وزیراعظم کا شکریہ. پس چہ باید کرد

طاہر علی خان

images.jpg

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کل جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

ان کا یہ فیصلہ سراہا جانا چاہئے کہ یہ ملک میں قانون کی بالادستی اور قانون کے سامنے سب کی برابری کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔

میاں محمد نواز شریف اگر چاہتے تو بطور وزیر اعظم آئین پاکستان کے آرٹیکل 148 کے تحت اپنی وزارت عظمیٰ کے دوران ان کو قانونی کارروائی سےحاصل استثنیٰ سے فائدہ اٹھا کر جےآئی ٹی کے سامنے پیشی سے انکار کر سکتے تھے۔ اگر وہ ایسا کرتے تو قانونی طور پر ایسا کرنا غلط نہ ہوتا۔

وزیر اعظم اگر چاہتے تو جےآئی ٹی کو تفتیش کر لینےیا گواہی لینے کے لیے وزیراعظم ہاؤس بھی طلب کر سکتے تھے جس طرح سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے نیب کی تفتیشی ٹیم کے سمن کے جواب میں آئینی استثنیٰ کی بنیاد پر پہلے پیش ہونے سے انکار کیا اور پھر انہیں وزیراعظم ہاؤس طلب کرکے ان کے سوالات کے جوابات دئیے تھے. تاہم انہوں نے یہ

.سہولت بھی نہ لی

ان کے مخالفین کہتے ہیں ان کے پاس سوائے حاضری کے کوئی دوسرا آپشن نہیں تھا کیونکہ ان کے مبینہ کرپشن پر ان سے پوچھ گچھ کی جسنی تھی لیکن وہ بھول جاتے ہیں کہ وزیر اعظم بطورملزم نہیں بلکہ بطور گواہ بلائے گئے تھے.

 

پانامہ لیکس میں اگرچہ ان کا نام براہ راست شامل نہیں تھا تاہم انہوں نے اس معاملے کے منظر عام پر آتے ہی خود کو احتساب کے لیے پیش کر دیا تھا اور ایک کمیشن کے قیام کی پیشکش کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو اس کے لیے خط بھی لکھ دیا تھا لیکن ان کے مخالفین اس وقت ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے رہے اور کافی وقت گزرنے کے بعدجے آئی ٹی کے لیے تیار ہوئے۔ اگر وہ وقت پر اس کے لیے راضی ہوئے ہوتے تو اب تک یہ فیصلہ ہو چکا ہوتا۔ وزیراعظم کی اس طرح قانون کے سامنے خود کو ایک عام شہری کی طرح پیشی کے بعد دوسرے رہنماؤں کو بھی عدالتوں کے سامنے پیشی سے راہ فرار کی عادت اب ترک کر دینی چاہیے.اس کے بعد لازم ہے کہ ان تمام دیگر لوگوں, جن کے نام پانامہ لیکس میں آئے تھے, کے خلاف بھی اسی طرح قانون کو حرکت میں آجانا چاہیے جس طرح کی تیزی وزیراعظم کے خلاف نظر آتی رہی ہے۔وزیراعظم کی اس پیشی کے بعدان دوسرے سیاسی و غیرسیاسی رہنماؤں اور عناصر کو بھی عدالتوںاور تفتیشی اداروں کے سامنے پیش ہو کر اپنی بےگناہی ثابت کر نی چاہیے۔وزیراعظم کےساتھ نہ نرمی ہونی چاہیے نہ خصوصی سختی. تاہم کہا جا سکتا ہے کہ عدالت عظمیٰ کی نگرانی میں جس طرح تفتیش آگے بڑھ رہی ہے اس سے یقین کیا جاسکتا ہے کہ میرٹ اور انصاف کی بنیاد پر ہی انکے مقدمے کا فیصلہ ہو گا نہ کہ عوامی خواہشات اور توقعات کی بنیاد پر۔ اگرچہ عمران خان صاحب سمجھتے تھے وزیراعظم اگر استعفیٰ نہیں دیتے تو ان کے ماتحتوں پر مشتمل جےآئی ٹی ان سے صحیح تفتیش نہیں کر سکے گی لیکن جس طرح تفتیش کار کسی کے عہدے اور مالی و سماجی رتبے سے قطع نظر اپنا کام کر رہے ہیں حقیقت یہ ہے ان کی بات غلط ثابت ہو گئی ہے ۔تاہم وزیراعظم اور ان کے خاندان کو یاد رکھنا چاہیے کہ وہ، جے آئی ٹی کو یا اس کے کام کو متنازعہ بنا کر وہ کوئی فائدہ حاصل تو کیا کریں گے الٹا اپنا بھی نقصان کریں گے اورملک میں جمہوریت اور آئین و قانون کی بالادستی کو بھی خطرے سے دوچار کر دیں گے۔اس کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے ترجمانوں اور رہنماؤںو کارکنوں کی زبانوں اورجذبات کو لگام دیں۔

 

%d bloggers like this: