کو  ایک طرف چین اور امریکہ کے درمیان اور دوسری طرف عرب ممالک اور ترکی و ایران کے ساتھ اپنے تعلقات کا توازن برقرار رکھنے کےلیے محنت  کرنی ہوگی۔ صدر ٹرمپ تو بغیر کسی بین الافغان معاہدے کے جون 2021  تک امریکی فوج  افغانستان سے نکالنا چاہتے تھے۔ اگر ایسا ہوا تو افغانستان ایک مرتبہ پھر خانہ جنگی کا شکار ہوجائے گا۔ اگر جو بائیڈن نے تمام علاقائی ملکوں اور نیٹو حلیفوں کی مدد سے افغان مذاکرات کی کامیابی کےلیے مخلصانہ کوشش کی تو وہاں امن آسکتا ہے۔

نگورنو کاراباخ، ایتھوپیا، مراکو کے صحراوی قوم، اسرائیل  فلسطین تنازعہ، روہنگیا مسلمانوں پر ظلم، افغان طالبان کا کامیابی، کشمیرمیں بھارتی اقدام وغیرہ جیسے واقعات طاقت کو مسائل حل کرنے کےلیے ایک بڑا عامل ثابت کیا ہے اور سفارت کاروں اور مصالحت کاروں کی وہ بات غلط ثابت کردی ہے کہ سیاسی مسائل کا کوئ فوجی حل نہیں ہوتا۔ دعا ہے کہ اس سال پرامن جمہوری تحریک آزادی و کامیابی کا واحد راستہ ثابت ہوجائے۔

اگلے سال جرمنی،  ہالینڈ، ایران سمیت دس ممالک میں انتخابات ہو رہے ہیں لیکن ماہرین کہتے ہیں دنیا بھر میں جمہوریت کو بھی لاحق خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انتہاپسندی کےلیے اگر پہلے تیسری دنیا بدنام تھی تو اب امریکہ، فرانس اور بھارت جیسے بڑے بڑے بزعم خود جمہوریت کے علمبردار ممالک میں بھی تنگ نظری اور انتہاپسندی بڑھ چکی ہے۔ یہ سلسلہ اگلے سال مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ فریڈم ہاؤس نے بھی اطلاع دی ہے کہ مسلسل چودہ سالوں سے پوری دنیا میں سیاسی حقوق اور شہری آزادیاں سکڑ تی جارہی ہیں۔ برازیل ، ہنگری ، فلپائن ، پولینڈ ،  ترکی  اور بھارت جیسے ممالک میں پاپولسٹ رہنماؤں نے  ایسی پالیسیاں نافذ کیں جن سے جمہوری اداروں کو نقصان پہنچا ہے۔ چین ہانگ کانگ میں بھی احتجاج اور اختلاف کو ںہت مشکل بنا رہا ہے۔ میانمار میں ماضی کی جمپوریت نواز آنگ سان سوچی کی حکومت کی چشم پوشی یا تلویث کی وجہ سے مسلمان اقلیت پر ظلم ڈھائے گئے۔ بیلاروس کے لوگ  انتخابات میں دھاندلی کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ آنے والے امریکی صدر جو بائیڈن نے جمہوری اقدار کی بحالی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ مگر  مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ میں ہی ٹرمپ کی جانب سے انتخابی نتیجہ تسلیم کرنے سے انکار ، بڑے پیمانے پر انتخابی دھوکہ دہی کے جھوٹے دعووں، نتائج تبدیل کرنے کی لامتناہی کوششوں اور مختلف سازشی نظریات پھیلانے سے وہاں جمہوریت، سرکاری نظام اور میڈیا پر عوامی اعتماد کو بڑا دھچکا لگا ہے۔ ایسا نہ ہو جب بائیڈن نے دنیا بھر میں جمہوری اقدار کی بحالی کےلیے آواز اٹھائیں تو ان کو یہ کہا جائے “میاں پہلے اپنے گھر کی خبر لو اور اسے ٹھیک کرو۔”۔

قومی غیرت اور اقتدار اعلٰی

قومی غیرت اور اقتدار اعلٰی

طاہر علی خان

یکم اپریل 2001 کو امریکہ کا ایک جاسوس طیارہ بین الاقوامی سمندری حدود پر پرواز کرتے ہوئے چین کے حینان آئی لینڈ کی حدود میں داخل ہوا تو چین نے اسے اپنے لڑاکا طیاروں کے ذریعے گھیرے میں لے کر اترنے پر مجبور کردیا۔ اس جاسوس جہاز کی ٹکر سے چین کا ایک لڑاکا طیارہ سمندر میں گر کر تباہ اور اس کا پائلٹ مرگیا۔ جہاز اور اس پر موجود عملے کی واپسی پر چین اور امریکہ کے درمیان چپقلش پیدا ہوئ جو کئ مہینے جاری رہی۔

امریکہ کہتا تھا ہمارا جہاز بین القوامی ہوابازی حدود میں محو پرواز تھا جس میں ہر ملک کو جہاز اڑانے کی اجازت ہوتی ہے۔ چین کہتا تھا یہ ہمارے حدود میں اڑ رہا تھا، اس نے ہم سے اجازت نہیں لی تھی اور اس کی ٹکر سے ہمارا جہاز تباہ اور پائلٹ جان سے ہاتھ دھو بیٹھا اب امریکہ اس دخل اندازی پر چین سے معافی مانگے اور جہاز کی تباہی اور پائلٹ کے خون بہا کے طور پر ایک ملین ڈالر ادا کرے۔ امریکہ نے بالآخر دس دن بعد معافی مانگ لی تو اسے اپنے 24 اہلکار مل گئے۔ جہاز کو واپس لے جانے کےلیے گئے ہوئے اس کے پائلٹس کو مگر خالی ہاتھ آنا پڑا۔

چین نے کہا اب یہ جہاز ہماری سرزمین سے نہ خود اڑاکر اور نہ ہی اسے سالم حالت میں کسی دوسرے امریکی جہاز میں لے جایا سکتا ہے بلکہ اب اسے پرزے کرکے لے جانا پڑے گا۔ یوں اس جہاز کے پرزے صندوق میں بند کرکے ایک روسی جہاز میں لے جاکر امریکہ کے حوالے کیے گئے۔ اس کے ساتھ ایک اور کام بھی کیا گیا۔ امریکی اہلکاروں اور جہاز کو لے جانے، رکھنے، اہلکاروں کے کھانے پینے اور جہاز کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے واپس بھیجنے کے سارے اخراجات کی مد میں امریکہ سے 34567.89 ڈالرز بھی وصول کیے گئے۔

کیا آپ سوچ رہے ہیں چین ایک طاقت ور ملک ہے وہ اپنے قومی غیرت کے حوالے سے حساس ہو سکتا ہے اور اپنی مرضی بھی منوا سکتا ہے جبکہ غریب اور کمزور ملک آزادی سے اپنے فیصلے خود کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتے؟ چلیے آپ کو اپنے ملک کی تاریخ سے ہی چند مثالیں دیتے ہیں جب ہمارے سابقہ حکمران طاقت ور ممالک کے سامنے ڈٹے رہے اور انہوں نے آزادی کے ساتھ اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کیے۔

یہ 1962 کی بات ہے۔ جنرل ایوب خان ملک کے سربراہ ہیں۔ چین اور پاکستان کے درمیان رابطے اور گرم جوشی بڑھ رہی ہے۔ امریکہ کو پتہ چلتا ہے تو وہ پاکستان کو اس وقت امریکہ کے دشمن چین سے دور رہنے کا کہتا ہے مگر پاکستان ماننے سے انکار کر دیتا ہے کہ چین سے تعلق اور دوستی اس کے ملکی مفاد کا تقاضاہے اور یہ تعلق کسی دوسرے ملک کے خلاف نہیں ہے۔ یہی امریکہ بعد میں پاکستاں کی منت کرتا ہے کہ وہ چین سے اس کی مذاکرات اور تعلقات قائم کرنے کا ذریعہ بنے۔

1969 یاد آرہا ہے۔ اسلامی کانفرنس تنظیم کا اجلاس مراکش کے دارالحکومت رباط میں ہو رہا ہے۔ ہندوستان کو بھی تب ساٹھ ملین مسلم آبادی کی وجہ سے بطور رکن شرکت کرنے کی دعوت دی جا چکی ہے اور اس کا وفد شرکت کرنے پہنچ چکا ہے۔ یہ سن کر صدر پاکستان جنرل یحیٰی اجلاس میں آنے سے تب تک انکار کردیتے ہیں جب تک ہندوستان کو بطور ممبر اجلاس میں شرکت کی دعوت واپس نہیں لی جاتی۔ اجلاس کا وقت صبح دس بجے مقرر ہے مگر وہ اپنے جائے قیام سے باہر آنے سے منکر ہیں۔ انہیں منانے عرب ملکوں اور ایران کے رہنماء جاتے ہیں مگر ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس کے بعد ہندوستانی وفد کو کانفرنس کو ناکامی سے بچانے کےلیے اپیل کی جاتی ہے کہ آپ مکمل رکن کے بجائے آبزرور کی حیثیت سے شریک ہوں یا اجلاس میں آنے سے اجتناب کریں مگر وہ بھی نہیں مانتے۔ ادھر صدر پاکستان بھی نہیں آرہے۔ کانفرنس ہال میں دوسرے ملکوں کے وفودبیٹھے ہیں پاکستانی صدر کا انتظار کررہے ہیں۔ اجلاس ملتوی ہوتا ہے بالآخر اگلے روز جب صدر پاکستان کی بات مان لی جاتی ہے اور ہندوستانی وفد کو اجلاس میں شرکت کا دعوت نامہ واپس لے لیا جاتا ہے اور اسے اجلاس میں شرکت نہیں کرنے دی جاتی تو صدر پاکستان اجلاس میں پہنچ جاتے ہیں۔

آئیے اب 1974 کی بات کرتے ہیں۔ پاکستان 1973 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد دوبارہ اس قسم کی صورت حال سے بچنے اور عالم اسلام کے اتحاد کو یقینی کےلیے اسلامی کانفرنس کی تنظیم کا اجلاس بلاتا ہے تو امریکہ وزیراعظم بھٹو کو ایسا نہ کرنے کا کہتا ہے اور نہ ماننے کی صورت میں اسے نشان عبرت بنانے کی دھمکی دیتا ہے مگر پاکستان اس کی بات ماننے سے انکار کرلیتا ہے کہ اپنے خارجہ پالیسی کے فیصلے وہ اپنے مفاد کے تحت کرے گا نہ کہ ان کے کہنے پر۔

اور وہ وقت بھی یاد کریں جب پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا تو امریکہ اور دوسرے ملکوں نے اسے “اسلامی بم” بنانے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی، پابندیاں لگائیں، ہمارے حکمرانوں کو دھمکیاں دیں مگر ذوالفقار علی بھٹو مرحوم سے نواز شریف تک سب ڈٹے رہے اور ایٹم بنانے پر کام جاری رہا۔ بعد میں بے نظیر بھٹو مرحومہ کے دور میں بیلسٹک میزائل اور ان کے بنانے کی ٹیکنالوجی بھی حاصل کی گئی اس لیے کہ ایسا کرنا ملک کی سلامتی کےلیے ضروری تھا اور یہی ملک کے مفاد میں تھا۔

1998 کی یاد آرہی ہے جب ہندوستان نے پانچ ایٹمی دھماکے کیے اور پاکستان کو دھمکیاں دینی شروع کردیں۔ اس وقت کی نواز شریف حکومت نے اس پر مذہب، سیاست، سماج اور صحافت سمیت ہر شعبہ زندگی سے منسلک لوگوں سے مشورے شروع کر دیئے کہ کیا کیا جائے۔ اس دوران خفیہ طور پر جوابی ایٹمی دھماکوں کی تیاری بھی جاری رہی۔ دنیا کی طاقت ور انٹلی جنس ایجنسیوں کو شک تھا کہ پاکستان تیاری کررہا ہے لیکن جگہ کا پتہ نہ تھا۔ دنیا کے مختلف ممالک کے رہنماؤں نے پاکستان کو ایٹمی دھماکوں سے روکنے کی کوششیں شروع کردیں، دھمکیوں سے کام نہ چلا تو امریکی صدر نے خود وزیراعظم نواز شریف صاحب کو فون کرکے دھماکے نہ کرنے کے عوض پانچ ارب ڈالرز اور مزید امداد کی پیشکش کی لیکن حکومت نے 28 مئ 1998 کو چھ ایٹمی دھماکے کرکے پاکستان کو مسلم ملکوں کی پہلی ایٹمی طاقت بنادیا۔

2003 میں پاکستان نے عراق کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کی اور جنگ میں حصہ لینے کےلیے اپنی فوج نہ بھیجی۔۔ جنگ کے بعد امریکہ اور برطانیہ پاکستان پردباؤ ڈالتے رہے کہ وہ عراق میں قیام امن میں مدد دینے کےلیے اپنی فوج بھیجے مگر پاکستان سمجھتا تھا کہ عراق میں صورتحال خطرناک تھی اور وہاں فوج بھیجنا نقصان دہ ہوگا۔ یوں پاکستان نے ایک دفعہ پھر اپنے مفاد میں فیصلہ لیا۔

نومبر 2011 میں امریکی فوج نے پاکستان افغانستان سرحد پر سلالہ کےمقام پر ایک کارروائی میں 28 پاکستانی فوجی شہید کردئیے۔ پاکستان نے اس کے نتیجے میں نیٹو سپلائ لائن منقطع کردی۔ پاکستان کا مطالبہ تھا امریکہ اس پر معافی مانگے اور قصورواروں کو سزا دے۔ امریکہ چاہتا تھا اس کے بغیر سپلائ لائن بحال کی جائے۔ وہ پاکستان پر مہینوں دباؤ ڈالتا رہا مگر جب تک جولائی 2012 میں اس نے معافی نہیں مانگی پاکستان نے نیٹو سپلائی لائن بحال نہ کیا۔ اس سے پہلے جب امریکی سیکرٹری دفاع نے کہا کہ ہمارا صبر تمام ہورہا ہے تو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے امریکی وفد سے ملاقات منسوخ کردی تھی۔

2011 ہی میں ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ ہوا۔ اس نے دو پاکستانیوں کو قتل کیا اور پاکستان نے اسے گرفتار کرکے اس پر مقدمہ شروع کیا۔ یہ امریکہ کے بقول ایک سفارتی اہلکار تھا جسےگرفتارکیا جا سکتا تھا نہ اس پر مقدمہ چلایا جاسکتا تھا۔ امریکہ نے پاکستان پر بے انتہا دباؤ ڈالا کہ ریمنڈ ڈیوس کو فوراً رہاکرے مگر پاکستان ڈٹا رہا۔ پاکستان نے ان کے سفارت کاروں کی تعداد اور سرگرمیاں انتہائ محدود کردیں ۔ باالآخر امریکی حکومت نے ان بندوں کے خاندان والوں کو خون بہا دے کر ریمنڈ ڈیوس کو معافی دلوائ اور یوں عدالت میں راضی نامہ پیش کرکے اس کی جان بخشی کروائ۔

آئیے اب 2015 کی طرف آتے ہیں۔ سعودی عرب، یو اے ای اور اس کے دیگر عرب اتحادی یمن میں اس کے بقول ایران نواز ہوثی باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنا چاہتے ہیں۔ اس کےلیے ایک فوجی اتحاد تیار بنایا جارہاہے جس میں پاکستان کو بھی شامل ہونے کی دعوت دی جاتی ہے۔ پاکستان میں نواز شریف کی حکومت ان دو ملکوں کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتی لیکن اس جنگ میں شریک بھی نہیں ہونا چاہتی۔ بالآخر حکومت وہاں فوج نہ بھیجنے کا فیصلہ کرتی ہے کہ پاکستان مزید دوسروں کی ایک غیر ضروری جنگ میں آخر کیوں کودے۔ اس سے یقیناً سعودی عرب اور یو اے ای ناراض ہوئے اور نواز شریف کو اس کا اقامہ کے معاملے پر نقصان بھی ہوا مگر جنگ میں نہ کودنے کا فیصلہ انہوں نے پاکستان کے مفاد میں لے لیا تھا۔

اب ہم 2019 کی بات کرتے ہیں۔ کشمیر میں ہندوستان ظلم و ستم کا بازار گرم کر چکا ہے۔ پاکستان او آئ سی کا اجلاس بلانا چاہتا تھا۔ لیکن سعودی عرب اور یو اے ای نے اس کا ساتھ نہیں دیا۔ الٹا مودی کو ایوارڈز سے نوازا گیا۔ پھر او آئی سی کا اجلاس ہوا جس میں ہندوستان کو بلایا گیا۔ پاکستان نے اس پر احتجاج کیا لیکن “بردران اسلام” نے اس کی بات کو توجہ ہی نہیں دی۔ چنانچہ اس نے اجلاس کا بائیکاٹ کردیا لیکن اسے منانے کسی نے آنے کی زحمت ہی نہیں کی۔

2019 ہی کے ستمبر میں ملائیشیا، ترکی اور پاکستان کے سربراہان نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ مسلم امہ کے مسائل کو کماحقہ کوریج دینے، اسلاموفوبیا کے پروپیگنڈے کا توڑ کرنے اور صحیح اسلامی بیانیہ کی ترویج کےلیے یہ تین ممالک ایک مشترکہ چینل بنائیں گے اور ایک مشترکہ کرنسی بھی لانچ کریں گے۔

ترکی، ملائشیا اور ایران نے کشمیر کے مسئلے پر کھل کر ہمارا ساتھ دیا حتیٰ کہ ملائشیا سے ہندوستان نے اربوں ڈالز کا خوردنی تیل درآمد کرنے کا آرڈر کینسل کردیا۔ اب ہمارے وزیراعظم کی منظوری سے اسی ملائشیا میں مسلم ممالک کا اجلاس بلایاگیا جس میں شرکت کا ہمارے وزیراعظم نے وعدہ کیا۔ اچانک وزیراعظم صاحب سعودی عرب چلے گئے اور وہاں شہزادہ سلمان سے ملے تو وہاں سے ہی خبر آگئ کہ وزیر اعظم صاحب ملائشیا نہیں جائیں گے۔ پاکستانی وزیرخارجہ نے اس پر کہا کہ ملائشیا اجلاس پر عرب ممالک کو تحفظات تھے جبکہ پاکستان امت میں انتشار نہیں چاہتا۔ ترک صدر نے کہا کہ سعودی عرب نے پاکستان کو چالیس لاکھ پاکستانی کارکن سعودیہ عرب سے نکالنے اور سٹیٹ بنک میں رکھی اپنی رکھی گئ رقم واپس لینے کی دھمکی دے کر ملائشیا اجلاس میں جانے سے روکا ہے۔ تاہم پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نے اس تاثر اور بیان کی تردید کی ہے کہ سعودی عرب نے پاکستان کو ڈرا دھمکا کر اجلاس سے روکا ہے۔

اگر واقعی پاکستان کو دھمکی دے کر ملائشیا کے اجلاس میں جانے سے روکا گیا ہے تو سوال یہ ہے ہم نے ان کے کہنے پر کیوں فیصلہ تبدیل کیا اور وہ بھی ان کے خلاف جو کشمیر اور FATF وغیرہ کے معاملے پر اِن کے برعکس ہمارے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔ اور سوال یہ بھی بنتا ہے کہ اب کون ہماری بات پر اعتبار کرے گا یا کشمیر کے مسئلے پر ہمارے ساتھ کھڑا ہونے کےلیے تیار ہوگا؟

اگر کوئ کہے کہ سعودی عرب نے تو نہی روکا لیکن وہاں نہ جانے میں ہی پاکستان کا فائدہ تھا تو پھر وہاں جانے کا وعدہ کیوں کیا گیا۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہمارے فیصلہ کرنے والے دور اندیشی سے عاری ہیں۔ انہوں نے ترکی اور ملائشیا کے ساتھ نئے اتحاد اور پھر اجلاس میں شمولیت کا وعدہ اور فیصلہ اس کے تضمنات پر سوچے بغیر کیا۔ اگر یہ بات ہے تو یہ تو ملک کےمستقبل کےلیے اور بھی خطرناک بات ہے۔

قومی اقتدار اعلیٰ کا تقاضا ہے کہ کوئ بھی ملک اپنے اندرونی اور بیرونی فیصلے اپنی آزاد مرضی سے، بغیر کسی کے دباؤ اور مجبوری کے، اپنے مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے کرے۔

%d bloggers like this: